ٹرائل اوپن ہو گا یا ان کیمرہ؟اڈیالہ سے اچھی خبریں نہیں آ رہیں۔بانی پی ٹی آئی کا جب سے سہولت کاری نیٹ ورک پکڑا گیا ہے،بانی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید،بانی پی ٹی آئی کا بہت بڑا سہارا تھے۔تاہم جب سے گرفتار ہوئے ہیں اور فوج کی زیر حراست ہیں،بانی کی پریشانی قابل دید ہے۔انہیں اندازہ ہو گیا ہے جنرل فیض کے بعد اب ان کی باری ہے۔عمران خان کو خدشہ ہے اور یہ فکر لاحق ہے کہ جنرل فیض کو اگر 9 مئی کے کیس میں وعدہ گواہ بنا لیا جاتا ہے تو انہیں بھی فوجی عدالت میں گھیسٹ لیا جائے گا جہاں سے ان کا بچنا مشکل ہے۔22 اگست کو پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے اسلام آباد میں ترنول کے مقام پر جس عوامی جلسے کا اعلان کیا تھا،عین جلسے والے دن چیئرمین بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کر کے یہ کہہ کر سب کو حیرت میں ڈال دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر اب ترنول جلسہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔اب یہ جلسہ ترنول میں ہی 8 ستمبر کو ہو گا۔جلسہ ملتوی کرنے کی کیا وجوہات ہوئیں؟ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور تو پورے لاو لشکر اور سرکاری پروٹوکول کے ساتھ پشاور سے نکل پڑے تھے۔ان کا قافلہ مسلسل اسلام آباد کی طرف بڑھ رہا تھا۔پھر ایسا کیا ہوا؟ کہ بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی کو صبح 7 بجے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جانا پڑا۔جیل کے دروازے معمول سے ہٹ کر اس غیر معمولی ملاقات کے لیئے کھول دیئے گئے جہاں ایک بیرک میں مقید بانی پی ٹی آئی سے بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی کی ملاقات ہوئی جس کا اہتمام جیل انتظامیہ نے کر رکھا تھا۔نجی ٹی وی چینلز نے جیسے ہی معمول کی نشریات روک کر اس ملاقات کی بریکنگ نیوز دی،ہر طرف افواہوں اور چہ میگوئیوں کا بازار گرم ہو گیا۔تمام افواہوں میں اہم نکتہ یہ تھا کہ اس ملاقات کا اہتمام کیا اسٹیبلشمنٹ نے کیا ؟ عام تاثر یہ قائم ہو رہا تھا صبح سات بجے جیل کے مین گیٹ کا کھل جانا،دو افراد کا جیل میں داخل ہونا،ایک ہائی پروفائل کیس کے اہم ملزم سے اس ملاقات کا اس طرح ہونا بہت ہی غیر معمولی تھا۔اس لیئے اڈیالہ کی اس ملاقات کو بہت ہوا ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔تبصرے،تجزیے شروع ہو گئے۔رات ہوئی تو نجی ٹی وی چینلز کے ٹاک شو اس موضوع کا احاطہ کئے ہوئے تھے۔ دو،تین دن بعد افواہوں کی دھند چھٹی تو صورت حال یہ واضح ہوئی کہ بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پیش آمدہ خصوصی حالات کے تناظر میں تھی۔ ملاقات کا اہتمام کرنے والے خیبرپختونخوا کے چیف منسٹر علی امین گنڈا پور تھے۔گنڈا پور نے ہی بانی سے رابطہ کر کے کہا،جس دن ترنول میں جلسہ ہے اس روز مذہبی جماعتیں بھی اسلام آباد میں احتجاج کر رہی ہوں گی۔ترنول جلسے کی صورت میں 9 مئی جیسا بڑا واقعہ پیش آسکتا ہے۔بانی نے سر تسلیم خم کر لیا۔22 اگست کا جلسہ موخر کرنے پر آمادہ ہو گئے۔اس پیش رفت کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے 22 شرائط کے ساتھ 8 ستمبر کو ترنول میں ہی جلسے کی اجازت کے لیے نیا این او سی جاری کر دیا۔عمران خان کا کہنا ہے اب اگر کہوں بھی کہ 8 ستمبر کا جلسہ موخر کر دو تو میری بات بھی نہ مانی جائے۔8 ستمبر کو ترنول میں جلسہ ہر صورت ہونا چاہیے۔8 ستمبر کوکیا ہوتا ہے؟ کتنی تعداد میں لوگ ترنول پہنچتے ہیں؟خیبر پختونخوا سے کتنی تعداد شریک ہوتی ہے۔پنجاب سے تعداد کیا ہو گی؟ ابھی کچھ کہانہیں جا سکتا۔تاہم ایک بات یقینی ہے کہ خیبرپختونخوا سے لوگوں کی کافی تعداد ترنول جلسے میں شرکت کے لیے آئے گی۔پنجاب کے بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہےکیونکہ یہاں پی ٹی آئی شدید اختلافات کا شکار ہے۔حماد اظہر سمیت پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی تنظیمی عہدیدار اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔خالی ہونے والے عہدوں پر ابھی نئی تقرریاں نہیں ہوئیں۔حالات اسی ڈگر پر رہے،تنظیمی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہا تو ترنول شاید پنجاب کے لوگوں سے خالی رہے۔سندھ، بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی چونکہ زیادہ فعال نہیں اس لیے یہاں سے بھی ترنول جلسے میں لوگوں کی شرکت مشکوک ہے۔22 اگست کو ترنول جلسے کی منسوخی کے بعد ایک بڑے نجی ٹی وی چینل کے سینئر رپورٹر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جلے کی منسوخی کے بعد بانی پی ٹی آئی کو بڑا مطمئن اور خوش پایا گیا۔رپورٹر نے اشارتا بتانے کی کوشش کی کہ عمران خان کی شاید کہیں کوئی ڈیل ہو چکی ہے۔رپورٹر نے مزید کہا اڈیالہ میں بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی سے بانی کی ملاقات اسی ڈیل کا نتیجہ تھی۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے خود یہ کہہ کر معاملے سے پردہ اٹھا دیا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ان سے رابطہ ہوا۔جس پر انہوں نے عمران خان کو ترنول جلسے کی برخاستگی کے بارے میں کہا۔بانی پی ٹی آئی نے ان کی بات مان لی،بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی کے ذریعے ترنول جلسہ ملتوی کرنے کا پیغام رہنمائوں اور کارکنوں تک پہنچا دیا۔اس اعلان کے بعد بانی کی بہن علیمہ خان نے جلسے کی منسوخی پر شدید ردعمل کا اظہار کیاپارٹی کی لیڈر شپ پر ناراضگی ظاہر کی۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ پارٹی میں لیڈر شپ کا شدید فقدان ہے۔کوئی کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔خلفشار اور پارٹی میں پیدا ہونے والے انتشار سے خود عمران خان کافی پریشان ہیں۔ملاقات کے لیے آنے والوں سے اپنی اس خفگی کا اظہار کرتےنظر آتے ہیں۔پنجاب کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی پارٹی کے حالات کشیدہ ہیں۔علی امین گنڈا پور نے جب سے شکیل خان کو کابینہ سے فارغ کیا ہے،پارٹی میں علی امین گنڈا پور کے خلاف اور بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔حالات اتنے پیچیدہ ہیں کہ گنڈا پور کو عمران خان کے کچھ معتمد ساتھیوں کو بھی ان کے پارٹی عہدوں سے فارغ کرنا پڑا ہے۔علی امین نے یہ اقدام خود کیا یا اس میں بانی کی مرضی و منشا بھی شامل تھی،تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔بانی کے متعلق ایک بات کہی جا سکتی ہے ہزار مشکلات کے باوجود خان ضد کے پکے ہیں۔کسی صورت اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کے سامنے جھکنے یا ہتھیار ڈالنے کے لیئے تیار نہیں۔اگرچہ کافی پیغام رسانی کی ہے کہ کسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو راضی کرنے میں کامیاب ہو جائیں مگر 9 مئی ان کے گلے پڑ گیا ہے۔لگتا ہے اب کچھ ہو کے رہے گا۔