حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محنت انسان کی روح، قلب اور نفس پر ہوتی ہے اور وہ انسان کی اخلاقی، دینی اور روحانی تربیت کر کے اسے انسانی معاشرے کا ایک اچھا فرد بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصلاحِ نفس تصوف و سلوک کی دنیا کا سب سے بڑا محاذ ہے اور یہ ہر دور میں انسانی معاشرے کی اہم ضرورت رہا ہے۔ آج کی یہ مجلس بھی اسی حوالہ سے ہے اس لیے میں اپنی اصلاح کے لیے اور آپ حضرات کو توجہ دلانے کے لیے معاشرے کی ایک اہم خرابی اور انسانی اخلاقیات کی ایک بڑی بیماری کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ ہے خواہ مخواہ بدگمانی کرنا اور سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر آگے چلا دینا۔ ان دونوں باتوں سے معاشرے میں فساد پھیلتا ہے، جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔ یہ بیماریاں ہمارے معاشرے میں ہر دور میں رہی ہیں اور آج بھی موجود ہیں بلکہ بڑھتی جا رہی ہیں لیکن دو حوالوں سے آج ان کا تذکرہ آج بطور خاص کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ بدگمانی اور سنی سنائی بات کو پھیلانا پہلے بھی موجود رہا ہے لیکن اب ان کا دائرہ اس لحاظ سے زیادہ پھیل رہا ہے کہ میسج سسٹم اور پٹی سسٹم نے بات کو پھیلانے کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ نجی دائرے میں موبائل میسج سسٹم اور اجتماعی ماحول میں ٹی وی کے پٹی سسٹم نے ابلاغ کے امکانات بہت سے زیادہ پھیلا دیا ہے، اس لیے ان معاشرتی خرابیوں کے نقصانات اور تباہ کاریوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک شخص کو موبائل پر کوئی میسج موصول ہوا ہے تو اس نے یہ نہیں دیکھنا کہ اس میں بتائی گئی بات درست بھی ہے یا نہیں، بلکہ اگر بات اس کے مزاج اور ذوق کے مطابق ہے تو اس نے کسی تحقیق اور سوچ بچار کے بغیر اسے آگے بیس تیس افراد کو بھجوا دینا ہے، اور پھر اس سے آگے سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اسی طرح کسی ٹی وی چینل کے نیوز ایڈیٹر کے پاس کوئی خبر آئی ہے تو وہ یہ تحقیق کیے بغیر کہ اس خبر کی حقیقت کیا ہے، اسے پٹی کی صورت میں چلا دے گا جس سے وہ خبر ملک بھر میں بلکہ بسا اوقات دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے اور کئی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک پٹی ٹی وی پر چلی ہے اور اس پر بہت کچھ ہو گیا ہے بعد میں پتہ چلا یہ کہ خبر درست نہیں تھی (یا حقیقت میں بات کچھ اور تھی)۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں پاکستان میں بدگمانی، الزام تراشی، سنی سنائی باتوں کو پھیلانے اور جھوٹ کو عام کرنے کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ میں انتخابات کو جھوٹ، بہتان طرازی، الزام تراشی اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کے کاروبار کا سیزن کہتا ہوں۔ ہر کاروبار کا کوئی نہ کوئی سیزن ہوتا ہے اسی طرح اس کاروبار کا بھی سیزن ہے۔ جیسے رمضان المبارک نیکیوں کا سیزن ہے، رحمتوں کا سیزن ہے اور برکتوں کا سیزن ہے، اسی طرح الیکشن اور انتخابی مہم باہمی الزام تراشیوں کا سیزن ہے، جھوٹ اور بہتان کا سیزن ہے اور ایک دوسرے کو بدنام کرنے کا سیزن ہے۔اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حوالہ سے اسلامی تعلیمات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و اسوۂ سے راہنمائی کی کچھ باتیں عرض کر دی جائیں اور اس سلسلہ میں چند واقعاتی جھلکیاں آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔بخاری شریف کی روایت ہے، امیر المؤمنین حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبویؐ سے فاصلہ پر مدینہ منورہ کے بلائی علاقے میں رہائش پذیر تھا، میرے پڑوس میں ایک انصاری صحابیؓ رہتے تھے، ہم دونوں نے آپس میں باری تقسیم کر رکھی تھی، ایک دن وہ اپنے کام کاج میں جاتے تھے اور میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسجد نبوی میں حاضری دیتا تھا اور شام کو واپس آ کر اس انصاری صحابیؓ کو دن بھر کے واقعات اور حضور علیہ السلام کے ارشادات و ہدایات سے آگاہ کر دیتا تھا۔ جبکہ دوسرے روز میں اپنے کاروبار میں جاتا تھا اور وہ مسجد نبویؐ میں حاضری دے کر شام کو مجھے اس دن کے واقعات بتا دیتا تھا۔ اس طرح ہم اپنا کام کاج بھی کر لیتے تھے اور جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضری کا تسلسل بھی قائم رہتا تھا۔ ایک دن شام کو میرے وہ پڑوسی واپس آئے اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ آواز بھی دیتے جاتے تھے کہ ’’اثم ھو أنا ئم ھو؟‘‘ کیا وہ اندر ہے؟ کیا وہ سو تو نہیں گیا؟ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں میں گھبرایا ہوا باہر نکلا، ان دنوں ہمیں خبریں مل رہی تھیں کہ غسانی قبیلہ کے لوگ مدینہ منورہ پر حملے کی تیاریاں کر رہے ہیں، میں نے دروازہ کھولتے ہی پوچھا، ’’أجاء الغسان؟‘‘ کیا غسانی قبیلے نے حملہ کر دیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا حادثہ ہو گیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔
یہ واقعتاً ایک بڑے حادثے کی خبر تھی اور میرے لیے یہ دوہرا حادثہ تھا کہ ان ازواج میں میری بیٹی حضرت حفصہؓ بھی تھیں۔ بڑی مشکل سے رات گزاری، صبح میں سب سے پہلے بیٹی کے گھر گیا، وہ اپنے حجرے میں بیٹھی رو رہی تھیں، میں نے پوچھا کیا نبی اکرمؐ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اکرمؐ اپنے بالا خانے میں بیٹھے ہیں اور ناراض ضرور ہیں مگر یہ معلوم نہیں کہ طلاق دے دی ہے یا نہیں؟حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں مسجد میں گیا تو وہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی اور منبر کے اردگرد بیٹھے لوگ رو رہے تھے جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے میں تھے، دروازہ بند تھا اور باہر ایک خادم بیٹھا تھا۔ میں نے اس خادم سے عرض کیا کہ اندر جا کر عرض کرو کہ عمرؓ آیا ہے، اس نے جا کر عرض کیا اور واپس آ کر بتایا کہ آپؐ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں مسجد میں جا کر منبر کے پاس بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں بے چینی بڑھی تو پھر میں نے خادم سے کہا وہ اندر گیا اور باہر آ کر کہا کہ حضورؐ نے خاموشی اختیار فرمائی ہے۔ تین بار ایسا ہوا کہ خادم نے میرے لیے اجازت طلب کی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا۔ میں پھر آ کر منبر کے پاس بیٹھ گیا، اتنے میں اس خادم نے آ کر کہا حضورؐ آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں حجرے میں گیا تو نبی اکرمؐ ایک تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے آرام فرما رہے تھے، میں نے سلام عرض کیا اور کھڑے کھڑے سوال کیا کہ ’’أطلقت نسائک؟‘‘ کیا آپ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟ نبی کریمؐ نے فرمایا ’’لا‘‘۔ میں نے وہیں سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور لوگوں کو بتایا کہ یہ خبر غلط ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو طلاق دے دی ہے، پھر میں نے آپؐ سے کچھ اور باتیں بھی کہیں۔
( جاری ہے )