Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

سید حسن نصراللہ کی شہادت حزب اللہ اور حماس کیلئے مضبوطی کا باعث

حقیقی لیڈر کبھی بانجھ نہیں ہوتے۔ وہ اپنے حصے کا کام کرتے ہیں اور اپنے جیسے کئی لیڈر پیدا کرکے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ عالم کفر کی یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ وہ جن اسلامی لیڈران کو اپنا دشمن گردانتے ہیں انہیں قتل کرکے سکھ کا سانس لیتے ہیں اور اپنی عوام کو تسلیاں دیتے ہیں کہ ہمارے دشمن کا خاتمہ ہوگیا ہے اب ہمارے راستے کی رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں کیونکہ ہمارا بہت بڑا دشمن مارا گیا ہے۔ اسرائیل نے 1992ء میں بھی اسی طرح خوشیاں بنائی تھیں جس طرح آج سید حسن نصراللہ کو شہید کرکے منا رہا ہے۔1992ء میں امریکہ اور اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ حزب اللہ کا آج خاتمہ ہوگیا ہے۔ اس وقت حزب اللہ کے سربراہ سید عباس الموسوی ہے۔ اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے لبنان پر حملہ کرکے اس وقت کے حزب اللہ کے سربراہ سید عباس الموسوی کو ان کی اہلیہ اور پانچ سالہ بیٹے سمیت شہید کر دیا تھا اور اپنے تئیں یہ گمان کر رہے تھے کہ اب مزاحمت کا راستہ بند ہوگیا ہے۔ اسرائیل محفوظ ہوگیا ہے۔ حالانکہ عباس موسوی شہادت سے قبل کئی عباس موسوی پیدا کر چکے تھے جو حزب اللہ کی قیادت سنبھالنے کے اہل ہے۔ سید حسن نصراللہ محض 32سال کی عمر کے نوجوان تھے، بھرپور صلاحیتوں کے مالک اس نوجوان نے حزب اللہ کو اتنا مضبوط کیا کہ دشمن پر لرزہ طاری ہوگیا۔ لبنانی حزب اللہ کے نام سے اسرائیل خوفزدہ رہنے لگا، وہ ہمیشہ اسی تاڑ میں رہا کہ کسی طرح سے سید حسن نصراللہ کا خاتمہ ہو جائے پھر اس کے بعد ہمارے لئے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔
2006ء کی جنگ میں بھی اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ کو مارنے کی بہت کوشش کی، حتیٰ کہ ایک مرتبہ دعویٰ کر ڈالا کہ سید حسن نصراللہ اسرائیلی حملے میں شہید کر دئیے گئے ہیں، مگر تین روز بعد حزب اللہ کے سربراہ منظر عام پر آگئے۔ 27 ستمبر تک شہید سید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کو ناقابل شکست بنا دیا۔ امریکہ اور اسرائیل لاکھ دعویٰ کریں کہ حزب اللہ کمزور ہوگئی ہے یا خاتمے کے قریب ہے یہ محض دعویٰ یا خوش فہمی تو ہوسکتی ہے مگر اس کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ وقتی طور پر حزب اللہ کو بہت نقصان ہوا ہے مگر یاد رکھیں آزادی کی تحریکوں میں ایسے نقصانات تو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ آج سے 32سال قبل جب شہید حسن نصراللہ نے حزب اللہ کی قیادت سنبھالی تھی تو اس وقت کی قیادت کو شہید کرکے اسرائیل اور اس کے حمایتی بہت خوش تھے کہ اب حزب اللہ کا خاتمہ ہوگیا ہے کیونکہ اس وقت حزب اللہ کے قیام کو محض سات سال کا مختصر عرصہ ہوا تھا مگر جب ان کی امیدیں خاک ہوگئیں جب سید حسن نصراللہ شہید نے حزب اللہ کو مزید مضبوط سے مضبوط تر کر دیا۔ اب تو حالات یکسر تبدیل ہیں۔ کہاں 1992ء اور کہاں 2024ء گو کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کے اہم قائدین کو نشانہ بنا کر مارا ہے مگر حماس اور نہ ہی حزب اللہ کی قیادتیں بانجھ ہیں، کئی اور لیڈر پیداہوچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں اپنی حکمت اور مصلحت ہوتی ہے، حق اور باطل کی لڑائی میں اگر وقتی طور پر حق کو نقصان کیوں نہ پہنچ رہا ہو مگر اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہمیشہ پیش نظر رہے کہ حق ہمیشہ فاتح ہوتا ہے۔ ظالم مغلوب رہتا ہے جب سے اسرائیل نے گریٹر اسرائیل کی ناپسندیدہ اور مکروہ خواہش کو عملی شکل دینے کی کوشش کی ہے اس وقت سے اللہ تعالیٰ نے مزاحمتی تحریکوں کی نصرت کا وعدہ پورا کرنا شروع کیا ہے۔ داعش کا قیام امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ سوچ کا نتیجہ تھی مگر دشمن طاقتوں کو اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل میں ناکامی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے قاسم سلمان جیسے جرنیل کو مزاحمت کے لئے تیار کیا۔ قاسم سلمان سے ایک وقت تک کام لیا اور پھر اس مرد مجاہد کو اپنے پاس بلا لیا مگر ان کی شہادت کے بعد مزاحمتی تحریک ماند نہیں پڑی بلکہ قاسم سلمانی کی شہادت نے اس تحریک کو مزید طاقت فراہم کی، اسی طرح حماس کے اسماعیل ہانیہ کی شہادت نے بظاہر اسرائیل کے لئے سکھ کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا مگر ان کی شہادت کے بعد حماس کے جذبوں میں کمی دیکھنے میں نہ آئی۔ پچاس ہزار سے زائد شہادتوں کے باوجود حماس اسی طرح قائم و دائم ہے بلکہ حماس کی حمایت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ فلسطینیوں نے نہ تو حماس کی حمایت چھوڑی ہے اور نہ ہی وہ خدا سے شکوہ کر رہے ہیں۔ قربانیاں دے کر بھی عزم و حوصلے مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں اور اسی طرح کا ماحول لبنان میں بھی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں لبنانی شہید ہوچکے ہیں مگر ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ شہادتوں کا تسلسل جاری ہے۔ سیدحسن نصراللہ نے 32 سال تک قیادت سننبھالی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کام لیا اور آخر شہید ہوگئے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ قیادتوں کے چلے جانے سے تحریکیں کمزور نہیں ہوتیں بلکہ وہ شعلہ ور ہوتی ہیں۔
حالات بتا رہے ہیں کہ حماس اور حزب اللہ کو پہنچنے والے نقصان سے اسرائیلی اور ان کے حمایتوں کی خوشیاں محض وقتی ہیں۔ حماس اور حزب اللہ جنگ کے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ابھی تک شہریوں پر حملہ آور نہیں ہوئے لیکن مجبوری کے عالم میں اگر حماس حزب اللہ، حوثی ملیشیاء مل کر اسرائیلی شہروں پر میزائل حملہ کر دیا تو یہ جنگ انتہائی مختصر وقت میں ختم ہوسکتی ہے۔ آنے والے حالات بتا رہے ہیں کہ اب سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد اسرائیل پر کڑا وقت آنے والا ہے۔ دراصل ہم مادی دنیا میں رہنے والے اسرائیل کو دستیاب ظاہری وسائل اور ٹیکنالوجی کو دیکھ کر نتیجہ برآمد کرلیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کو فراموش کر دیتے ہیں جس کا ذکر خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر فرمایا ہے اور انشاء اللہ مظلومین اور مومنین سے کیا گیا وعدہ بہت جلد پورا ہو کر رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں