Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

اللہ کی رحمت کی بے انتہا وسعت

قرآن و احادیث تعلیمات کے مطابق ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور مغفرتوںسے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت پر امید رکھنا واجب ہے۔ اللہ ہی کے اختیار اور طاقت میں سب کچھ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اے میرے بندے، اگر تیرے قریب ترین لوگ تجھے چھوڑ دیں اور نیک لوگ تجھے غلط سمجھیں، میں کبھی تجھے نہیں چھوڑوں گا اور نہ ہی تجھے بھولوں گا، لہٰذا مایوس نہ ہو چاہے کچھ بھی ہو۔‘‘
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے، ورحمتی وسعت کل شی ۔اور میری رحمت ہر چیز پر محیط ہے۔ (سورہ الاعراف، آیت 156)
مزید برآں، اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بارے میں یوں فرمایا ہے:
تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دیا ہے کہ جو شخص تم میں سے برائی کرے جہالت سے، پھر توبہ کرے اس کے بعد اور اصلاح کرے تو وہ غفور الرحیم ہے(سورہ الانعام، آیت 54)
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے اور جو شخص بھی اخلاص کے ساتھ توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے۔(سورہ غافر آیت7)
جو لوگ( فرشتے)عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں، رحمت اور علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہیں، پس جو لوگ توبہ کرتے ہیں اور تیرے راستے پر چلتے ہیں ان کو بخش دے اور ان کی حفاظت فرما۔ جہنم کے عذاب سے۔اس آیہ کریمہ کے مطابق وہ فرشتے جو عرش عظیم کو تھامے ہوئے ہیں اور اس کے ارد گرد ہیں وہ ہمارے لئے دعا گو ہیں اور اللہ سے ہمارے لئے رحمتوں اور مغفرتوں کی دعائیں مانگتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی رحمت وسیع اور عظیم ے مطابق ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 3029)
ایک اور حدیث میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم!جب تک تم مجھے پکارتے رہو گے’’ اور مجھ سے امید رکھتے رہو گے، میں تمہارے گناہوں کو معاف کرتا رہوں گا‘‘ اور مجھے اس کی پرواہ نہیں۔‘‘ ( ترمذی، حدیث نمبر 3540)
یہ احادیث اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش ہر حال میں اس کے بندوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا اور وہ ہمیشہ اپنے بندوں کو معاف کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔اللہ کی رحمت کی کوئی انتہا نہیں۔
اللہ کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، یہاں تک کہ موت کے وقت تک۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور انہیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لیتا ہے۔
سبحانک، یا رب،کتنا،مہربان ہے تو
حدیث قدسی ،؛حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے: جب کوئی بندہ کہتا ہے: یا ربِ اغفرلی، فانہ لا یغفر الذنوب الا انت( اے میرے رب! مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرنے والا) تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے، میرے اس بندے نے یہ یقین کر لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہوں کو معاف کرتا ہے (جبکہ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں) میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا۔ ’’دوسری حدیث میں یہ بھی ہے۔ کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2749)
یہ حدیث اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بندہ اللہ کی مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت کے سبب اس کی دعائوں کو قبول کرتا ہے اور اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور بخشش کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اے میرے بندے، اگر تیرے قریب ترین لوگ تجھے چھوڑ دیں اور نیک لوگ تجھے غلط سمجھیں، میں کبھی تجھے نہیں چھوڑوں گا اور نہ ہی تجھے بھولوں گا، لہٰذا مایوس نہ ہو چاہے کچھ بھی ہو۔‘‘
ایک نیک عالم شیخ ایک دن نماز کے لئے نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک گنہگار شخص کا جنازہ مسجد کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں وہ اکثر نماز پڑھا کرتا تھا۔ شیخ نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جنازے میں شرکت نہیں کرے گا کیونکہ وہ ایک گہنگار آدمی کا جنازہ تھا۔ اور شیخ دوسری مسجد میں چلا گیا۔
اس رات، جب شیخ سویا تو اس نے ہاتفِ غیبی (آسمانی آواز) سنی۔ قادرِ مطلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’اگر تمہارے اختیار میں ہوتا تو تم ،رب کی رحمت کے خزانے روک لیتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے اس شخص کو معاف کر دیا، تمہاری اس کے متعلق بد گمانی کے باوجود۔‘‘
اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر وقت اور ہر حال میں اپنے بندوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کی رحمت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور بھی دوسروں کے متعلق بد گمانی نہیں کرنی چاہئے۔
سبحانک،یارب کتنا مہربان ہے تو

یہ بھی پڑھیں