Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

والدین کی خدمت اور ان کی دعائوں کا فیض

اسلام میں والدین کے حقوق اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبوی ﷺ میں والدین کی خدمت اور ان کے احترام کے حوالے سے واضح احکام موجود ہیں۔ والدین کی خدمت نہ صرف دنیاوی کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ آخرت میں بھی انسان کے درجات کی بلندی کا سبب بنتی ہے۔والدین کو پیار بھری نظر سے دیکھنا حج مقبول ے برابر ثواب ہے۔ ۔
قرآنی آیات
سورہ بنی اسرائیل (17:23-24) میں اللہ تعالی فرماتا ہے:
وقضیٰ ربک الا تعبدوا ِلا ِیاہ وباِلولِدینِ اِحسنا اِما یبلغن عِندک ا لکِبر احدھما او کِلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھما قولا کرِیما
اور تمہارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہو اور نہ اونچی آواز سے بات کرو۔ بلکہ ان سے نرمی اور احترام سے بات کرو۔
اسی طرح، سورہ لقمان (31:14) میں والدین کے حقوق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ووصیناالاِنسن بِولِدیہِ ﷺ حملثہ امہ وھنا علی وھن وفِصلہ فیِ عامینِ انِ شکر لیِ ولِولِدیک ﷺ اِلی المصِیر
اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے متعلق نصیحت کی، اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری کے ساتھ حمل میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سالوں میں ہے، کہ میرے شکر گزار رہو اور اپنے والدین کے بھی، میری ہی طرف تمہارا لوٹنا ہے۔
احادیث نبوی ﷺ:
نبی کریم ﷺ نے والدین کی خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے والدین کی طرف محبت بھری نظر ڈالے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے حج اور عمرہ کا ثواب لکھتا ہے۔‘‘ (مشکاۃ المصابیح)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی عمر میں برکت ہو اور اس کی رزق میں اضافہ ہو، وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کی خدمت کرے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اویس قرنی کا قصہ:اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی داستان والدین کی خدمت کی عظمت کو بیان کرتی ہے۔ اویس قرنی رضی اللہ عنہ، جو یمن کے باشندے تھے، نبی کریم ﷺ کی نبوت پر ایمان لائے، لیکن اپنی بوڑھی ماں کی خدمت میں مشغول ہونے کی وجہ سے نبی کریم ﷺ سے ملاقات نہ کر سکے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ’’یمن سے ایک شخص آئے گا، جس کا نام اویس ہوگا۔ اس کے پاس برص کے داغ ہوں گے اور وہ اپنی ماں کی خدمت میں مشغول رہے گا۔ اس کی دعائوں میں اللہ تعالیٰ نے بڑی قبولیت رکھی ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)
اسلام نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت کو نہایت اہمیت دی ہے۔ قرآن مجید میں بار بار والدین کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور اولاد کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئیں۔ بڑھاپے کی عمر میں والدین کی خدمت کا درجہ مزید بڑھ جاتا ہے، کیونکہ اس وقت وہ ہماری زیادہ محبت اور توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور یہاں تک فرمایا ہے کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کہو اور ان کے لیے نرمی کا بازو جھکا دو۔ یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ والدین کے ساتھ ادب اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں۔نبی کریم ﷺ نے بھی والدین کی خدمت کو جنت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے والدین کے بڑھاپے کو پائے اور ان کی خدمت نہ کرے اور جنت میں داخل نہ ہو، اس کا نقصان بہت بڑا ہے۔
اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کی دعائوں کا فیض دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔آج کے دور میں جہاں والدین اور اولاد کے درمیان دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں، ہمیں ان قرآنی تعلیمات اور احادیث پر غور کرنا چاہیے اور اپنے والدین کے حقوق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی خدمت اور دعائوں کا طلب گار بنیں، کیونکہ والدین کی رضا میں ہی اللہ کی رضا ہے اور ان کی ناراضگی اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔والدین کی خدمت کرنے والا شخص دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اللہ کی رضا کا مستحق بنتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے والدین کی قدر کرنی چاہیے اور ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا چاہیے۔والدین دعائوں سے مستفید ہونا اور ان کو خوش رکھنا دین و دنیا کے سعادت اور کامیابی ہے۔

یہ بھی پڑھیں