Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ٹرینڈز نہیں فرینڈز بنائو

کہا جاتا ہے کہ کلہاڑے کا دستہ درخت کے اندر ہی پرورش پاتا ہے۔ وطنِ عزیز میں بھی آج کل ایک عجیب ماحول ہے ۔ تنائو جیسی فضا طاری ہے ۔ ہر کوئی بیزار دکھائی دیتا ہے ۔ جتنا بھی اچھا چٹکلہ سنا دیں ، چند ایک کے سوا کوئی ہنستا نہیں ۔ سنجیدگی ہے یا فسردگی؟ حیران کن طور پر سیاسی موضوع پہ کم و بیش سب پھٹ پڑتے ہیں ۔ تمام تعلق واسطے نظرانداز کرتے ہوئے اپنی سیاسی وابستگی اور قیادت کا دفاع کرتے ہیں ۔ مخالف کے خلاف تنقید و تضحیک کے تیر برساتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے ؟ ایسا ماحول پہلے تو کبھی نہ تھا ۔ رشتوں اور دوستیوں کو سیاسی وابستگی سے مقدم جانا جاتا تھا ۔ مباحث ہوا کرتے تھے مگر تحمل و برداشت کے ساتھ ۔ سیاسی ماحول بھی موسمی ہوتا تھا ۔ یعنی الیکشن کے دنوں میں جلسے ، جلوس اور مناظرے ہوتے تھے ۔ اپنی پسند کی پارٹی کے جھنڈے اور بینرز گھروں کی چھتوں پر آویزاں کیے جاتے تھے ۔ نعرے بازی اور ہلا گلا ہوتا تھا ۔ کبھی کبھار حالات کشیدہ بھی ہو جاتے مگر آسانی سے کنٹرول بھی کرلیے جاتے کیونکہ اس دور میں سوشل میڈیا کا ناسور نہیں تھا ۔ بات کا بتنگڑ بنا کر دنیا جہاں میں پھیلانے کی سہولت نہ تھی ۔
مخالفین کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنانے کی سہولت تھی نہ رواج ۔ یوں جلتی پہ تیل ڈالنے کے امکانات کم ہی ہوا کرتے تھے ۔ الیکشن کے ختم ہونے کے بعد انتخابی موڈ کی گرد آہستہ آہستہ بیٹھ جاتی ۔ زندگی معمول پر آجایا کرتی تھی ۔ وہی رشتے اور دوستیاں، پرانی محبت و مروت کے ساتھ بحال ہو جاتی تھیں ۔ لوگ الیکشن کی ہنگامہ خیزیاں بھلا کر اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ مصروفیات میں جت جاتے تھے ۔ لیکن آج کل بالکل اس کے بر عکس ہو رہا ہے ۔ نہ لحاظ ہے نہ رکھ رکھا۔ ہر کوئی سیاسی مورچے میں بندوق تھامے لگ رہا ہے ۔ کیا مجال ،کسی نے ذرا سی بات کی نہیں کہ لفظی گولوں کی بوچھاڑ اس پہ ہوئی نہیں ۔ تلخی اور بد اعتمادی کچی لسی کی طرح بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ اس میں جتنا بے مروتی اور بد لحاظی کا پانی ڈالتے جائیں یہ بڑھتی ہی جاتی ہے ۔ سب سے زیادہ گھمسان کا رن سوشل میڈیا کے میدان میں پڑتا ہے جہاں طرح طرح کی پوسٹیں اور تبصرے اپنی پوری کاٹ کے ساتھ گردش کر رہے ہوتے ہیں ۔ آپ نے ان سے اتفاق نہ کیا تو آپ کی شامت آ جائے گی ۔ آپ کی ٹرولنگ کی جائے گی ۔ یہاں تک کہ آپ کو زچ کرنے کے لئے ٹریند بنائے جائیں گے ۔ یہ وہ طریقہ ہے جس سے آپ اپنے مخالف افراد یا اداروں کی عالمی سطح پر کردار کشی کرتے ہیں ۔ اس کی شہرت کو داغدار کرتے ہیں ۔ اس کی ذات پہ سوالیہ دھبے لگا دیتے ہیں۔ اس کی ساکھ کو خراب کر کے اپنی سیاسی دکان چمکاتے ہیں ۔ یہ روش اور رویہ آج کل عروج پر ہے ۔ٹرینڈ بنانا اک فیشن بلکہ اس سے بڑھ کرجھوٹی اناں کی تسکین کا سامان بن چکا ہے ۔ ٹرینڈ ضرور بنائیں ، مگر ’’فو اور فرینڈ‘‘ یعنی دشمن اور دوست کو مد نظر رکھ کر ۔ معاشرتی اور سماجی روایات کا خیال کر کے ۔ایک شعر جو ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے :
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، باز با باز
یہ شعر انسان کی فطرت کی جانب اشارہ کرتا ہے، کیونکہ معاشرے کا ہر شخص اپنے ہم مسلک، ہم خیال، ہم مزاج اور ہم زبان لوگوں کو تلاش کرتا ہے اور انہی لوگوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتا ہے، ان کی ہم نشینی اسے پسند آتی ہے اور وہ دوسروں کی بہ نسبت ہم زبان و ہم خیال لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، گفتگو کرنا، رسم و راہ رکھنا زیادہ بہتر تصور کرتا ہے۔ ہمارا سوشل میڈیا ہمارے معاشرے کا لٹمس پیپر ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ من حیث القوم ہمارے اندر کیسے رجحانات جنم لے کر پنپ رہے ہیں۔ ہم میں اقبال کے شاہینوں کی تعداد زیادہ ہے یا آنکھیں بند کرکے مکار شکاری سے بچنے والے کبوتروں کی؟ یاد رکھیں ، باہمی چپقلش اور بد گمانی معاشرے میں بدامنی اور بے سکونی کا سبب بنتی ہے ۔ ایسے میں ادبی و ثقافتی رنگ و رعنائیاں دم توڑ جاتی ہیں ۔ اداسی و فسردگی کے سائے ماحول پہ چھائے رہتے ہیں ۔ سیاسی تفریق کے سبب پڑنے والا شگاف ناقابل ِمرمت ہو جاتا ہے ۔ آپسی کھینچا تانی ترقی کی راہوں پہ کانٹوں کی مانند ہے جو ہر ترقی و خوشحالی کے منصوبے کو پنکچر دیتے ہیں ۔ اس سے نہ صرف ملک مالی مشکلات کا شکار ہوتا ہے بلکہ عوام میں بد دلی کی مہلک لہر پھیل جاتی ہے ۔ معاشی مسائل ستانے اور بیروزگاری ڈرانے لگتی ہے ۔ ایسے میں ذہنی خلفشاراور قلبی الجھن بڑھتی ہے جس سے سماجی جرائم جنم لیتے ہیں ۔ امن ِ عامہ کی صورت حال خراب ہو تی ہے ۔ عوام کا ریاست اور ریاستی اداروں پر سے اعتماد گھٹ جاتا ہے جس سے پورا سماجی ڈھانچا لرزنے لگتا ہے ۔ انہی حالات سے دوچار ہو کر مشرق وسطی کے ممالک شکست و ریخت کا شکار ہوئے ۔ ان کی حالت زار ہمارے لئے درس عظیم ہے ۔ اس لئے آئیں، اپنے نظریاتی و سیاسی اختلافات کا روایتی آداب و اطوار سے سامنا کریں ۔ ان کو رشتوں اور دوستیوں پہ غالب نہ آنے دیں ۔
سوشل میڈیا پہ رواں جھوٹ اور بد نیتی پہ مبنی و محیط پروپیگنڈا مہم کی غلاظت میں ہاتھ ڈالنے سے گریز کریں ۔ عقل و دانش کے چشمے سے حق و باطل کے درمیان فرق کو جانیں ۔ جعلی اور اصلی مواد کو پرکھنے،سمجھنے اور رد کرنے کی سعی کریں ۔ زمینی حقائق سے ہوائی باتوں کا موازنہ ضرور کریں ۔ چلیے کوشش کرتے ہیں کہ ہماری عقل سوشل میڈیا پہ اچھالی جانی والی ہر جھوٹی سچی کہانیوں پر غالب رہے ۔ کسی کا بلا سوچے سمجھے ذہن پہ اثر نہ ہو ۔ بلاتصدیق کسی خبر کو آگے بھیجیں اور نہ حتمی رائے قائم کریں ۔ اس سے آپ کو مزید تحقیق کا موقع ملے گا ، مطالعہ وسیع ہوگا ۔ سوچ میں توازن اور میانہ روی آئے گی ۔ ٹرینڈ بنانے والی ٹرینڈ تھم جائے گی ۔ یوں معاشرے میں پرانے دور کی باہم بھائی چارے والی فضا قائم ہو جائے گی ۔ سب مل جل کر سماجی ، ٹقافتی اور ادبی خوشیوں کو منائیں گے ۔ یوں معاشرے کے مرجھا جانے والے چہرے پر خوشی اور رونق کی بہار آ جائے گی ۔ ورنہ ہم میں اور کلہاڑے کے اس دستے میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا جو درخت میں پرورش پا کر درخت کاٹنے میں ہی سہولت کاری کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں