پاکستان اورروس کے درمیان سفارتی تعلقات یکم مئی1948ء کو قائم ہوئے تھے‘ اس دوران ان دونوں ممالک نے اپنے مخصوص اور سیاسی اور ثقافتی اور تجارتی اور معاشی تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ تاہم بسااوقات ایسے لمحات بھی آئے جب ان دونوں ممالک کے درمیان سیاسی سرد مہری اپنے عروج پر تھی ‘ جس میں افغانستان کا مسئلہ سرفہرست تھا‘ تاہم اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔روس اور پاکستان دونوں ماضی کے تلخ واقعات کو بھلاتے ہوئے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس ضمن میں شنگھائی تعاون تنظیم کاذکر بہت ضروری ہے‘ جس میں ان دونوں ممالک کے نمائندوں نے اپنے سیاسی ‘معاشی اور سفارتی تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں مزید بہتری لانے کاعہد کیاہے۔ تاہم اس بات کااعتراف کرنا بہت ضروری ہے کہ روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کجی کا ایک بڑا سبب افغانستان تھا‘ جہاں روس نے اپنے سیاسی ومعاشی اثرات مرتب کرنے کے سلسلے میں فوجی مداخلت کی تھی‘ اس مداخلت کی وجہ سے پاکستان اور روس کے تعلقات خراب ہوناشروع ہوگئے تھے۔ روس افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرناچاہتاتھا ‘ لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی۔ اس پس منظر میں جوکچھ بھی ہوا وہ روس اور پاکستان کے مابین تعلقات کا بدترین دورتھا‘ نیز روس کی اس مداخلت کو افغانستان کے عوام نے بھی قبول نہیں کیا پھر جوکچھ بھی ہوا وہ ایک ایسی تاریخ ہے جس کو نہ تو افغانستان کے عوام بھول پائے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے۔
لیکن اب اس خطے کے سیاسی ومعاشی وسماجی حالات بدل گئے ہیں۔ روس اس خطے کے ممالک سے اپنے تعلقات بہتربناناچاہتاہے جس میں پاکستان سرفہرست ہے‘ کیونکہ ماضی بعید میں ان دونوں ممالک درمیان تعلقات انتہائی تلخ تھے‘ جس میں سابق مشرقی پاکستان کامسئلہ بھی شامل ہے۔ لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ روس جنوبی ایشیاء کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بناناچاہتاہے۔ شنگھائی تنظیم میں اس کا رول اس خطے میںدوستی اور امن کے فروغ میں انتہائی اہمیت کا احمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس اور پاکستان دونوں اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے تعلقات میں استحکام لانے کی بھرپور سعی کررہے ہیں۔ دونوں ممالک باہمی تعلقات کے حوالے سے آگے کی طرف بڑھناچاہتے ہیں تاکہ اس خطے میں جہاں قیام امن کو تقویت حاصل ہوسکے‘ وہیں تجارتی اور معاشی تعلقات بھی مستحکم ہوسکیں۔
روس اب ایک نظریاتی ملک سے زیادہ اپنے معاشی مفادات کوزیادہ اہمیت دے رہاہے‘ کیونکہ نئے زمانے کے تقاضے عوام کی معاشی خوشحالی سے پیوستہ بھی ہے۔ چنانچہ اب روس جنوبی ایشیا کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لانے کی ہرممکن کوشش کررہاہے۔ اس کا سفارتی اور سیاسی کردار شنگھائی تنظیم میں بہت اچھا رہاہے‘ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور روس دونوں اپنے روایتی تعلقات کاجائزہ لیتے ہوئے آگے کی طرف گامزن ہیں‘ جس میں معاشی وسیاسی عناصر سرفہرست ہیں۔
روس نے پاکستان میں اسٹیل مل لگاکر پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنی روایتی کاہلی اور سستی کی بنا پر اس عظیم معاشی منصوبے کو اچھی طرح نہیں چلاسکے‘ جس میں کرپشن سرفہرست تھا‘ لیکن اس حقیقت سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں ہے کہ روس نے خلوص دل سے پاکستان کو اسٹیل مل کے ذریعے اپنے پیروں کھڑا کرناچاہتاتھا۔ تاہم اب بھی روس اسٹیل مل کو دوبارہ چلانے کیلئے ہرقسم کا تعاون دینے کیلئے تیار ہے۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم روس کی پیشکش ابھی موجود ہے ۔
روس اب بھی تیل اورگیس کی تلاش میں اس کی ازسرنو مدد کرنے کو تیار ہے‘ پاکستان کی حکومت نے اس پیشکش کو ابھی تک منظور نہیں کیاہے۔ تاہم جس طرح روس نے شنگھائی تنظیم میں پاکستان کے لئے اپنے خیرسگالی جذبات کااظہار کیاہے۔ اس سے پاکستان کی حکومت کو پورا پورا فائدہ اٹھاناچاہیے۔ بہرحال روس اب بھی ایک سپرپاور کی حیثیت رکھتاہے۔ اور وہ تیسری دنیا کے غریب ممالک کی ہرطرح سے مدد کررہاہے۔ افغانستان کے واقعات کے بعد اب روس کا عالمی سطح پر کردار ایک امن پسند ملک کی حیثیت سے ابھررہاہے۔ تاہم روس ان ممالک کے لئے ’خطرے‘‘ کا باعث ہے جو تیسری دنیا کے غریب ممالک کا استحصال کررہے ہیں اورانہیں آپس میں لڑاکر اپنے مہلک ہتھیاروں کو فروخت کرناچاہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاں دنیا کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے ‘ وہیں غربت اور تنگدستی میں بھی اضافہ ہورہاہے‘ تاہم پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیکران کو اور زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ روس کے ساتھ اپنے معاشی وثقافتی تعلقات پر زور دے تاکہ دونوں ممالک کے عوام میں خوشحالی آسکے۔ روس نے حال ہی میں جس طرح بعض ممالک کے ساتھ سیاسی وسفارتی تعلقات کو بہتر بنایاہے‘ اس سے اس کی پرامن خارجہ پالیسی ظاہر ہوتی ہے ۔ پاکستان کو روس کے اس انداز سے بھرپو فائدہ اٹھاکر اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ روس پاکستان کی ہر سطح پرمدد کرناچاہتاہے ۔ آج کا دور نظریات سے زیادہ معیشت کی ترقی کا دور ہے۔ عوام ایک خوشحال معاشی زندگی بسر کرنے چاہتے ہیں۔ذرا سوچیئے!