۱۹۶۵ء میں بھارت نے پاکستان کی مختلف سرحدوں پر یلغار کر دی تھی، بالخصوص لاہور اور سیالکوٹ ان کا ٹارگٹ تھے اور لاہور پر قبضہ کرنے کے لیے چڑھائی کر دی تھی۔ پاکستانی فوج کے جوانوں نے جانیں دے کر اور عوام نے قومی وحدت کا اظہار کرتے ہوئے فوج کی پشت پر کھڑے ہو کر ملک کا دفاع کیا تھا۔ پرانے بزرگوں کو وہ منظر یاد ہوگا، مجھے بھی یاد ہے، میں دیکھ بھی رہا تھا اور اس جنگ میں عملاً دو تین حوالوں سے شریک بھی تھا۔ وطن کا دفاع ہمارا قومی فریضہ اور دینی ذمہ داری ہے اور یہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ دفاع وطن کے حوالے سے آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں میں اس کا تین چار حوالوں سے ذکر کرنا چاہوں گا۔
پہلا دائرہ سرحدوں کا دفاع ہے جسے جغرافیائی دفاع کہا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی سرحدوں کو جو خطرات درپیش چلے آ رہے ہیں اور جو خطرات آئندہ ہو سکتے ہیں ہمیں ان سے باخبر ہونا چاہیے۔ سرحدوں کی حفاظت بنیادی طور پر فوج کی ذمہ داری ہے، اس میں ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم فوج کے پیچھے کھڑے ہوں، وحدت اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں، اپنے جوانوں کو حوصلہ دلائیں، ان کی پشت پناہی کریں۔ اس حوالہ سے جغرافیائی دفاع کے دو پہلوؤں کا ذکر کرنا چاہوں گا جو موجودہ حالات میں ہمیں درپیش ہیں۔
ایک پہلو ہے تکمیلِ پاکستان کا کہ آج سے پون صدی پہلے ایک طویل جدوجہد کے نتیجے میں وطن آزاد ہوا اور پاکستان قائم ہوا تھا، جو سرحدیں اس وقت ہمارے پروگرام میں تھیں وہ آج نہیں ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ کشمیر ہماری سرحدوں میں پورا موجود نہیں ہے حالانکہ کشمیر پاکستان کے تصور کا لازمی حصہ تھا۔ جبکہ یہ کشمیریوں کا حق ہے اور ہمارا اُن سے وعدہ بھی ہے کہ ہم انہیں آزاد کرائیں گے۔ انہوں نے ہم سے یہ وعدہ کیا کہ وہ آزاد ہوں گے تو پاکستان میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان کا نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان اور ہمارا نعرہ ہے کہ کشمیر آزاد ہوگا۔ یہ ہمارا باہمی معاہدہ ہے لیکن یہ منزل ابھی دور ہی نظر آ رہی ہے۔
دوسرا ہمیں یہ پہلو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جو پاکستان ہم نے ۱۹۴۷ء میں قائم کیا تھا، اپنی کوتاہیوں اور بے توجہی کی وجہ سے اس کا ایک حصہ گنوا چکے ہیں۔ مگر جن کوتاہیوں کی وجہ سے ہم ۱۹۷۱ء میں آدھا حصہ گنوا چکے ہیں ہم نے ان سے توبہ نہیں کی۔ مجھے اور آپ کو بڑی سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے کہ ہماری جن حماقتوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا تھا، مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان الگ ہوا تھا اور ہماری فوج سرنڈر کر گئی تھی، وہ ہماری کوتاہیاں کیا تھیں؟ وہ کوتاہیاں مفروضے نہیں ہیں بلکہ حقائق کی صورت میں ریکارڈ پر موجود ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس حمود الرحمٰن کی سربراہی میں کمیشن قائم ہوا تھا، انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب لکھے تھے، وہ رپورٹ ریکارڈ پر موجود ہے۔ میں پڑھے لکھے دوستوں بالخصوص نئی نسل سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جسٹس حمود الرحمٰن کمیشن نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے جن اسباب کا تعین کیا تھا اور جو وجوہات بیان کی تھیں، نہ ہم ان سے توبہ کر رہے ہیں، نہ ہمیں ان پر شرمساری ہے۔ اس لیے ہمیں پاکستان کے تقسیم ہونے کے اسباب اور اپنی سرحدوں کے سکڑنے کے اسباب معلوم رہنے چاہئیں تاکہ آئندہ ہم احتیاط کر سکیں۔
میں نے یہ عرض کیا ہے کہ جب تک کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کے حصہ نہیں بنے گا پاکستان کی جغرافیائی سرحدیں مکمل نہیں ہوں گی۔ اس پر بھی ہمیں نظر ثانی کرنی چاہیے کہ ہم کشمیر کے حوالے سے کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ ہماری ذمہ داری کیا بنتی ہے اور ہماری کوتاہیاں کیا ہیں؟ اس کے ساتھ ہمیں اپنی فوج کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں کے ایک ایک چپے کے دفاع کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرنی چاہیے کہ جب بھی ملک کو ضرورت پڑی، ملک کی کسی سرحد پر قربانی کی ضرورت پڑی تو ہم اپنی فوج کے ساتھ ہیں، فوج کے پیچھے کھڑے ہیں۔
دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کے دفاع کا ایک دائرہ تہذیبی ہے، اس پر بھی ہمیں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ دو قومی نظریہ سر سید احمد خان مرحوم نے پیش کیا تھا، علامہ اقبالؒ نے علمی اور فکری دنیا میں اس کو واضح کیا جبکہ قائد اعظم مرحوم نے اس کے لیے تحریک کی قیادت کی۔ اس نظریہ کی بنیاد پر ہی پاکستان بنا تھا۔ دو قومی نظریہ یہ تھا کہ ہندو تہذیب الگ ہے اور مسلم تہذیب الگ ہے، اس لیے ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے اور ہمیں الگ الگ ہونا چاہیے۔ مسلم ثقافت کے تحفظ کے لیے، ہندو ثقافت کے غلبے سے بچنے کے لیے اور امتیاز قائم رکھنے کے لیے ہم نے کہا تھا کہ ہم دو قومیں ہیں اور اس بنیاد پر ہم نے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا۔
میں اس پر یہ سوال کرنا چاہوں گا کہ کیا دو قومی نظریہ، تہذیبی کشمکش اور الگ وطن کے مطالبہ سے مطلب یہ تھا کہ ہم ہندو تہذیب کی غلامی اور غلبے سے نکل کر انگریزی تہذیب میں شامل ہو جائیں گے؟ یا یہ مقصد تھا کہ مسلم تہذیب کا احیا کریں گے؟ اب ہم کر کیا رہے ہیں؟ ہماری تہذیب کہاں ہے؟ آج ہمارے کالجوں، یونیورسٹیوں، ہماری دانش گاہوں میں کون سی تہذیب جڑ پکڑتی جا رہی ہے اور اسلامی روایات کہاں جا رہی ہیں؟ یہ معمولی سوال نہیں کہ نظر انداز کر دیں۔ ہم نے ہندو تہذیب سے علیحدگی اختیار کی تھی، انگریزی تہذیب قبول کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مسلم تہذیب کے احیا کے لیے۔ آج ہمارے ریاستی ادارے، سرکاری محکمے، ہماری تعلیم گاہیں اور دانش گاہیں مسلم تہذیب کے احیا کی بات کر رہی ہیں یا ویسٹرن تہذیب کے غلبے کی بات کر رہی ہیں؟ اور مسلم تہذیب کے احیا کی بات کس نے کرنی ہے؟ اس لیے آج میں یہ سوال اٹھا رہا ہوں کہ ہمارا ایک تہذیبی دائرہ ہے۔ ہم نے مسلم تہذیب اور مسلم ثقافت کے احیا کے لیے ہندو تہذیب کے غلبے سے نجات حاصل کی تھی لیکن اب ہم ویسٹرنائزیشن اور مغربی تہذیب کے غلبے میں گھستے جا رہے ہیں اور مغربی تہذیب ہم پر پنجے گاڑے ہوئے ہے۔
(جاری ہے)