Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

دہشت گردی کا جن قابو کیجئے

پاکستان میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ یہاں دہشت گردوں کی کمر توڑ دینے کے دعوے غلط تھے، افسوس صد افسوس دہشت گرد آج بھی پاکستان کے بعض علاقوں میں پوری شدت کے ساتھ اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں،27 اگست، کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لسانیت کی بنیاد پر درجنوں بیگناہوں کاخون بہایا گیا، موسی خیل میں غیر ملکی اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے مسافروں کو بسوں سے اتار کر شناخت کے بعد گولیوں سے بھون دیا۔اس دوران ایسے کئی مناظر دیکھنے میں آئے جب بچوں کے سامنے ان کے باپ کو اس لئے قتل کیا گیا کیونکہ ان کا فرقہ، علاقہ اور زبان وہ نہیں تھی، جو دہشت گردوں کی تھی۔انتہا پسندی کے ایسے واقعات کوئٹہ،سبی، قلات، پنجگور، تربت، مستونگ، بیلہ اور گوادر میں بھی رونما ہوئے، جن میں شہری اور سیکیورٹی ادارے کے جوان شہید ہوئے اور کئی دہشت گرد بھی مارے گئے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے ان تمام واقعات کی ذمہ داری بھارت کی زیر اثر کالعدم علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی،ایل،اے)نے قبول کر لی ہے۔
پاکستان دشمن قوتوں کا ایجنڈا بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنا ہے،بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اس حوالے سے پوری طرح متحرک ہے ،پاکستان کی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ دہلی کو سخت پیغام دیتی کہ وہ بلوچستان میں مداخلت سے باز آجائے،پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کواس بھارتی دہشت گردی کے خلاف عالمی فورم پر بھی بھرپور آواز اٹھانی چاہئے تھی،مگر گھر کی لڑائیوں سے فرصت ملے تو امید ہے کہ ایسا ممکن ہوسکے،بلو چستان میں دہشت گردی کے بدترین واقعات اس بات کی غمازی کر رہے ہیں،بلوچ علیحدگی پسند قومی بیانیے کی دھجیاں اڑا چکے ہیں،میرے نزدیک انسانوں کی گمشدگی ،یعنی لاپتہ افراد، سنگین ترین انسانی مسئلہ ہے ، لیکن لاپتہ افراد کی آڑ میں بے گناہ انسانوں کا خون بہانا اس سے بھی سنگین ترین انسانی مسئلہ ہے ،جن غریب مزدوروں کو بسوں سے اتار کر ان کے شناختی کارڈ چیک کرکے قتل کیا گیا ،انہوں نے ماہ رنگ سمیت کسی علیحدگی پسند کے رشتے دار کو تو نہ اغوا کیا تھا اور نہ لاپتہ ،
دہشت گردی کا نشانہ بننے والے بے گناہ انسانوں کے قتل کی مذمت کرنا بھی انسانی ہمدردی کے زمرے میں ہی آتا ہے، مگر مجھے حیرت ہے ان پر کہ جو یہ بولتے اور لکھتے رہے کہ تم نے ماہ رنگ کے باپ کے لاپتہ ہونے کی کب مذمت کی تھی جو وہ کرتی؟ صحافت کے اس افلاطون سے میرا سوال ہے کہ کیا اس قسم کی باتیں کرنے اور لکھنے سے بلوچستان میں متحرک دہشت گرد قوتوں کی حوصلہ افزائی تو نہیں ہوتی؟
میڈیا کے افلاطوں ہوں، سیاست کے افلاطوں ہوں یا اسٹیبشلمنٹی، افلاطون، ان سب سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان پر رحم کریں، اپنی ’’انا‘‘ اور ’’روٹیوں‘‘ کی خاطر نفرتوں کو بڑھاوا مت دیں، بلوچستان پاکستان کا دل تھا ہے اور رہے گا۔
حب،ساکران، بیلہ، لسبیلہ، خضدار، مستونگ، قلات، سبی، کوئٹہ، پنجگور، تربت گوادر سمیت بلوچستان کا ہر شہر، ہر گائوں اور ہر قصبہ ہمارا ہے، وہاں کے کالجز، یونیورسٹیاں، سکولز، دینی مدارس، مساجد، سب ہماری ہیں، وہاں بسنے والے لوگ بلوچ، پٹھان، سندھی، پنجابی، بروہی، سرائیگی و دیگر قومیتوں سے وابستہ لوگ بھی ہمارے ہیں جس طرح بلوچستان کے ہر فرد کا بلوچستان سمیت پورے ملک میں ایک حق ہے، اسی طرح ہر پاکستانی کا بلوچستان اور اس کے عوام سے محبت کرنا اس کا حق ہے، دہشت گردوں کو کنٹرول نہ کرنا یقینا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ناکامی ہے، لیکن میرے سمیت ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ لسانیت اور قومیت کے بتوں کو پاش پاش کرکے صرف ’’پاکستانیت‘‘ کو پروان چڑھائے، بھارت اور ایران کی کوشش ہے کہ پاکستانی قوم کو لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر دیا جائے۔ انہیں گلی، گلی، شہر، شہر فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر آپس میں لڑوایا جائے، لیکن پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمن کی ہر چال کو اس پر الٹ دے۔
بلوچستان کے مسائل حل کرنا، وہاں کے عوام کو حقوق فراہم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، افسوس کی بات یہ ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا، سچی بات ہے کہ یہ ملک کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’’یہ اسمبلی ہماری بات نہیں سنتی، اس اسمبلی میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں، 65ہزار ووٹرز مجھ سے ناراض ہوں گے۔ میں ان سے معافی مانگتا ہوں، میں اپنے لوگوں کے لئے کچھ نہیں کر سکا‘‘ اس سیاست سے بہتر ہے کہ پکوڑوں کی دوکان کھول لوں، بلوچستان آپ کے ہاتھ سے نکل رہا ہے، بلکہ نکل چکا ہے، اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی بلوچستان کے معاملے پر کوئی دلچسپی نہیں، سردار اختر مینگل کا استعفیٰ بلوچستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اختر مینگل کے والد عطاء اللہ مینگل بھی بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں، ان سے بڑھ کر کون جان سکتا ہے کہ موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں، پکوڑوں کی دوکان کھولنا بھی کوئی طعنے کی بات نہیں ہے، لیکن سردار اختر مینگل پکوڑوں کی دوکان کیسے سنبھال پائیں گے، ساری عمر سیاست کرنے کے بعد جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونا، کسی اور کی نہیں اپنی ہی ناکامی ہے۔
وفاق کو اختر مینگل کی اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ’’بلوچستان ہاتھ سے نکل چکا ہے‘‘ اللہ نہ کرے ایسا ہو، لیکن اگر ایسا ہی ہے تو پھر بلوچستان کے زخموں کا مدوا کرنے کی ضرورت ہے، دہشت گرد ہوں یا انسانوں کو لاپتہ کرنے والے قانون کے رکھوالے، دونوں اگر ایک دوسرے کی ضد میں بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے درپہ رہے تو یہ نقصان ملک و قوم کا ہوگا، پنجابیوں کو قتل کرنے والے کسی قیمت پر بھی بلوچستان کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ، بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو اس وقت اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے، دہشت گردی کا مقابلہ بھی متحد ہو کر ہی کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں