Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

بلوچستان میں مکتی باہنی کا دوسرا جنم

ملک دشمن قوتوں کا شیطانی منصوبہ ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں بے نقاب ہوا ہے ۔دہشت گردی کے ہتھیار سے ملکی سالمیت پر وار کیا گیا ہے ۔اگرچہ دہشت گردوں نے بلوچستان کی سرزمین پر خون کی ہولی کھیلی ہے لیکن درحقیقت یہ حملے پاکستان کے وجود پر کیے گئے ہیں۔ہر محب وطن پاکستانی بے گناہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی شہادتوں کا درد اپنے دل میں محسوس کررہا ہے۔ دشمن کے عزائم روز روشن کی طرح عیاں ہو چکے ہیں۔ بیک وقت صوبہ بلوچستان میں مختلف مقامات پر آسان اہداف کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے مقاصد سمجھنا مشکل نہیں۔ حملہ آور دہشت گردوں کی ڈوریں سرحد پار سے ہلائی جا رہی ہیں۔ ازلی دشمن بھارت ہر قیمت پر بلوچستان میں نسل پرستی کی آگ بھڑکا کر صوبے میں ترقی اور امن کے امکانات برباد کرنے کے درپے ہے۔ بیک وقت حملوں کے ذریعے دشمن کو کثیر الجہتی مقاصد مطلوب ہیں۔ اول، دہشت گرد اور ان کے غیر ملکی سرپرست دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ بلوچستان ایک غیر محفوظ صوبہ ہے۔ قوم پرست علیحدگی پسندوں کے مقابل صوبے میں حکومت کی عملداری اور گرفت کمزور ہو چکی ہے ۔ دوم، امن و امان کی مخدوش صورتحال کا پرچار کر کے بلوچستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کا راستہ روکا جا رہا ہے۔ سوم، پنجاب سے تعلق رکھنے والے غریب نہتے محنت کشوں کا تسلسل سے خون بہا کر ملک میں لسانی منافرت کی آگ بھڑکانے کے ساتھ ساتھ بین الصوبائی رابطوں کو نقصان پہنچانا مقصود ہے۔ چہارم، پاک چین دو طرفہ تعلقات خصوصا معاشی اشتراک عمل بھارت کے لیے مستقل درد سر ہے۔ خطے میں تذویراتی بالادستی قائم کرنے کے لیے مودی سرکار نے خصوصیت سے سی پیک کو دہشتگردی کا اولین ہدف بنا رکھا ہے۔ پنجم، دہشت گرد حملوں میں نیم فوجی دستوں کے رہائشی علاقوں، ریلوے پلوں، پولیس چوکیوں، ،مسافر بسوں، اور معدنیات کی ترسیل والے ٹرکوں کو نشانہ بنا کر صوبے میں خوف اور بے یقینی کی فضا بنا کرنفسیاتی بالادستی قائم کرنےکی کوشش کی گئی ہے۔ اس ملک دشمن مہم جوئی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی نفسیاتی جنگ کا محاذ بنا دیا گیا ہے۔ یہ امر شک و شبے سے بالا ہے کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کوئی انتظامی یا مقامی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔ کون اس حقیقت سے انکار کر سکتا ہے کہ آج پاکستان کی بقا کے لیے معاشی استحکام کی وہی اہمیت ہے جو سانس لینے والے وجود کے لیے آکسیجن کی ہے۔ ایسے نازک حالات میں سی پیک کو سبوتاژ کرنے کی ہر کاوش دراصل پاکستان کے وجود پر حملہ ہے. موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان دہشت گرد گروہوں کی سرکوبی میں کوتاہی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی دراصل پاکستان کی بقا و سالمیت کا مسئلہ ہے۔ اس پیچیدہ جنگ میں پسپائی کی گنجائش نہیں۔ بھارت سمیت اس کے عالمی اتحادی اور سرپرست بلوچستان میں چین کے تعاون سے پروان چڑھنےوالےممکنہ معاشی استحکام پرتلملارہےہیں ۔ گوادر میں بندرگاہ کی فعالیت اور ایئرپورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز خطے میں چین مخالف قوتوں کی تزویراتی شکست بن سکتی ہے ۔ بلوچستان کی پسماندگی، بے روزگاری، سیاسی عدم استحکام اور پرتشدد نسل پرستانہ دہشت گردی دراصل ملک دشمن قوتوں کے ہاتھ میں وہ ہتھیار ہیں جن کے ذریعے پاکستان کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کے شیطانی منصوبے بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ سیاسی اور مذہبی قیادت سمیت ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے طبقات یہ سمجھ لیں کہ اس وقت پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ بدقسمتی سے نام نہاد بلوچ قوم پرستوں کی آڑ میں عالمی قوتوں کے گماشتے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔ گم شدہ افراد اور ماورائے عدالت قتل کے من گھڑت بیانیے کو ریاست کے خلاف فرد جرم بنانے والے عناصر کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا چاہیے۔ انسانی حقوق کا راگ الاپنے والی شعلہ بیان خاتون بے گناہ پنجابی مزدوروں کے بے رحمانہ قتلِ عام پر خاموش کیوں ہے؟ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں نے ملک دشمن اور ملک دوست طبقات کے درمیان حد فاصل قائم کر دی ہے۔ بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنےوالےنام نہاد قوم پرست دراصل دہشت گردوں کے معاون اور وکیل صفائی ہیں۔ ایک جانب مکتی باہنی کی طرز پر بی ایل اے جیسی تنظیمیں بلوچ نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارتی ہیں تو دوسری جانب انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار بنا ثبوت کے تمام الزام ریاست پر عائد کرکےبیرونی آقاؤں کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہیں۔ پسماندگی تو پنجاب، سندھ اور کے پی میں بھی ہے۔ کیا پسماندگی دہشت گردی کا جواز بن سکتی ہے۔ کوئٹہ سے اسلام اباد اورپھرگوادر میں بلوچ حقوق کا واویلامچانے والی خاتون کا مقصد دراصل دہشت گردوں کے لیے زمین ہموار کرنا تھا۔ اس کام کے لیے سوشل میڈیا کے بلڈوزرز سی پیک ، دفاعی تنصیبات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر چڑھ دوڑے ہیں۔ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ بی ایل اے دراصل بلوچستان میں مکتی باہنی کا دوسرا جنم ہے۔

یہ بھی پڑھیں