آئینی ترمیم پہ حکومتی اتحاد کا اطمینان دیدنی ہے ۔جشن کا سماں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض حضرات کی زندگی کا مقصد ہی 26ویں آئینی ترمیم منظور کروانا تھا ۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی صفوں میں سوگ کی سی کیفیت ہے۔ بیچاری تحریک انصاف عدلیہ کے غم میں گھل گھل کر بے حال ہوتی جارہی ہے۔ قانون اور سیاست کے طالب علم البتہ حیران و پریشان ہیں۔ علم سیاسیات کی کتابوں کے مطابق آئین ریاست کا نظام چلانے کے لیے بنا یا جاتا ہے ۔آئین میں ترامیم بھی اسی مقصد کے تحت کی جاتی ہیں کہ ریاستی امور اطمینان بخش انداز میں چلائے جا سکیں۔آئین سازی اور ترامیم کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ کسی مخصوص سیاسی جماعت، گروہ یا لیڈر کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے ۔پھر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی صفوں میں بالترتیب جشن اور سوگ کی کیفیت کیوں ہے؟ بات واضح ہے کہ عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی خواہش ہر دو جانب پائی جاتی ہے۔ یہ خواہش جب تک زندہ رہے گی تب تک آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔ جسٹس فائز عیسی رخصت ہوئے۔
نئے چیف جسٹس عدالت عظمی کے منصب جلیلہ کا حلف لے چکے ہیں ۔تحریک انصاف نے اپنے عہد اقتدار میں جس انداز میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کر کے قانونی جنگ چھیڑی وہ عدالتی تاریخ کا افسوسناک باب ہے ۔حسب روایت تحریک انصاف نے اس متنازعہ عدالتی مہم جوئی میں منہ کی کھائی ۔وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ فائز عیسی چیف جسٹس آف پاکستان بن گئے جبکہ تحریک انصاف اپنی سیاسی حماقتوں کے باعث اقتدار گنوا کر احتجاجی ہیجان کا شکار ہوتی چلی گء۔ تحریک انصاف نے حکومت میں رہتے ہوئے فائز عیسی کے چیف جسٹس آف پاکستان بننے کی راہ میں روڑے اٹکائے ۔اس غلطی کو بانی چیئرمین نے بعض انٹرویوز میں تسلیم بھی کیا ۔کاش کے مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد حکمران ریاستی اداروں کو سیاسی تناظوں میں نہ گھسیٹیں ۔اس حوالے سے ہماری سیاسی جماعتوں کی تاریخ قابل رشک نہیں ہے ۔گو موجودہ حکمران اتحاد حالیہ آئینی ترمیم کو عدلیہ سے متعلق درپیش مسائل کا حل قرار دے رہا ہے لیکن یہ خدشات برقرار ہیں کہ ججوں کی تقسیم حسب سابق عدالتی امور کو متاثر کرتے رہی گی۔
عدالت عظمیٰ سے ملنے والے بعض اشارے ان خدشات کو تقویت دے رہے ہیں ۔جسٹس فائز عیسیٰ کے الوداعی ریفرنس کے موقع پر جس طرح بعض ججوں نے اپنے مخالفانہ جذبات کا اظہار کیا وہ ہرگز لائق تحسین نہیں ۔ اس طرز عمل سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے جج صاحبان سیاسی تعصبات کی بنیاد پہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ ترقی او ر تبادلوں کے حوالے سے ماضی کے گڑے مردے اکھاڑے جارہے ہیں۔ بہت سے کالم نگار اور تجزیہ نگار یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ چھ برس قبل چیف جسٹس ثاقب نثار نے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس یحییٰ آفریدی پر سندھ ہائیکورٹ کے ایک جج کو ترجیح دے کر سپریم کورٹ میں ترقی دی ۔ اس ناانصافی کا واحد مقصد یہی دکھائی دیتا تھا کہ من پسند جج مستقبل میں جناب یحیی آفریدی سے پہلے چیف جسٹس کے منصب تک پہنچ سکے۔ قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ سیاسی نشیب و فراز کی بدولت 26ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد اب یحییٰ آفرید ی چیف جسٹس کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ ان کی شہرت بہت مثبت ہے۔ قانونی حلقے انہیں سیاسی جانبداری سے پاک سمجھتے ہیں ۔ ماضی میں ترقی کے حوالے سے کی جانے والی واضح ناانصافی کے باوجود جسٹس یحیی آفریدی نے پیشہ ورانہ دیانت ، سیاسی غیر جانبداری اور اعلی عدالتی روایات کا دامن تھامے رکھا ۔ بعض ناقدین سینیارٹی کی بنیاد پر ججز کی ترقی کے مطالبے پر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ آئینی ترمیم میں آنکھیں بند کر کے سب سے سینئیر جج کو ترقی دینے کے بجائے پہلے تین ججوں میں سے موزوں ترین جج کو ترقی دینے کا اصول وضع کیا گیا ہے۔ بعض حضرات بلاوجہ ججوں کی ترقی کے معاملے کا موازنہ عسکری ترقیوں کے نظام سے کر رہے ہیں۔ یہ دلچسپ نکتہ قابل غو ر ہے کہ عسکری افسران کے معاملے میں بھی آنکھیں بند کر کے سب سے سینئر افسر کو ترقی نہیں دی جاتی بلکہ ایک مربوط اور شفاف نظام کے تحت حتمی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ماضی میں سینیارٹی لسٹ میں چوتھے اور پانچویں نمبر والے افسر کو بھی ترقی دے کر اعلی ترین عسکری مناصب پر فائز کیا جا چکا ہے۔ حیرت ہے کہ بعض عناصر بلا سوچے سمجھے ججوں کی ترقی کے معاملے میں عسکری نظام کے حوالے دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے یہ پہلو بھی موضوع بحث بن رہا ہے کہ جو سینئر جج صاحبان سینیارٹی لسٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی سے اوپر ہونے کے باوجود ترقی نہیں پاسکے انہیں مستعفی ہو جانا چاہیئے۔
مسلح افواج میں یہ روایت قائم ہے۔ گو عدلیہ کا نظام بہت مختلف ہے لیکن یہ کہا جارہا ہے کہ جج صاحبان کی سیاسی جانبداری اور بعض مقدمات میں معنی خیز تحرک ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ ترقی سے محروم رہ جانے والے جج صاحبان اگر مستعفی ہو جائیں تو انہیں مستقبل میں اچھے لفظوں سے یاد کیا جائے گا۔ تاہم اس کا امکا ن کم دکھائی دیتا ہے۔ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر یکے بعد دیگرے وضاحتیں جاری کرنے والے بنچ کی جانب سے تلخ بیانات اور مکتوبات کے نئے سلسلے نے عدالتی محاذ آرائی کا منفی تاثر مزید گہرا کیا ہے۔ منقسم عدالت عظمیٰ سیاسی تنازعات میں الجھی رہی تو انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہو پائیں گے؟ بلاشبہ عدلیہ میں سرائیت کر جانے والی سیاست زدہ محاذ آرائی نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے۔