بنگلہ دیش میں 1971ء کے بعد پہلی مرتبہ قائداعظمؒ کایوم وفات انتہائی عقیدت واحترام سے منایا گیا۔ اس سے قبل بنگلہ دیش بننے کے بعد اورپاکستان سے علیحدگی کے بعد کبھی بھی قائداعظمؒ کا یوم وفات یا یوم پیدائش نہیں منایا گیاتھا‘ نہ ہی 14اگست سے متعلق تقریبات منعقد کی جاتی تھیں۔ لیکن اب حسینہ واجد سابق وزیراعظم بنگلہ دیش سے رسوا کن انداز میں نکل جانے کے بعد پہلی مرتبہ قائداعظمؒ کا یوم وفات سے متعلق تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ اس موقع پر بنگلہ دیش کے دانشوروں ‘سیاسی رہنمائوں اور کارکنوں نے شرکت کرکے قائداعظمؒ کی حیات اور ان کے کارناموں پرروشنی ڈالی نیز یہ بھی عہد کیا گیا کہ پاکستان سے بہتر تعلقات استوار کئے جائیں تاکہ بھارت کو بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاموقع نہ مل سکے۔ جیسا کہ حسینہ واجد کے دور میں تھا۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے اب تک قائداعظمؒ یا پھر 14اگست سے متعلق کسی بھی قسم کی تقریبات منعقد نہیں کی گئی تھیں۔لیکن اب طلبا تحریک کے انقلاب اور حسینہ واجد کی حکومت کے زوال کے بعد نئی عبوری حکومت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ طلبا تحریک کے دوران یہ عہد کیا گیا تھا کہ انہیں بنگلہ دیش میں بھارت کی مداخلت کسی بھی صوت میں قبول نہیںہے۔
قائداعظمؒ کا یوم وفات کی تقریب کا انعقاد کرکے نئی عبوری حکومت نے یہ پیغام دیا ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام کو بھارت کی بالادستی یامداخلت کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے۔ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو بھارت کے ہاتھوں فروخت کردیاتھا۔ پورے بنگلہ دیش میں حکومتی پالیسی کے تحت زیادہ تر تجارت (لین دین) بھارت سے ہوا کرتی تھی ۔باالفاظ دیگر بنگلہ دیش کی بیرونی تجارت کے سلسلے میں حکومتی پالیسی کے تحت بھارت کو زیادہ کو ٹہ دیا گیا تھا۔ اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ بنگلہ دیش بھارت کی کالونی بن چکا تھا۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے احساس اداروں میں بھی بھارت کی رسائی ممکن بنائی گئی تھی‘ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ حسینہ واجد بھارت میں پناہ گزین ہے اور اس کے بنگلہ دیش میں دوبارہ واپس آنے کے تمام امکانات ختم ہوچکے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ باہر سے بیٹھ کر انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گی۔
دراصل بنگلہ دیش میں ایک طویل عرصے کے بعد قائداعظمؒ کایوم وفات منایا گیاہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اب بنگلہ دیش میں حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ حسینہ واجد یا ان کے والد شیخ مجیب الرحمن کے دور میں قائداعظمؒ یا پھر 14اگست سے متعلق تقریبات کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتاتھا‘ لیکن اب بنگلہ دیش میں طلبا انقلاب کے بعد نئی حکومت کے قیام کی صورت میں پاکستان سے متعلق خیالات دوبارہ ابھرنے شروع ہوگئے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قائداعظمؒ کے یوم وفات کی تقریب میں تمام مقررین نے اس بات کاکھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ آج بنگلہ دیش صرف اس لئے آزاد ہے کہ قائداعظمؒ کی قیادت میں مشرقی پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا ‘ لیکن بعض سیاستدانوں کی غلط اور منفی پالیسیوں کی وجہ سے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا‘ لیکن اب بھی قائداعظمؒ اور ان کی ولولہ انگیز قیادت کو بنگلہ دیش کے عوام بھولے نہیں ہیں۔ اگر مشرقی پاکستان جوبعد میں بنگلہ بناتھا‘ اس کو آزادی پاکستان ہی کی وجہ سے ملی تھی۔
دراصل شیخ مجیب الرحمان نے بھارت کے اشارے پر مشرقی پاکستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے میں جوکردار ادا کیاتھا‘ اس سے اکثریت متفق نہیں تھی لیکن عوامی لیگ کے غنڈوں کی وجہ سے پاکستان نواز افراد یاتو خاموش رہے یا پھر مغربی پاکستان چلے آئے۔ بعد میں بنگلہ دیش کے بننے کی صورت میں جو خون خرابہ ہوا تھا‘ وہ اب تاریخ کا حصہ ہے جس سے متعلق لکھنا اس دور کو تازہ کرناہے جو بنگلہ دیش کی صورت میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کو پیش آیاتھا۔ تاہم جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی اور سماجی حالات یکسر بدل رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام اب بھارت کی غلامی کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے طلبا تحریک نے یہ ثابت کردیاہے کہ بنگلہ دیش کو اب حقیقی آزادی میسر آچکی ہے۔ اب بھارت کسی بھی صورت میں بنگلہ دیش میں مداخلت نہیں کرسکتاہے جووہ حسینہ واجد کے دور میں کیاکرتاتھا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں سابق وزیراعظم نے جتنے بھی انتخابات جیتے تھے‘ اس میں بھارت نے نہ صرف مداخلت کی تھی بلکہ واضح دھاندلی کراکر حسینہ واجد کو فتح سے ہمکنار کرایاتھا۔ پندرہ سالوں کے دوران حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کو بھارت کے ہاتھوں فروخت کردیاتھا‘ سیاسی آزادی تقریباً ناپید تھی‘ یہاں تک صحافت کی آزادی پربھی غیر معمولی پابندیاں عائد تھیں۔
لیکن اب صورتحال آہستہ آہستہ تبدیل ہورہی ہے۔طلباء تحریک نے بنگلہ دیش کے عوام کو حقیقی آزادی دلوائی ہے۔ جس کو اب بھارت یا پھر کوئی اور طاقت چھین نہیں سکتاہے۔ دوسری طرف نئے انتخابات بھی ہونے والے ہیں‘ جس کا ابھی اعلان نہیں کیا گیاہے لیکن اب ان انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوپائے گی جس طرح حسینہ واجد کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ دراصل حسینہ واجد دھاندلی کی پیداوار تھیں بھارت ان کی پشت پناہی کیاکرتاتھا لیکن طلبا تحریک نے بنگلہ دیش سے بھارت کے قدم اکھاڑ دیئے ہیں‘ بنگلہ دیش کو طلباء تحریک کے ذریعے حقیقی آزادی مل چکی ہے۔ اب بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کے تحت اپنا نیا سفر شروع کرے گا بلکہ شروع کردیاہے۔اس ضمن میں پاکستان کو بھرپور انداز میں اپنا کردارادا کرناچاہیے۔ بھارت کی بنگلہ دیش سے چودہراٹ ختم ہونے کے بعد اب وہاں ایک نیا سیاسی معاشی خلا پیدا ہوگیاہے ‘ جو پاکستان اب بہ آسانی پورا کرسکتاہے‘ حسینہ واجد کی پالیسی پاکستان دشمن پرمبنی تھی‘ بلکہ اس کا حکم تھا کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات قائم نہ کرے۔لیکن اب بنگلہ دیش کے عوام پاکستان سے اچھے تعلقات استوار کرناچاہتے ہیں جس کا برملا اظہار بنگلہ دیش کے اخبارات سے پتہ چلتاہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت خود بھی پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرناچاہتی ہے۔نیز پاکستان اس ضمن میں بنگلہ دیش کی خاصی مدد کرسکتاہے ویسے بھی بنگلہ دیش کے عوام پاکستان سمیت مسلم دنیا سے اپنے تعلقات بہتر بناناچاہتے ہیں۔ وہ بھارت کو اب اپنے ملک کے معاملات بھی کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے یہی بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی پالیسی ہے۔ جو آئندہ بھی جاری رہے گی۔