(گزشتہ سے پیوستہ)
امام مہدیؑ کے ظہور کے متعلق پیشین گوئیاں عام طور پر ایک ایسے وقت کی نشاندہی کرتی ہیں جب مسلمانوں میں اخلاقی گراوٹ کا گراف بالکل نیچے آگیا ہوگا اور ان کے یہاں وسیع پیمانے پر اختلاف وانتشار ہوگا۔ باوجود اس کے کہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہوگی اور وہ دولت مند ہوں گے، لیکن مسلمان اندرونی تقسیم و تفرقہ اور حقیقی اسلامی اصولوں سے دور ہونے کے سبب کمزور ہوں گے۔ ایسے وقت میں امام مہدی ؑ ایک نجات دہندہ کے طور پر ظہور فرمائیں گے، تمام مسلمانوں کو متحد کریں گے اور انہیں دنیا میں سیاسی ، اخلاقی اور روحانی قیادت کا مقام واپس دلائیں گے۔امام مہدیؑ کا کردار محض ایک فوجی یا سیاسی رہنما کا نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک روحانی رہنما ہوں گے جنہیں سیاسی اور فوجی تمام اختیار حاصل ہوں گے، تاکہ وہ مسلم امت کی رہنمائی، اور قیادت کر سکیں۔ ان کی حکمرانی انصاف، امن، کے قیام اور ظلم کے خاتمے سے عبارت ہوگی ، جو اسلام کے بنیادی اقدار کے عین مطابق ہوگی۔ ان کی قیادت میں دنیا ایک بے مثال محبت و ہم آہنگی کا مشاہدہ کرے گی، جہاں برابری اور مساوات و انصاف کے اصول کا بول بالا ہوگا ۔ اس طور پر مسلمانوں کے لئے امام مہدی ؑکا ظہور مشکل اور مایوسی کے وقت میں بہت بڑی خوشخبری اور رحمت ثابت ہوگا ۔تاہم امام مہدیؑ کے ظہور کے تقریبا دو سال بعد، مسلمان اور دیگر لوگ ایک بڑی آزمائش سے گزریں گے ، جب دجال، جو دجل و فریب اور چرب زبانی کے ساتھ جھوٹ اوردروغ گوئی کا ماہر ہوگا، ظاہر ہوگا۔ دجال جوٹھا دعویٰ کرے گا کہ وہ مسیحا ہے۔
روایات کے مطابق، صیہونی یہودی اور صہیونی عیسائی گروپوں کے ساتھ بہت سے مسلمان بھی دجال کو قبول کرلیں گے۔ دجال مکہ اور مدینہ کے علاوہ دنیا پر حکمرانی کرے گا۔ وہ چالیس دن تک رہے گا اور جھوٹے معجزات کے ساتھ فریب کا ماحول پیدا کرے گا۔ چالیسیویں دن وہ دمشق میں امام مہدی ؑپر حملہ کرنے کے لئے اپنی ستر ہزار فوج کے ساتھ جائے گا۔ تاہم، اس کے حملے سے پہلے، حضرت عیسی ابن مریم ؑآسمان سے دمشق کی جامع مسجد کے سفید مینار پر نازل ہوں گے، جہاں امام مہدی ؑحضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام کا استقبال کریں گے اور نماز کے بعد وہ مسجد سے باہر نکلیں گے۔ جب دجال حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھے گا تو وہ خوف سے پانی میں نمک کی طرح پگھلنا شروع ہوجائے گا۔ اسے پتا ہوگا کہ یہ اس کے فریب کا آخری دن ہے۔ وہ بھاگنے کی کوشش کرے گا لیکن حضرت عیسیؑ اور امام مہدیؑ اپنے پیروکاروں کے ساتھ اس کا تعاقب کریں گے۔ آخر کار، لد کے دروازے پر، حضرت عیسیؑ کے ایک وار سے دجال کا خاتمہ ہو جائے گا، اور اس کے بیشتر پیروکار بھاگ جائیں گے جبکہ کچھ حضرت عیسیؑ اور امام مہدی ؑ کو قبول کر لیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیؑ اور امام مہدیؑ اکٹھے سفر کریں گے اور زمین پر اللہ کی بادشاہت کو قائم کریں گے۔ سچا ایمان، انصاف، محبت، امن اور خوشحالی واپس آئیں گے اور آسمان کے نیچے ہر شخص خوشحال اور خوش ہوگا۔
احادیث کے مطابق، امام مہدیؑ چند سال بعد اس دنیا سے رخصت ہوں گے اور حضرت عیسی علیہ السلام قیامت کے قریب تک حکومت کریں گے۔ یاجوج ماجوج کے ظہور کے بعد، حضرت عیسیؑبھی اس دنیا سے رخصت ہوں گے اور حضرت محمد ﷺکے پہلو میں دفن ہوں گے۔ اور اس کے آخری علامات جن میں عبہ شریف ا جیجہا نام حبش لیڈر کے ہاتھوں انہدام ہوگا اور جیجھا خزانے لوٹ لے گا۔ دآب الارض ای بہت بڑا جانور ظاہر ہوگا اسکے بعد اللہ کے حم سے حضرت اسرافیل صور پھونکیں گیں اور سب مخلوقات رہ ارض سے ایک ہلکی ہوا چلنے سے مر جائے گی اور اس طرح دنیا اختتام و خدائی رحمت اور امر سے پہنچے گی۔اور باقی مخلوقات کی موت حتیٰ کہ فرشتوں کی موت ہوگی۔ اور اللہ کے سوا کوئی زندہ باقی نہ بچے گا۔ اللہ ہی حقیقت ازل خالق و مالی اور اول و آخر ہیں۔ اللہ کے حم سے ہی پھر فرشتے اٹھیں گے اور صور پھونکا جائے گا اور یوم حساب قائم ہوگا۔ اور حقیقی ابدی زندگی شروع ہوگی۔ جہان موت کی موت ہوجائے گی اور ابدی ہمیشہ کی زندگی ہوگی۔ جہاں جنتیوں کو نہ بیماری ہوگی نہ کمزوری نہ بڑھاپا نہ کوئی فکر نہ غم،عیش ہی عیش ہوگی۔ اہل جنت بس اللہ حمد و تسبیح اور عیش راحت کے نئے سے نئے مزوں سے اور نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ وہاں کسی کی داڑھی نہیں ہوگی نہ نماز و عبادت کا حکم، اللہ کی رحمت اور عنایت سے سب اہل ایمان اہل جنت سے ہوں گے۔ جن کو دنیا میں اعمال و عبادات کے مطابق جنت کے درجات اور مقامات ملیں گے۔ ہمیں اللہ سے 1پوری امید ہے کہ اللہ کی رحمت سے اللہ پر ایمان کے صدقے جنت کی ابدی زندگی کا لطف و انعام ملے گا۔ ان شا اللہ۔