اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور ان میں روح پھونکی۔ حضرت آدمؑ کو خلیف اللہ کے طور پر دنیا میں بھیجا گیا تاکہ وہ اللہ کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں اور نسل انسانی کی ابتدا کریں۔ حضرت حوا ؑکو حضرت آدم ؑکے لیے سکون و راحت کا ذریعہ بنایا گیا اور ان دونوں کو جنت میں بسایا گیا۔عزازیل (ابلیس)کا گرانا:عزازیل، جو کہ ایک صالح جن تھا، اللہ کی بارگاہ میں مقرب تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو عزازیل نے تکبر کیا اور انکار کر دیا، جس پر وہ مردود قرار دیا گیا اور شیطان کہلایا۔ اس کی گمراہی اور نافرمانی کی وجہ صرف حسد اور تکبر تھی کہ اس نے حضرت آدمؑ ؑکو مٹی سے پیدا ہونے کے باوجود سجدہ کرنے سے انکار کیا۔حضرت نوح ؑکے زمانے میں لوگ بت پرستی میں مبتلا ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑکو ان کی قوم کی ہدایت کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔حضرت نوح ؑکا طوفان:حضرت نوح ؑ ؑنے اپنی قوم کو تقریباً نو سو پچاس سال تک اللہ کا پیغام پہنچایا، مگر قوم نے نافرمانی کی۔ آخر کار اللہ کا عذاب آیا اور طوفان برپا ہوا۔ طوفان کا عرصہ چالیس دن تھا، جس کے بعد حضرت نوح کی کشتی جودی کے پہاڑ پر رکی۔ اس طوفان کے بعد انسانی نسل کا دوبارہ آغاز حضرت نوح کے تین بیٹوں سے ہوا۔طوفانِ نوح کے بعد قوموں کا آغاز:طوفانِ نوح کے بعد انسانی نسل کا آغاز حضرت نوح ؑکے تین بیٹوں، سام، حام، اور یافث، سے ہوا۔ انہی تین بیٹوں کی اولاد سے دنیا میں مختلف قومیں آباد ہوئیں:
-1سام کی اولاد:سام کی نسل سے سامی قومیں وجود میں آئیں، جن میں عرب، بنی اسرائیل، آشوری، اور عیلامی قومیں شامل ہیں۔ حضرت ابراہیم بھی سام کی نسل سے تھے۔-2حام کی اولاد:حام کی نسل سے افریقی اور کچھ مغربی ایشیائی قومیں پیدا ہوئیں۔ حام کی اولاد مصر، کنعان (فلسطین اور شام کے علاقے) اور شمالی افریقہ میں آباد ہوئی۔ 3یافث کی اولاد:یافث کی نسل سے یورپی اور شمالی ایشیائی قومیں وجود میں آئیں۔ یافث کی اولاد نے زیادہ تر یورپ، قفقاز، اور ایشیا کے شمالی علاقے میں آبادیاں قائم کیں۔ بابل کا برج جو کہ تکبر اور غرور کا نشان تھا، اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو اس وقت روکا جب ان کی زبانیں بدل دی گئیں۔ مختلف زبانوں کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے قابل نہ رہے، اور اس کی تعمیر مکمل نہ ہو سکی۔ آج بھی بابل کے کچھ آثار عراق میں موجود ہیں، جن میں زگگورات کی کچھ باقیات شامل ہیں، جنہیں بابل کے ٹاور سے تشبیہ دی جاتی ہے۔یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے جس کا تعلق انسان کی روحانی اور مذہبی تاریخ سے ہے۔ میں اسے تفصیل سے بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو مکمل وضاحت ملے۔ایک خدا کی عبادت کی ابتدا:اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک خدا کی عبادت کی ابتدا انسانیت کے آغاز سے ہوئی۔ حضرت آدمؑ کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور انہیں توحید کا پیغام دیا۔ اسی طرح حضرت آدمؑ کی نسل میں بھی توحید کا تصور تھا، یعنی اللہ کی وحدانیت پر ایمان اور اس کی عبادت۔ حضرت آدمؑ، حضرت نوحؑ، اور دیگر انبیاء نے ہمیشہ توحید کی دعوت دی۔توحید سے شرک کی طرف تبدیلی:مختلف اقوام اور زمانوں میں جب لوگ گمراہی اور بداعمالیوں کی طرف مائل ہو گئے، تو انہوں نے توحید سے ہٹ کر مختلف خدائوں کی عبادت کرنا شروع کی۔
شرک کا آغاز اس وقت ہوا جب لوگوں نے اللہ کے مقرب بندوں اور نیک انسانوں کے مجسمے بنانا شروع کئے اور وقت کے ساتھ ساتھ انہیں پوجنا شروع کر دیا۔حضرت نوح ؑکی قوم میں کئی نیک لوگ تھے، جن کے مرنے کے بعد ان کی یاد میں مجسمے بنائے گئے۔ یہ مجسمے وقت کے ساتھ بت پرستی کا ذریعہ بن گئے۔ لوگوں نے ان نیک لوگوں کے مجسموں کو پوجنا شروع کر دیا، اور یوں شرک کا آغاز ہوا۔ اللہ نے حضرت نوح ؑکو ان کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا، لیکن قوم نے انکار کیا، جس پر طوفان آیا اور ان کی قوم تباہ ہوئی۔مختلف خدائوں کا تصور کیسے اور کب شروع ہوا؟مختلف خدائوں کا تصور دراصل بت پرستی سے شروع ہوا۔ جب انسانوں نے فطری مظاہر جیسے سورج، چاند، آگ، پانی، اور ہوا کو طاقتور سمجھنا شروع کیا تو انہوں نے ان کو دیوتا ماننا شروع کر دیا۔ اس وقت کے لوگ سمجھتے تھے کہ ان فطری عناصر کو خوش کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی زندگیاں خوشحال ہو سکیں۔ یہیں سے مختلف خداں کا تصور شروع ہوا۔ -1قدیم مصری تہذیب: مصر میں مختلف دیوتا اور دیویاں تھیں، جن کی عبادت کی جاتی تھی، جیسے سورج دیوتا رع اور موت کی دیوی آئسس-2یونانی اور رومی تہذیب: یونانی اور رومی تہذیبوں میں مختلف خدائوں کا تصور عام تھا۔ ہر دیوتا کا تعلق کسی نہ کسی فطری یا انسانی طاقت سے تھا، جیسے زئوس (آسمان اور بجلی کا دیوتا)، پوسیڈن(سمندر کا دیوتا) وغیرہ-3میسوپوٹیمیا اور بابل: بابل کی تہذیب میں بھی مختلف دیوتا تھے۔ یہاں کے لوگ مختلف مظاہر قدرت جیسے بارش، فصل، جنگ اور محبت کے لیے الگ الگ دیوتاں کی عبادت کرتے تھے۔ہندو، شمن، اور بدھ مذہب کا آغاز:-1 ہندومت:ہندومت ایک قدیم مذہب ہے، جو آریائی تہذیب سے منسلک ہے۔ آریائی قوم ہندوستان میں داخل ہوئی اور یہاں کی قدیم تہذیب سے میل ملاپ کے بعد ہندو مذہب کی بنیاد رکھی گئی۔
ہندومت میں شروع سے ہی مختلف دیوتاں کا تصور موجود تھا، جیسے وِشنو، شِو، برہما، اور دیوی دیوتائیں۔ یہ مذہب ویدوں پر مبنی ہے، جن میں کئی دیوتاں اور قدرتی مظاہر کی عبادت کا ذکر ہے۔-2شمن ازم:شمن ازم ایک قدیم روحانی طرز عمل ہے جو پوری دنیا کے ابتدائی قبائل میں پایا جاتا تھا۔ اس میں ایک روحانی رہنما یا شمن کے ذریعے روحانی دنیا سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ شمن ازم میں بھی فطرت اور روحوں کی عبادت کی جاتی تھی۔ شمن کی رسومات میں جادو، مراقبہ، اور روحانی رابطے کا عمل شامل ہوتا تھا۔-3بدھ مت:بدھ مت کا آغاز سِدھارتھ گوتم (گوتم بدھ)سے ہوا، جو ایک ہندو راجہ کے بیٹے تھے۔ بدھ مت کی بنیاد ہندومت کے پس منظر میں رکھی گئی، لیکن یہ ایک منفرد راستہ تھا جو نجات اور روشن ضمیری کے اصولوں پر مبنی تھا۔ بدھ مت میں روحانی صفائی اور مراقبہ کو اہمیت دی جاتی ہے، اور اس میں خداں کا تصور موجود نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی اور اخلاقی راستہ فراہم کرتا ہے۔نتیجہ:ایک خدا کی عبادت حضرت آدمؑ سے شروع ہوئی اور حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ، اور حضرت محمدﷺ تک تمام انبیاء نے توحید کی تعلیم دی۔ مگر مختلف ادوار میں، انسانوں نے شرک کو اپنا لیا اور مختلف خداں کے تصورات بنائے۔ ہندومت، شمن ازم، اور بدھ مت جیسے مذہبی نظام بھی اسی تاریخی پس منظر میں وجود میں آئے، اور ان کا آغاز فطرت کی عبادت، روحانی رابطوں، اور نجات کی تلاش پر ہے۔