Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

ظہور امام مہدی علیہ السلام کا وقت قریب آئے گا

اسلامی علوم کے مطابق حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہوربا مسعود آخر زمانے میں اس وقت ہوگا جب مسلمان مشکل ترین دور سے گزر رہے ہوں گے اور حجاز میں ایک مسلم حکمران ، خلیفہ یا امیر کی وفات ہوگی اور مسئلہ جانشینی پر تنازعہ ہو گا تو امام مہدی علیہ السلام مسلمانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے اللہ کی مشیت سے ظہور فرمائیں گے جبکہ مسلمان بڑی تعداد اور مال وسائل کے باوجود بہت کمزور اور بے یا ر و مددگار ہوں گے ۔ اس وقت اسلامی تعلیمات غیر اہم اور بس رسم حد تک رہ جائیں گی۔ حق گو اور حق پرست علماء ربانیین یا تو رخصت ہوجائیں گے یا غیر اہم ہوکر کنارہ کش ہو جائیں گے ۔ علماء سو کی کثرت ہوگی اور علم سے عاری، بے سند و نام نہاد علماء لیکچرز اور خطبے دیں گے ، وہ خود بہ گمراہ ہوں گے اور مسلمانوں کو بھی گمراہ کریں گے۔
اخلاقی قدریں کو نظر حقارت سے دیکھا جائے گا ، حرام و حلال اہمیت ختم ہوجائے گی ۔ مال و دولت اور نمود و نمائش کی زندگی اہم ترین اور مقصد حیات بن جائے گی۔ فحاشیت، عریانیت، بے حیائی ، بے ہودگی، ناشائستگی اور غیر معقول باتیں انتہائی فخر سے کی جائیں گی اور ان کو قطعاً برا نہ سمجھا جائے گا۔ امام مہدیؑ کی قیادت میں مسلم امت کی نشاۃ ثانیہ ہوگی اور یہ بام عروج کو پہنچے گی۔امام مہدیؑ کے ظہور پر یقین رکھنا سنی شیعہ اور دیگر فرقوں کی تعلیمات میں لازمی اور متفق علیہ امر ہے۔ اگرچہ تفصیلات پر اختلاف آرا ہیں، تاہم امام مہدیؑ کے ظہور و امید، انصاف اور اسلامی اقدار کی بحالی کی علامت اور دوبارہ خلافت مسلمہ کے قیام کی نظر سے دیکھا جا تا ہے،جو دنیا میں ظلم و ستم اور فساد سے نجات دلا کر مسلمانوں کو دوبارہ متحد کریں گے ۔امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے وقت کعبہ میں، صیہونی طاقتیں ان کی مخالفت کرنے کی کوشش کریں گی۔ آپ کے ظہور مبارک کی خبر پر مغرب یورپی صیہونی زیر اثر حکومتیں پریشان ہو کر حلب سے عرب قائد سفیانی نامی کمانڈر و امام مہدیؑ کی گرفتاری کے لئے فوج بھیجنے کا کہیں گی جو وہ مدینہ کی طرف روانہ کرے گا۔ لیکن وہ فوجی دستہ دمشق اور مدینہ کے درمیان واقع مقام بیدا سے گزرتے ہوئے زمین میں دھنس جائے گا۔ اس کو امام مہدیؑ کا معجزہ سمجھ کر مسلمان گروہ در گروہ امام مہدیؑ کی حمایت میں دنیا بھر سے نکلیں گے۔
صیہونی یورپی فوجی دستے کے زمین میں دھنس جانے کی خبر سن کر یورپی صہیونی نواز حکومتیں غصہ میں پاگل ہو جائیں گی اور یورپ کی حامی صیہونی قوتوں کے ساتھ مل کر امام مہدیؑ پر حملہ کرنے کے لیے کئی جھنڈوں کے تحت نکل پڑ یں گی ۔ امام مہدی علیہ السلام بہ مکہ سے مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت محمد ﷺ کے ہاں حاضری و سلام کے بعد شام کا سفر کریں گے اور دمشق کے قریب غوطہ نام علاقہ میں یورپی فوجوں کا سامنا کریں گے جہاں تین دن کی بہت خوفناک جنگ ہوگی جسے آرمیگاڈنکہا جاتا ہے۔ اللہ کی قدرت سے مخالفین کو شکست فاش ہوگی اور تیسرے دن وہ شکست تسلیم کرکے ہتھیار ڈال دیں گے اور بھاگ جائیں گے۔ امام مہدیؑ معجزانہ طور پر فتح یاب ہوں گے اور پھر مسلم خلافت کو دوبارہ قائم کریں گے۔
امام مہدی ؑ کے ظہور کا عقیدہ اسلامی تعلیمات میں ان چند عقائد میں سے ایک ہے جس پر تقریباً تمام مسلمان، اپنے فرقہ وارانہ اختلافات کے باوجود، متفق ہیں۔ حالانکہ سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان ان کی شخصیت اور ظہور کے بارے میں اختلافات ہیں، لیکن دونوں اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ امام مہدیؑ ایک خدائی رہنما کے طور پر ظہور فرمائیں گے جو مسلم امت کو اتحاد اور فتح کی طرف لے جائیں گے اور خلافت قائم کرکے دنیا میں انصاف کو بحال کریں گے۔سنی مسلمانوں کے نزدیک، امام مہدیؑ کو ایک صالح رہنما اور خلیفہ آخری زمانے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو حضرت محمد ﷺکے نسب سے ہوں گے اور ان کا نام محمد ہوگا، جنہیں امام مہدیؑ کہا جائے گا۔ وہ خاص طور پر مشکلات کے وقت مسلمانوں کی قیادت کے لئے آخری زمانے میں ظاہر ہوں گے ۔ دوسری طرف، شیعہ روایت کے مطابق، امام مہدیؑ بارہویں اور آخری امام ہیں جو فی الحال پردئہ غیب میں ہیں اور وہ ایک خاص وقت پر ظہور فرمائیں گے۔
(جار ی ہے)

یہ بھی پڑھیں