Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

آئینی ترمیم اور حزب اختلاف کی مایوس کن کارکردگی

آئینی ترمیم کی منظوری ہوچکی ہے۔ بظاہر یہ حکومتی اتحاد کی بڑی سیاسی کامیابی دکھائی دے رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے اس معرکے میں اپنے حامیوں کو شدید مایوس کیا ہے۔ قانون سازی دراصل پارلیمان کا بنیادی فریضہ ہے۔ آئینی ترمیم جیسے اہم موقع پر ہر سیاسی جماعت کا فرض تھا کہ اپنے ووٹرز کی امنگوں کی ترجمانی کرتی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ترمیم کے حوالے سے فعال کردار ادا کرنے کے بجائے پی ٹی آئی نے بیانیہ سازی پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہ پہلو تہی آنے والے دنوں میں جماعت کے سیاسی مستقبل کو تاریک بھی کرسکتی ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹاک شوز پر رائے کا اظہار بھی ہر سیاسی جماعت کی حکمت عملی کا لازمی حصہ ہوتا ہے تاہم یہ تحرک کسی صورت بھی پارلیمانی کردار کا متبادل نہیں بن سکتا ۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف گزشتہ دو برسوں کے دوران پارلیمانی کردار پر خاطر خواہ توجہ مر کوز نہیں کرپا رہی۔ اس غفلت کا سیاسی خمیازہ بھی پی ٹی آئی کو کئی انداز میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال آئینی ترمیم جیسے اہم موقع پر سامنے آئی ہے۔
جے یو آئی (ف) کے پاس سینیٹ میں محض پانچ اور قومی اسمبلی میں آٹھ نشستیں ہیں۔ اس قلیل تعداد کے باوجود آئینی ترمیم کے عمل میں جے یو آئی نے بھرپور کردار ادا کیا اور اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لئے۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی نے زیادہ تعداد ہونے کے باوجود آئینی ترمیم کے معاملے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ۔ حسب روایت تمام لیڈر میڈیا پر زبانی جمع خرچ میں مشغول رہے۔ گو آئینی ترمیم کے مسودے پر تسلسل سے تنقید کی جاتی رہی لیکن مسودے کے جن حصوں پر اعتراض تھا ان کو بدلنے کے لئے کوئی عملی تجویز پیش نہیں کی گئی ۔ حتیٰ کہ جماعت کی صفو ں میں موجود مشہور و معروف قانون دان بھی عملی طور پر کوئی مثبت کردار ادا نہ کر سکے۔ دوسری جانب حکومتی وزرا ، پی پی پی اور جے یو آئی کے نمائندے ہمہ وقت ترمیم کی نوک پلک سنوارنے میں یکسو دکھائی دیئے ۔ تحریک انصاف کو اپنی طرز سیاست پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ہر اہم قومی معاملے پر واویلا مچانے اور بے بنیاد الزام تراشی کی روش کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ ترمیم کے حوالے سے پارلیمان میں فعالیت دکھانے کے بجائے انصافی قیادت اپنے اراکین کی گمشدگی کا واویلا مچاتی رہی ۔
سوشل میڈیا پہ جماعت کے حامیوں نے دو سینیٹرز اور چند اراکین اسمبلی کے نام لے کر یہ دعوے کئے کہ انہیں ڈرا دھمکا کر آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اس جھوٹ کا پول سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت کھلا جب حکومتی اتحاد نے ترمیم کا مسودہ دو تہائی اکثریت سے منظور تو کروایا لیکن الزامات کے برعکس پی ٹی آئی کے کسی رکن نے اپنا ووٹ استعمال ہی نہیں کیا۔ جن دو سینیٹرز کے نام لے کر یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ وہ اپنی پارٹی سے غداری کے مرتکب ہوکر حکومت کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں گے وہ اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ سینیٹ اجلاس میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر ایمل ولی خان نے اپنے خطاب میں پی ٹی آئی کی غیر سنجیدہ روش پہ شدید تنقید کر کے واضح الفاظ میں یہ کہا کہ پوری جماعت اپنے بانی چیئرمین کے اشاروں پر چلتی ہے۔
تحریک انصاف میں غیر جمہوری طرز عمل کا تاثر اس بات سے بھی گہرا ہوتا جارہا ہے کہ آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کرنے کے باوجود مرکزی قیادت نے اڈیالہ جیل میں قید بانی چئیرمین سے ملاقات کی شرط عائد کردی۔ اس ملاقات کی اجازت ملنے کے بعد بھی پارلیما ن میں کوئی مثبت کردار ادا نہ ہو سکا ۔ ملاقات سے پہلے اور بعد میں بانی چیئر مین کی بگڑتی صحت اور جیل میں سہولیات کی عدم دستیابی کا ڈھنڈورہ پیٹا گیا ۔ اس جھوٹے پروپیگنڈے کے جواب میں اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی وضاحت سامنے آچکی ہے جس میں سابق وزیراعظم کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ لطیفہ یہ ہے کہ چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران سابق وزیر اعظم کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا۔جبکہ چند روز قبل تک ان کی جماعت کے ہر ترجمان اور سوشل میڈیائی حامیوں نے طرح طرح کے من گھڑت خدشات کا انبار لگا رکھا تھا۔
بعض شرپسندوں نے جیل میں زہر دیئے جانے کی جعلی خبر پھیلا کر ہیجان پھیلایا۔ اس فیک نیوز کی بنیاد پر عین ایس سی او کانفرنس کے موقع پر احتجاج کا اعلان کر کے قومی وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی۔ کیا ہی بہتر ہوتا اگر پی ٹی آئی کی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمان میں آئینی ترمیم کے حوالے سے موثر کردار ادا کر کے سیاسی طوفان سے بچ نکلنے کا راستہ بناتی۔ آئینی ترمیم کے بجائے تحریک انصاف نے اپنا سارا زور موجودہ چیف جسٹس کی کردار کشی اور اپنے بانی چیئرمین کی قصیدہ گوئی پر مرکوز رکھی ہے۔ عدم اعتماد تحریک میں ناکامی کے بعد بھی پی ٹی آئی نے پارلیمان سے راہ فرار اختیار کر کے احتجاج کو ترجیح دی تھی۔ آج بھی پارلیمان میں سیاسی کردار ادا کرنے کے بجائے الزا م تراشی، کردار کشی ، ہیجان انگیز بیان بازی اور اپنے قائد کی اندھی تقلید پر توجہ مرکوز کر کے تحریک انصاف اپنی سیاسی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے اور اپنے سنجیدہ مزاج حامیوں کو بھی مایوس کر رہی۔

یہ بھی پڑھیں