Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

ابلاغیات اور ہماری اخلاقی ذمہ داریاں

(گزشتہ سے پیوستہ)
مسلم شریف کی روایت کے مطابق حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے کہ جب لوگوں کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں، اگر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کریں تو تحقیق و استنباط والے حضرات اس خبر کی حقیقت کو معلوم کریں۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ ’’أنا استنبطت‘‘ میں نے اس خبر کی تحقیق کی اور لوگوں کو بتایا کہ خبر درست نہیں ہے۔ اس لیے قرآن کریم کی ہدایت ہے کہ کسی خبر کو آگے چلانے سے پہلے اس کی تحقیق کرنی چاہیے۔قرآن کریم میں ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جس کا تذکرہ بخاری شریف میں موجود ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو مصطلق سے زکوٰۃ و عشرہ وغیرہ وصول کرنے کے لیے حضرت ولید بن عقبہؓ کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ وہاں لوگوں کو پتہ چلا تو وہ اپنی روایات کے مطابق ہتھیار بند ہو کر باہر استقبال کے لیے نکلے، ولید بن عقبہؓ نے انہیں ہتھیار سنبھالے ہوئے دور سے دیکھا تو غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ شاید یہ مجھے قتل کرنے کے لیے کھڑے ہیں، وہ انہیں دیکھتے ہی واپس پلٹ گئے اور مدینہ منورہ جا کر لوگوں سے کہا کہ وہ مجھے قتل کرنے لگے تھے میں جان بچا کر وہاں سے آگیا ہوں۔ مدینہ منورہ میں کہرام مچ گیا اور بنو مصطلق سے اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے ٹولیاں تیار ہونے لگیں۔ اتنے میں قبیلے کے سردار حضرت حارث بن ضرارؓ جو نبی کریمؐ کے خُسر بزرگوار اور ام المؤمنین حضرت جویریہؓ کے والد محترم تھے، ایک وفد کے ہمراہ یہ معلوم کرنے کے لیے مدینے پہنچے کہ آنحضرتؐ کا نمائندہ ہمیں دیکھ کر واپس کیوں آگیا ہے؟ ان کے آنے سے یہ حقیقت کھلی کہ حضرت ولید بن عقبہؓ کو مغالطہ ہوا تھا۔ اس پر سورۃ الحجرات کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ’’ اے ایمان والو! جب اس قسم کی کوئی خبر آئے تو تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم بے خبری میں کسی قوم کے خلاف کاروائی کر بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر تمہیں خود ندامت ہو۔‘‘قرآن کریم کے ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ کسی بھی خبر کو پھیلانے سے قبل یہ ضروری ہے کہ اس کی تحقیق کر لی جائے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی عرض کرنا چاہوں گا کہ خبر کی صرف تصدیق کر لینا کافی نہیں ہے اور خبر کو عام کرنے کے لیے صرف اس کا صحیح ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس خبر کی اشاعت معاشرے میں خرابی اور نقصان کا باعث تو نہیں ہوگی؟بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب ایک یہودی لبید بن اعصم نے جادو کیا اور اس کے اثرات بھی بعض معاملات میں محسوس ہونے لگے تو اللہ رب العزت نے خواب کے ذریعہ آپؐ کو اس سے آگاہ فرمایا کہ لبید بن اعصم نے کنگھی اور بالوں کے ایک گچھے پر جادو کر کے اسے بیرذی اروان میں چھپا دیا ہے۔ نبی کریمؐ چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاں گئے، کنگھی اور بالوں کا گچھا برآمد کیا اور وہیں کسی جگہ دفن کر دیا۔ واپسی پر ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو سارا واقعہ بتایا تو انہوں نے پوچھا کہ ’’ھلا انتشرت؟ ھلا استخرجت؟‘‘ آپ اس کو وہیں دفن کیوں کر آئے ہیں، اسے نکال کر لوگوں کو دکھا یا کیوں نہیں؟ حضورؐ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس جادو کے شر سے بچا لیا ہے اور ’’خشیت أن أثور علیہم شرًا‘‘ مجھے خدشہ ہوا کہ میں اس کو عام کر کے کہیں لوگوں میں شر نہ ابھار دوں اس لیے میں نے اسے وہیں دفن کر دیا ہے۔
یہ خبر بالکل درست تھی اور وحی کے ذریعے معلوم ہوئی تھی، واردات جناب رسول اللہ کے ساتھ ہوئی تھی جو پکڑی گئی تھی، امر واردات بھی برآمد ہو گیا تھا، اور ملزم بلکہ مجرم کی نشاندہی بھی ہو گئی تھی۔ آج کا دور ہوتا تو تین چار دن تک پٹیاں اور میسج چلتے رہتے لیکن جناب نبی اکرمؐ نے معاشرے میں شر اور فساد پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر اسے وہیں دبا دیا۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ کسی خبر کو نشر کرنے کے لیے صرف اس کا صحیح ہونا کافی نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سوسائٹی پر اس خبر کے اثرات کیا مرتب ہوں گے؟ اگر اس سے شر اور فساد پھیلنے کا خدشہ ہو تو اسے دبا دینا اور عام نہ کرنا ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔اسی طرح ایک دوسرے کے بارے میں بلا وجہ بدگمانی کرنا بھی درست نہیں ہے۔ ایک انصاری صحابی حضرت عتبان بن مالکؓ اپنے قبیلہ کی مسجد کے امام تھے، ایک دفعہ حضورؐ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں اپنے محلہ کی مسجد کا امام ہوں، میرا گھر وادی کے ایک جانب ہے جبکہ مسجد دوسری طرف ہے، میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اسے گھر میں مصلیٰ بنا لوں اور بوقت ضرورت وہاں نماز پڑھ لیا کروں۔جناب نبی اکرمؐ حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ ان کے گھر تشریف لے گئے اور گھر میں ایک جگہ نماز پڑھائی جسے انہوں نے مسجد بیت بنا لیا۔ اس موقع پر آپؐ کی تشریف آوری کی خبر ملنے پر قبیلہ کے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور تھوڑی دیر میں ان کا گھر لوگوں سے بھر گیا۔ وہاں ایک بدری صحابی حضرت مالک بن دخشنؓ بھی قریب رہتے تھے، وہ نہیں آ سکے۔ کسی نے پوچھا کہ مالک بن دخشنؓ کیوں نہیں آئے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ چھوڑو وہ منافق ہے اس لیے نہیں آیا۔ یہ بھی ہمارا معاشرتی مزاج بن گیا ہے کہ چار دوست اکٹھے ہوں اور کوئی صاحب غیر حاضر ہو تو وہ نہ صرف موضوع بحث بن جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہم لوگ جو حشر کرتے ہیں وہ قابل رحم ہوتا ہے۔ مالک بن دخشنؓ کے بارے میں تبصرے ہوئے حضورؐ نے ٹوک دیا کہ ایسی باتیں نہ کرو۔ آپؐ کے ٹوکنے پر بھی بعض حضرات نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کا میل جول منافقوں کے ساتھ زیادہ ہے اسی وجہ سے وہ نہیں آیا ورنہ آپؐ ہمارے محلہ میں تشریف لائے ہیں تو وہ کیوں نہیں آیا؟ آپؐ نے اس طرز عمل پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کہا کہ کسی مسلمان بھائی کے لیے ایسی باتیں مت کیا کرو اور وہ تو پھر بدری صحابی ہے۔حضرات محترم! یہ باتیں ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہیں اور ہمارے کلچر کا حصہ بن گئی ہیں حالانکہ یہ سب باتیں شرعاً کبیرہ گناہ کے درجے کی باتیں ہیں مگر ہم سرے سے انہیں گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ اور چونکہ ان باتوں کا سیزن شروع ہو گیا ہے۔ہمارے ماحول میں ہر طرف انہی باتوں کا چلن عام ہو گیا ہے، اس لیے میں نے اپنی اصلاح کے لیے اور آپ دوستوں کو یاددہانی کے لیے چند باتیں عرض کر دی ہیں۔اس کے ساتھ ایک اور بات بھی عرض کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹی خبر عام کرنے والوں کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی بھی ہم سب کے پیش نظر رہنا چاہیے جو بخاری شریف میں موجود ہے کہ ایک خواب میں یا معراج کے سفر میں حضورؐ کو آخرت میں کچھ لوگوں کو عذاب دیے جانے کے مناظر دکھائے گئے جس میں سے ایک منظر یہ ہے کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے اور دوسرا شخص درانتی لیے اس کے سر پر کھڑا ہے۔ وہ درانتی سے اس کی باچھ کو گدی تک چیر دیتا ہے، پھر دوسری طرف آ کر دوسری باچھ کو چیرتا ہے تو پہلی ٹھیک ہو جاتی ہے، وہ اسے پھر سے چیر دیتا ہے اور اس طرح باری باری اس کی باچھوں کو چیرتا رہتا ہے۔ فرشتوں نے جناب نبی اکرمؐ کے استفسار پر بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جو جھوٹ کی بات کرتا تھا اور اسے دنیا کے کناروں تک پہنچا دیتا تھا۔ جھوٹ بول کر اسے دنیا کے کناروں تک پہنچا دینے کی بات شاید آج سے ایک صدی قبل تک لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی ہو لیکن آج یہ منظر ہم شب و روز دیکھتے ہیں کہ ایک چھوٹی خبر کی پٹی چلتی ہے اور آناً فاناً دنیا کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے، بسا اوقات جس شہر کے بارے میں بات ہو اس شہر کے لوگوں کو بعد میں پتہ چلتا ہے لیکن امریکہ، روس اور برطانیہ تک خبر پہلے پہنچ جاتی ہے۔ یہ وبا پھیلتی جا رہی ہے اور اس کے نقصانات بڑھ رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

یہ بھی پڑھیں