Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

آصفہ بھٹو زرداری سیاست کا استعارہ ہیں

سیاست کسی بھی قوم کی معاشرتی زندگی کی عکاس ہوتی ہے۔جتنی اچھی سیاست،اتنی اچھی معاشرت۔ پاکستان میں سیاست کا جو حال ہے،اسی سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔اسمبلیاں اگر مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتی ہیں تو چوک،شاہراہیں جلسہ گاہ نظر آتی ہیں۔جو مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں اس پر توبہ ہی کی جا سکتی ہے۔شکر ہے سیاست کے اس پراگندہ ماحول میں کچھ اچھے چہرے بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔یہ چہرے نہ ہوں تو سیاست اور بھی غلیظ نظر آئے۔موجودہ دور میں اس کی بہترین مثال مریم نواز ہیں،جن کے کروڑوں فالورز ہیں اور جواب ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں۔ان کا تعلق بھی ایک بڑے سیاسی خاندان سے ہے۔ دوسرا بھٹو خاندان ہے ، اس خاندن کی نورِ چشم آصفہ بھٹو زرداری بھی میدان سیاست میں اتر چکی ہیں۔ایم این اے کی سیٹ جیت کر نیشنل اسمبلی کا حصہ ہیں۔آصفہ کو دیکھ کر بے نظیر بھٹو کی یاد آتی ہے۔آصفہ ہو بہو ان کی کاپی ہیں۔دوپٹہ لینے سے بولنے تک کا انداز وہی ہے جو والدہ بے نظیر بھٹو کا تھا۔آواز بھی کافی ملتی جلتی ہے۔ٹی وی سکرین کو نہ دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ محترمہ ہی بول رہی ہیں۔ آصفہ صدر آصف زرداری کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔3 فروری 1993ء کو پیدا ہوئیں۔آصفہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے سیاسیاست اور معاشیات میں اعلیٰ ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔انہوں نے 2016 ء میں گلوبل ہیلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کی۔یہ ڈگری آصفہ کو لندن کالج میں منعقدہ ایک تقریب میں دی گئی۔جس میں والد آصف علی زرداری،بھائی بلاول بھٹو زرداری اور بڑی بہن بختاور بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی۔زمانہ طالب علمی میں ہی آصفہ کا رجحان سیاسی سرگرمیوں کی طرف ہو گیا تھا۔تاہم زمانہ طالب علمی میں وہ عملی سیاست سے دور رہیں۔ نظیر اکثر کہا کرتی تھیں آصفہ باتونی اور سمجھ دار ہے۔ بلاول اور بختاور جب کبھی کھیل میں مصروف ہوتے تو آصفہ کھیل کی بجائے والدہ کے اردگرد موجود رہتیں۔آصفہ کو بے نظیر کے ہاتھ کے پکے ہوئے کھانے بہت پسند تھے۔وہ اکثر فرمائش کر کے والدہ سے اپنی پسند کی ڈشز تیار کرواتیں۔
آصفہ کی بچپن میں والدہ سے قربت ان کے سیاسی شعور کے پختہ ہونے کی دلیل کو ثابت کرتی ہے۔ آصفہ 14برس کی تھیں کہ ان کی والدہ بے نظیر بھٹو انہیں ہمیشہ کے لیے داغِ مفارقت دے گئیں۔آصفہ کے لئے یہ ایک مشکل گھڑی تھی لیکن انہوں نے بہت جلد اپنی ذہنی کیفیت پر قابو پا لیا۔ان کی نگاہوں کا سارا مرکز اب والد آصف علی زردار ی تھے۔آصف علی زرداری جب صدر پاکستان بنے تو وہ ایوان صدر میں ہونے والی تمام اہم سرگرمیوں میں آصفہ کو بھی شرکت کی دعوت دیتے۔سیاسی نکتہ نظر کی بات کریں تو بلاول،بختاور اور آصفہ کا سیاسی وژن ہمیشہ یکساں رہا ہے۔آصفہ جانتی ہیں کہ ان کے نانا شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جس مقصد کے لیئے اپنی جان کی قربانی دی وہ بہت عظم مقصد تھا۔جبکہ آصفہ اسی مقصد کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔بلاول بھٹو کے ساتھ اکثر سیاسی میٹنگز میں آصفہ کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بلاول بھی ان کی سیاسی بصیرت کے معترف ہیں۔ملک میں عورتوں کے خلاف جرائم میں اضافے کے باعث آصفہ بہت پریشان رہتی ہیں سوشل میڈیا پر اکثر خواتین پر ہونے والے مظالم کی بھرپور مذمت کرتی نظر آتی ہیں۔ہمیشہ ہی سے انٹرنیشنل ہیلتھ پروگرام پر ان کی توجہ مرکوز رہی۔تاکہ اس پروگرام کے تحت آنے والی نسل کو بیماریوں سے بچایا جا سکے،خصوصا ًپولیو پروگرام پر آصفہ کی بہت زیادہ توجہ ہے۔آصفہ جس ماحول میں پلی بڑھی ہیں۔وہ ہر طرف سے سیاستدانوں اور حکومتی عمائدین سے گھرا رہتا تھا۔بلاشبہ بھٹو خاندان نے اس ملک کی سیاست میں فعال کردار ادا کیا ہے۔لہٰذا شعوری بات ہے آصفہ بھی سیاست کے میدان میں اتریں۔ آصفہ بطور ایم این اے جن امور اور مسائل پر توجہ دے رہی ہیں۔ان میں صحت اور انسانی حقوق کے شعبے شامل ہیں۔چونکہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے،اس لئے آصفہ سندھ حکومت کے معاملات کو بھی نہایت باریک بینی سے دیکھتی ہیں۔
بعض حکومتی امور میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی معاونت بھی کرتی ہیں۔پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے مطابق آئندہ عام انتخابات میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ کا محاذ سنبھالیں گی۔عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گی۔ پارٹی کا منشور اور پروگرام اپنے خطابات کے ذریعے لوگوں تک پہنچائیں گی۔آصفہ سیاست کی وہ حقیقت ہیں جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔والدہ کی طرح ان کے ارادے مضبوط اور سوچ کے زاویے نہایت مستحکم ہیں۔ پہاڑ جیسا حوصلہ رکھتی ہیں۔ٹنڈو الہ یار کو آصفہ اپنا دوسرا گھر سمجھتی ہیں وہ اس لیئے کہ اس حلقے سے ان کی والدہ دو بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔صفہ نیشنل اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کی سیاست سے باخبر رہتی ہیں جہاں ضروری ہو،سیاست پر تبصرہ بھی کرتی ہیں۔پیپلز پارٹی کے ناقدین بھی آصفہ بھٹو زرداری کی سیاسی بصیرت کے زبردست مداح نظر آتے ہیں۔یقینا پاکستان کو آصفہ بھٹو زرداری جیسا سیاسی ویژن رکھنے والی خواتین کی ضرورت ہے۔اسی طرح پاکستان آگے بڑھے گا۔پڑھی لکھی اور باصلاحیت خواتین کے سیاست میں آنے سے ملک میں ترقی و خوشحالی کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں