Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

اے انسان اے اشرف المخلوقات، اپنے مقام و مرتبہ کو پہچان

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں بلند مقام عطا کیا ہے، جس کا ذکر قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں بار بار آیا ہے۔ انسان کے اس بلند مقام کو سمجھنا اور اپنی صلاحیتوں کو صحیح معنوں میں استعمال کرنا ہی کامیابی کا راز ہے۔
قرآن مجید میں انسان کی عظمت، اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں بیان فرمائی۔’’ولقد کرمنا بنِی آدم‘‘ (سور ۃ الالسرا، 17:70 ) ترجمہ: ’’اور بے شک ہم نے بنی آدم ؑ کو عزت بخشی۔‘‘
یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا اور اسے تمام مخلوقات میں ممتاز کیا۔اور فرمایا : ’’فتبارک اللہ حسن الخالِقِین ‘‘ (سورۃ المومنون، 23:14 ) ترجمہ: ’’تو بڑا بابرکت ہے اللہ، جو بہترین خالق ہے۔‘‘
یہ آیت بھی انسان کی تخلیق کی بہترین صورت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔احادیث مبارکہ میں انسان کا مقام،نبی کریم ﷺ نے بھی انسان کی عظمت اور اس کے کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
ترجمہ:’’اللہ تمہاری ظاہری صورت اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘ (مسلم)
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی باطنی کیفیت اور اعمال کی بنیاد پر اس کا مقام مقرر کرتا ہے اور ہر انسان اپنی نیت اور اعمال کے ذریعے بلند مقام پا سکتا ہے۔ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ’’خیر الناسِ انفعھم لِلناسِ‘‘(طبرانی) ترجمہ: ’’لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو۔‘‘
یہ حدیث اس بات پر زور دیتی ہے کہ انسان کا اعلیٰ مقام دوسروں کے لیے نفع بخش بننے میں ہے۔رومی کے اشعار میں انسان کی عظمت، رومی نے انسان کی عظمت کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے اور ہمیں اپنی انفرادیت اور کائناتی حیثیت کو پہچاننے کی دعوت دی ہے۔ ان کا ایک مشہور قول ہے: ’’تم اپنے آپ کو حقیر مت سمجھو، تمہارے اندر پوری کائنات چھپی ہوئی ہے‘‘
یہ قول اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم محض جسمانی وجود نہیں ہیں، بلکہ ہمارے اندر روحانی قوتیں اور کائناتی راز چھپے ہیں۔ رومی مزید فرماتے ہیں:’’ چھوٹے نہ بنو، تم ایک بڑی کائنات ہو، اپنے اندر کے خزانوں کو پہچانو‘‘ حضرت رومی اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ انسان کی انفرادیت اور اس کے اندر چھپی ہوئی عظمت اسے کائنات کا حصہ بناتی ہے۔
اللہ کی عنایت اور شرف کرامت سے ہم میں سے ،ہر ایک کے پاس ایک منفرد کمال کی خوبیاں اور صلاحیتیں ہیں جو ہر ایک کو ہمارے منفرد خالق اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور رحمت سے عطا کی ہیں جن کی نقل کوئی اور نہیں کر سکتا۔ جس طرح سے آپ دنیا کو دیکھتے ہیں، جس طرح سے آپ محبت کرتے ہیں، رہنمائی کرتے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں یہ خوبیاں واضح طور پر آپ کی ہیں۔ آج میں آپ کو ہماری خصوصی انفرادیت کو سمجھنے اور اس کی غیر معمولی قدر کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہوں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ ہم اکثر اپنے آپ کو دوسروں سے موازنہ کرنے اور ان کے ساتھ مقابلہ کرنے یا ان سے حسد محسوس کرنے اور شیطان کی طرف سے حسد کے شیطانی الہام سے ان کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ہم کسی اور کا سفر، ان کی کامیابی یا ان کی صلاحیتوں میں دیکھتے ہیں اور ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ کیا ہم ان سے کس طرح مقابلہ کریں یا ان کا راستہ روکنے کے لئے روکاوٹیں ڈالیں اور اس کے لئے شیطانی چالیں چلیں اور ان کو ناکام کرنے کی کوشش کریں۔ جو سب شیطانی تاہم ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ موازنہ ہماری اپنی خوشی کا چور ہے۔ ہمارا سفر، میں اسے ایک ایڈونچر کہنے کو ترجیح دیتا ہوں ۔جو آپ کا اکیلا ہے۔ آپ کے پاس حیرت انگیز مہارتیں اور قابلیتیں ہیں جنہیں زمین پر آپ کی زندگی کے دوران شاندار طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ جو کچھ دنیا کے سامنے لاتے ہیں وہ ناقابل تلافی ہے۔ یہ خود شناسی اور پہچان کا معاملہ ہے لیکن موازنہ اور دوسروں کے ساتھ مسابقت یا دوسروں کے بارے میں حسد کرنے سے نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ، دنیا کو آپ کے اندر خاص چھپے ہوئے تحائف کی ضرورت ہے ان تحائف کو کھول کر دوسرے انسانوں کو بانٹنے میں عظمت و برکت ہے۔ اس لئے کہ دنیا بھر میں لوگ اپنی زندگی میں درپیش چیلنجوں کے حل کے لیے ترس رہے ہیں اور آپ کے پاس علم و دانش اور ہنر و تجربہ کے جو تحفے چھپے پڑے ہیں وہ انسانوں کے مسائل کو حل کرنے یا انہیں صحیح سمت کی طرف لے جانے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ اسلامی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں، تم میں سے بہترین وہ ہے جو دوسروں کے لیے مفید اور فائدہ مند ہو۔ میں آپ کو خود آگاہی اور بیداری پر غور کرنے کے لیے ایک لمحہ نکالنے کی دعوت دیتا ہوں کہ جو صلاحیت آپ کو منفرد بناتی ہے، اس کو ایسے طریقوں سے بانٹنے پر غور کریں جو دوسروں کے لیے حوصلہ افزائی، اور فائدہ مند ہوں اور انہیں تقویت اور راہنمائی دے سکیں۔ اس کے ذریعہ آپ کو اللہ اپنے فضل سے نوازاے گا۔ آپ خوش اور صحت مند اور مطمئن محسوس کریں گے۔یہ کامیابی اور راحت زندگی ہے۔
نتیجہ: قرآنی آیات، احادیث مبارکہ، اور رومی کے اشعار کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ انسان کا مقام بہت بلند ہے۔ ہمیں اپنی انفرادیت، صلاحیتوں، اور عزت کو پہچاننا چاہیے اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور دوسروں کے لیے نفع بخش بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم اس مقام کے مطابق زندگی گزاریں۔

یہ بھی پڑھیں