Search
Close this search box.
اتوار ,12 جولائی ,2026ء

معاشی استحکام کے روشن امکانات

معاشی استحکام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ سابقہ حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کے منفی اثرات زائل کرنا آسان نہیں ۔ تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت معاشی استحکام کے حصول کے لیئے یک سو دکھاء دے رہی ہے۔ قومی منظر نامے پر معیشت کے حوالے سے چھائی ہوئی بے یقینی کی دھند رفتہ رفتہ چھٹ رہی ہے ۔ مایوسی کی تاریک شب کا اختتام ہو رہا ہے اور امید کی روشن صبح نمودار ہو رہی ہے ۔ حکومتی دعوے حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں ۔ وزیر خزانہ نے جو زبانی دعویکئے تھے وہ بتدریج پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ سٹیٹ بینک نے شرح سود میں دو فیصد کمی کا اعلان کیا ہے ۔ یہ نہایت مثبت پیش رفت ہے ۔ کاروباری طبقے کی جانب سے یہ مطالبہ تسلسل سے دہرایا جاتا رہا ہے کہ ریاستی بنک قرضوں کی شرح سود کو کم کرے تاکہ ملک میں تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں ۔اس دیرینہ مطالبہ کی روشنی میں حکومت نے شرح سود میں واضح کمی کا اعلان کر کے اپنی معاشی ترجیحات کا ایک سنجیدہ ثبوت پیش کیا ہے ۔ معاشی ماہرین کے مطابق شرح سود میں کمی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہو رہا ہے ۔ معاشی استحکام کے حوالے سے مزید مثبت خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ افراط زر میں بتدریج کمی ہورہی ہے ۔ معاشی اعداد و شمار کے حوالے سے تجزیئے یہ بتا رہے ہیں کہ مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے ۔ اس مثبت تبدیلی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ بنیادی ضرورت کی اشیائے صرف کی گرانی نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے ۔
حالیہ بیانات میں وزیراعظم نے مہنگائی کی شرح کو مزید کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ غالب امید ہے کہ اس حوالے سے حکومت ٹھوس اقدامات کے ذریعے عوام کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی ۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ معاشی بحران کی نوعیت بے حد سنگین ہے ۔ سابقہ حکومت کی حد سے زیادہ غیر سنجیدگی اور نا اہلی نے ملک کو گہری معاشی دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔ تحریک عدم اعتماد کے فورا بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت کو سیاسی میدان میں ہی نہیں بلکہ معاشی محاذ پر بھی سنگین چیلنجز در پیش تھے ۔ ہیجان انگیز احتجاجی سیاست نے قومی منظر نامے پر ابہام اور عدم استحکام کو فروغ دیا ۔ سابق وزیر اعظم اور ان کے جذباتی پیروکار صبح شام ملک کے دیوا لیہ ہونے کی پیش گوئیاں کرتے رہتے تھے ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت ، ہیجان اور نا امیدی کا پر چار اس شدت کے ساتھ کیا گیا کہ سادہ لوح عوام، تاجر برادری اور غیر ملکی سرمایہ کار بے یقینی کا شکار ہو گئے۔ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشے کو آسیب یا عفریت بنا کر اس انداز میں پرو پیگنڈہ کیا جاتا رہا ہے کہ تمام معاشی سر گرمیاں منجمد ہو گئیں۔ اس منفی مہم کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات دم توڑنے لگے۔ پاکستان کی کرنسی کی بے قدری بڑھ گئی ڈالر کا ریٹ اس قدر بڑھا کہ ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔ پی ٹی آئی دور حکومت میں آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی نے ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگایا ۔ آخری ایام میں سیاسی شہرت کے حصول کے لیے ایندھن کی قیمتوں کو منجمد کرکے ایسے مالیاتی بحران کی بنیاد رکھی گئی جس نے معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ یہی وہ دور تھا کہ جب اپنی معاشی نالا ئقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے تحریک انساف کی صف اول کی قیادت پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا ڈھنڈورا پوری شدت سے پیٹ رہی تھی ۔ ساتھ ہی جعلسازی پر مبنی سوشل میڈیائی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنا کر پیش کیا جارہا تھا ۔ ریاستی اداروں کو متنازعہ بنانے کے لیے لیے منظم انداز میں الزام تراشی اور کردار کشی کی مہمیں چلائی جاتی رہیں ۔ ان زہریلے اقدامات کی بدولت تاجر برادری میں بددلی پھیل ۔ کاروباری طبقات شکوک و شبہات کا شکار ہوئے اور مجموعی طور پر ملک میں معیشت کا پہیہ جام ہونے لگا ۔ ان دشوار حالات میں اتحادی حکومت نے بھرپور کوشش کرکے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا ۔
عالمی اداروں کے سامنے ملک کی معاشی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے کڑے اقدامات اٹھائے ۔ بعد ازاں نگران حکومت نے بھی معاشی بحالی کے پیچیدہ چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لئے بھر پور اقدامات کئے۔ اس دوران مہنگائی اور افراط زر کا عفریت کافی حد تک قابو سے باہر دکھائی دے رہا تھا ۔ الیکشن کے بعد موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری کو اپنی اولین ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے ۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران آئی ایم ایف سے قرض کی صورت مالیاتی تعاون کے حصول کے لیے کی جانے والی کاوشیں سب کے سامنے ہیں ۔ سابقہ حکومتوں کی نا اہلی کے سبب آئی ایم ایف سے قرض کا حصول ایک ناخوشگوار مجبوری ہے ۔ عالمی مالیاتی ادارے نے قرض کی منظوری کے لیے کڑی شرائط اور دوست ممالک سے مالیاتی تعاون کی یقین دہانی کو لازمی قرار دیا ہے ۔ ملکی مفاد کے برخلاف حزب اختلاف خوصا انصافی لشکر اس پروپیگنڈے میں مشغول رہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ستمبر کی میٹنگز میں پاکستان کا متوقع مالیاتی پیکج ایجنڈے میں شامل نہیں. یہ جھوٹ بھی تسلسل سے پھیلایا جاتا رہا ہے کہ دوست ممالک پاکستان کو مالیاتی ضمانت دینے کے لیئے تیار نہیں ۔ ضمانت نہ ملنے کی بدولت آئی ایم ایف سے قرض کی صورت ملنے والی انتہائی ضروری رقم کا ملنا ممکن نہیں ۔ حکومت کی اس ناکامی کی بدولت ملک ڈیفالٹ ہونے جارہا ہے ۔
صد شکر کہ پاکستان کے خلاف یہ زہریلی پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ آئی ایم ایف کی ماہ ستمبر کی میٹنگ میں پاکستان کے مالیاتی پیکج کے متعلق بھی غور کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے یہ حوصلہ افزا اطلاع بھی دی ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے بھی مالیاتی تعاون کی یقین دہانیوں کا دشوار مرحلہ بھی بخوبی طے ہو چکا ہے۔ غالب امکان ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آئے گا۔ اگرچہ قرض کا حصول لائق تحسین امر نہیں لیکن زوال پذیر معیشت میں استحکام پیدا کرنے کے لئے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہماری ایسی مجبوری بن چکی ہے کہ جس سے فی الحال کوئی مفر ممکن نہیں۔ نون لیگ اور پی پی پی کی طرز سیاست سے متعدد اختلافات کے باوجود ملکی سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے ان جماعتوں کے حالیہ اقدامات کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ انتہائی نامساعد حالات میں دیمک زدہ معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کے لئے حکومت نے جو اقدامات کئے ہیں انہیں جاری رکھنے کے لئے تمام جماعتوں کو سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر دست تعاون دراز کرنا چاہیئے۔ حالیہ مثبت اشاریئے نہایت حوصلہ افزا ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں بتدریج کمی کی گئی ہے۔ بجلی کے بلوں میں بھی حتی المقدور تخفیف کی گئی ہے۔ افراط زر اور مہنگائی کو مزید کم کرنے کے لئے وزیر اعظم پر عزم ہیں۔ شرح سود میں کمی کے بعد تجارتی سرگرمیاں بھی بحال ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ یہ طے ہے کہ معاشی استحکام کی بحالی دراصل سیاسی استحکام پر منحصر ہے۔ حزب اختلاف اگر انتشار کی راہ ترک کر کے تعمیری رویہ اپنا لے تو پاکستان میں دیرپا معاشی استحکام کی بحالی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں