Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

6ستمبر 1965، پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب

6 ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار واقعہ ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ قوم کی استقامت اور عزم کو بھی ثابت کیااور قوم کے جذبے اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ دن پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور قومی عزم کی علامت ہے۔6 ستمبر 1965 ء کو شروع ہونے والی جنگ کا بنیادی سبب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازعہ تھا۔ تقسیم کے وقت کشمیر ایک متنازعہ ریاست تھی جس پر دونوں ممالک دعوی کرتے تھے۔ 1947ء کی تقسیم کے فورا بعد، کشمیری مہاجرین اور مقامی عوام نے بھارت کے ساتھ شامل ہونے کا انتخاب کیا، حالانکہ کشمیر کی اکثریت مسلمان تھی۔ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے قابل قبول نہیں تھا اور اس نے بھارت کے ساتھ متنازعہ علاقے پر جنگ کی راہ اختیار کی۔6ستمبر 1965ء کی جنگ میں کئی اہم محاذوں پر جھڑپیں ہوئی، لیکن سب سے مشہور اور یادگار جھڑپیں لاہور کے محاذ پر ہوئی۔ بھارت نے پاکستان میں لاہور کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی، لیکن پاکستانی فوج نے اپنی مضبوط دفاعی پوزیشن کی مدد سے بھارتی حملے کو ناکام بنایا۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرت مندانہ جذبے نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا۔
پاکستان پر1965 میں ہندوستان کی طرف سے حملہ ہونا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے پاکستانی قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہاے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیاستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 6ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آنا فانا ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے قوم سے ایمان فروزخطاب کی وجہ سے ملکاللہ اکبراورپاکستان زندہ آباد کے نعروں سے گونج اٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملیپاکستانیو!اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انھیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔چونڈہ کے سیکٹر جو کہ ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھاکو پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستان فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ دشمن ٹینکوں کی ایک بہت بڑی تعداد لے کر پاکستانی قوم نے وہ سبق سکھایا کہ اس کی آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔اس جنگ میں پاکستانی فوج کی کارکردگی قابلِ ستائش رہی۔ پاکستانی فوج نے اپنی شجاعت، عزم، اور مضبوط دفاعی حکمت عملی کی مدد سے بھارتی فوج کے حملوں کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔ 6 ستمبر 1965ء کی جنگ نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔اس جنگ کے بعد، پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی کو مضبوط کرنے اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی کوششیں کیں۔ اس جنگ نے پاکستان کی قوم میں اتحاد اور قومی جذبے کو فروغ دیا۔ پاکستانی عوام نے فوج کی قربانیوں اور جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا عزم کیااورپاکستان نے اپنے دفاعی وسائل میں اضافہ کیا اور فوجی تربیت کو بہتر بنایا۔ اس کے علاوہ، جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معا شی ترقی کے منصوبے شروع کیے گئے۔آج بھی 6ستمبر پاکستان میں یوم دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہر سال پاکستانی قوم کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ملک کی آزادی اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا ہوگا۔ یوم دفاع کی تقریبات اور یادگاری تقریبات قومی جذبے اور فخر کو اجاگر کرتی ہیں اور جوانوں کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں۔ان میں عام طور پر فوجی پریڈ، یادگاری تقاریب، اور خصوصی پروگرام شامل ہوتے ہیں۔ ان تقریبات کے ذریعے قوم اپنے فوجیوں کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس بات کا عزم کرتی ہے کہ ملک کی سلامتی کے لیے ہمیشہ تیار رہے گی۔آج کے دور میں، 6 ستمبر 1965 ء کی جنگ کی یادیں اور اس کے اثرات پاکستان کی قومی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قومی اتحاد، عزم، اور بہادری سے ہم بڑی سے بڑی مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔پاکستان کی دفاعی حکمت عملی اور فوجی صلاحیتوں میں ہونے والی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ 6 ستمبر 1965ء کی جنگ نے پاکستانی قوم کو مضبوط اور متحد کیا۔ اس جنگ نے ہمیں یہ سبق سکھایا کہ دشمن کی ہر سازش کا جواب بہادری اور استقامت سے دیا جا سکتا ہے۔یہ جنگ پاکستان کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے، جو ہماری فوج کی بہادری، قوم کی استقامت اور ملک کی خودمختاری کی علامت ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ قوم میں اتحاد اور قومی جذبے کو بھی فروغ دیا۔ اس جنگ کی یادیں آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں اور ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ مشکلات کے باوجود، اتحاد اور عزم سے ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں