مولانا سمیع الحق شہید سچے عاشق رسول ﷺ ، تحفظ ناموس رسالت اور وطن عزیز پاکستان کے عظیم پاسبان تھے،انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام کی بالادستی و دفاع پاکستان کے لئے جدوجہد میں گزار ی، انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کی شہادت کو چھ برس مکمل ہو جانے کے باوجود بھی ریاستی ادارے ان کے قاتلوں کو گرفتار نہ کر سکے۔عمران خان کی حکومت کا سورج جب نصف النہار پر تھا،83 سالہ بزرگ و جئید عالم دین اور ممتاز سیاستدان مولانا سمیع الحق کو درندہ صفت دہشت گردوں نے انتہائی ظالمانہ انداز میں خنجروں اور چھریوں کے پے درپے وار کر کے مار ڈالا، 2نومبر 2018ء کی سرد شام یعنی مغرب کے بعد یہ خاکسار اپنے اسلام آباد اوصاف آفس سے مولانا قاری سہیل عباسی ودیگر ساتھیوں کے ساتھ ہسپتال میں موجود حضرت کی ڈیڈ باڈی کو دیکھنے پہنچا تو حضرت کا نا تواں جسم چھریوں اور خنجروں کے واروں سے زخموں سے چور چور تھا،مولانا سمیع الحق کے چہرے پر چھائے ہوئے مظلومیت کے بادل آج تک میرے قلب و ذہن میں محفوظ ہیں،جس وقت جئیداور نامور شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق کا جسم اپنے ہی لہو میں تر بتر تھا،عین اس وقت عمران خانی حکومت عدلیہ کی سہولت کاری اور اور اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں ایک ثابت شدہ گستاخ ملعونہ آسیہ مسیح کو ملک سے فرار کروا کر یورپ کی گود میں ڈالنے کے انتہائی اہم کام میں مصروف تھی، اور جا ننے والے جانتے ہیں کہ دارالعلوم حقانیہ کا یہ بوڑھا شیر، عمران خانی حکومت کو اس منحوس اور قابل نفرت کام سے روکنا چاہتا تھا۔مجھے نہیں پتہ کہ شیخ الحدیث مولانا انوار الحق حقانی اور مولانا حامد الحق کی سوچ کیا ہے،لیکن دو اور دو چار کی طرح یہ بات بڑی واضح ہے کہ اگر چوکیدار چوروں سے نہ ملے ہوں تو گھر لٹنے سے بچ جاتا ہے،ایک اسلامی ملک میں مولانا سمیع الحق کی طرح کے دو چار،چھ نہیں بلکہ سینکڑوں جئید علما و مشائخ کا خون بہایا جا چکا،مگر ان کے قاتل کون تھے؟ یہ راز آج تک کوئی نہ جان سکا،اس ملک کے اداروں نے دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے کتنے علماء کے قاتلوں کو گرفتار کیا؟
ملک کی عدالتوں نے جیئد علماء کے کتنے قاتلوں کو سزائیں سنائیں ،اگر کسی حکومتی ترجمان کے پاس ان سوالوں کا جواب ہو تو اسے چاہیے کہ وہ قوم کو ضرور بتائے، مولانا سمیع الحق شہید تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے ایسے جرنیل تھے کہ جو گستاخان رسول کے خلاف جاری جدوجہد میں ہمیشہ ہماری سرپرستی کرتے رہے۔ اس خاکسار کو درجنوں بار ان کی محفلیں نصیب ہوئیں،کبھی جامعہ حقانیہ کبھی اسلام آباد ،اور کبھی کراچی میں وہ جہاں ملے، انہوں نے شفقتوں کی انتہا کر دی’’آہ‘‘ وہ صرف تمام دینی تحریکوں یا دینی مدارس کے لئے ہی نہیں، بلکہ حکومتوں، سیاست دانوں ،تاجروں، جہادیوں اور ریٹائرڈ جرنیلوں میں موجود اسلام پسندوں کے لئے بھی شجر سایہ دار تھے، اس خاکسار نے انہیں آئی ایس آئی کے سابق چیف ملت کی آبرو جرنل حمید گل مرحوم کے ساتھ کھڑے ہو کر کبھی سویت یونین کی غنڈہ گردی اور کبھی افغانستان اور پاکستان کے خلاف امریکی اور بھارتی بدمعاشیوں کے خلاف جدو جہد کرتے ہوئے دیکھا ،وہ عالم اسلام کی نابغہ روزگار شخصیت تھے،صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمان ممالک کے علمی حلقوں میں ان کا نہایت اونچا مقام تھا، وہ صیہونی صلیبی ہندو اور ان کے پاکستانی راتب خور وں کی آنکھوں میں کا نٹے کی طرح چبھتے تھے، وہ سوویت یونین اور امریکہ کے انسانیت کش عزائم کے خلاف سینہ سپر رہے، مولانا سمیع الحق بحریہ ٹان راولپنڈی میں واقع اپنے ہی گھر میں درندہ صفت سفاک قاتلوں کے خنجروں کے پے در پے حملوں سے گھائل ہو کر جام شہادت نوش کر گئے بجھا چراغ اٹھی بزم کھل کے رو اے دل وہ سب ہیں چل بسے جنہیں عادت تھی مسکرانے کی مولانا سمیع الحق تین ستمبر 1936 ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے ۔آپ نے اپنے والد محترم شیخ الحدیث مولانا عبد الحق نور اللہ مرقدہ کے قائم کردہ تعلیم القران پرائمری سکول سے تعلیم کا آغاز کیا۔
ابتدائی درجات سے دورہ حدیث شریف تک مکمل تعلیم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے ہی حاصل کی۔البتہ 1958ء میں مولانا عبدالحق نے اپنے ہونہار فرزند ارجمند مولانا سمیع الحق کو دورہ تفسیر قران کریم کے لیے رشد و ہدایت کیعظیم مخزن ومرکز شیرانوالہ دروازہ لاہور بھیجا، جہاں فکر ولی اللہ کے شارح۔شیخ الہند مولانا محمود حسن اور امام انقلاب مولانا سندھی کے مشن اور شعور و ذوق کے پاسدار افتاب ولایت امام الاولیا شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری کا ٹھاٹھیں مارتا چشمہ فیض تشنگان علوم قرانیہ کی پیاس بجھا رہا تھا، مولانا سمیع الحق نے علم و عرفان کے اس بحر بے کراں سے خوب سیرابی حاصل کی۔آپ نے اپنے استاد حضرت امام لاہوری کے درسی اسباق کو پوری توجہ اور لگن سے قلم بند کرنے کو معمول بنالیا، اور وقتاً فوقتاً حضرت امام لاہوری کو درسی امالی کا رجسٹر دکھاکر دعائیں لیتے۔ایک بار حضرت امام لاہوری نے خوش ہو کر مزاحیہ انداز میں فرمایا سمیع الحق ۔مال ھذا الکتب لایغادر صغیر ولاکبیر۔ایک دن خطیب الامت امیر شریعت حضرت سید عطا اللہ شاہ بخاری تشریف لائے تو حضرت امام لاہوری نے حضرت امیر شریعت سے فرمایا کہ شیخ الحدیث مولانا عبدالحق نے مجھ پر احسان فرمایا کہ اپنے لائق ترین فرزند سمیع الحق کو یہاں بھیجا۔ وہ میرا پورا درس نہایت مستعدی سے قلم بند کر لیتا ہے۔ (جاری ہے)