(گزشتہ سے پیوستہ)
اس دوران مولاناسمیع الحق نے اپنے عظیم استاذ ومربی وشیخ کے دست حق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی ،اور خصوصی توجہات دعاں اور شفقتوں سے وافر حصہ پایا۔1960ء میں مولانا سمیع الحق کا دارالعلوم حقانیہ میں بطور مدرس تقرر ہوا۔آپ نے اکتوبر2018 ء تک ابتدائی درجات سے دورہ حدیث شریف تک اکثر کتب کی تدریس فرمائی 50 سال تک بحیثیت شیخ الحدیث مسند حدیث کو رونق بخشی۔30 سالہ دور اہتمام میں دارالعلوم کو جہاں بے مثال تعلیمی وتحقیقی وتصنیفی بلندیوں پرفائز کیا، وہیں جامعہ میں شاندار و خوبصورت تعمیرات بھی کروائیں ۔بلاشبہ مولانا سمیع الحق کا وجود امت کے لیے سراپا خیر اور فیض رساں تھا، آپ نے 1965ء میں اکوڑہ خٹک سے ماہنامہ الحق کا اجرا کیا۔وہ معرکہ ارائیاں اور صحافتی کارنامیسرانجام دیئے کہ حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی مہتمم دارالعلوم دیوبند ۔شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندہلوی ۔حضرت میاں عبدالہادی دین پوری ۔مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ،حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی، حضرت علامہ محمد یوسف بنوری۔تحریک پاکستان کے عظیم راہنما مولانا ظفر احمد عثمانی،مولانا سید ابو الحسن علی ندوی،مولانا عبدالماجد دریا ابادی،مولانا غلام غوث ہزاروی ،جانشین شیخ التفسیر مولانا عبید اللہ انور،مولانا علامہ شمس الحق افغانی،مولانا مفتی محمود،حضرت خواجہ خان محمد جیسا اساطین علم واولیائے امت مولانا سمیع الحق کی خداداد علمی وصحافتی صلاحیتوں کے نکھار پر دعائوں اور مسرتوں کے اظہار کے ساتھ رطب اللسان رہے،تو دوسری طرف شاعر اسلام حفیظ جالندھری نعیم صدیقی، شورش کاشمیری ،عبادت بریلوی ،مجیدنظامی،مصطفی صادق عبدالقادرحسن،زیڈ اے سلہری، پروفیسر حسن عسکری ،عرفان احمد صدیقی، الطاف حسین مجیب الرحمن شامی جیسے نقاد ادیب و انشا پرداز آپ کے قلمی بانکپن وادبی جولانیوں کودادتحسین پیش کرتے نظر آتے ہیں۔آپ نے 50سال تک ماہنامہ الحق کے ایڈیٹر اور مدیر کے طور پر جو صحافتی خدمات سر انجام دی ہیں وہ پاکستان کی مذہبی سیاسی صحافتی اور ادبی تاریخ کا ایک عظیم قومی ورثہ ہے۔
آپ کی پارلیمانی خدمات پر محض اجمالی نظر ڈالی جائے تو1973ء کے دستور کی تشکیل اور1974 ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی بحث کے دوران مولانا مفتی تقی عثمانی اور مولانا سمیع الحق شہید نے ملت اسلامیہ کا متفقہ موقف تحریر کیا، جسے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود نے قومی اسمبلی کے فلور پر پڑھ کر سنایا جس کے بعد اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔1982ء میں جنرل ضیا الحق شہید نے مولانا سمیع الحق کو مجلس شوری فیڈرل کونسل کا رکن مقرر کیا، آپ نے 11 جنوری 1982 ء کو وفاقی مجلس شوریٰ کے پہلے ہی اجلاس میں ملکی قانون ۔عدالتی نظام، نظام معیشت،نظام تعلیم ،ذرائع ابلاغ اور اصلاح معاشرہ کے حوالے سے ٹھوس تجاویز دیں، اور 14نکاتی لائحہ عمل پیش کیا ۔مولانا سمیع الحق نے فیڈرل کونسل میں اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ مل کر 1982ء تا1985ء وفاقی شوریٰ فیڈرل کونسل میں بڑی حکمت و بصیرت ایمانی فراست اور پامردی سے نفاذ اسلام کی جدوجہد جاری رکھی اور جنرل ضیاء الحق شہید سے بہت سے اسلامی اقدا مات منوائے، جن میں توہین رسالت ایکٹ،حدود آرڈیننس۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس شامل ہیں جو آٹھویں آئینی ترمیم کا حصہ بن گئے، جن پر عالم کفر اور لبرل و بے دین طبقات آج تک تلملا رہے ہیں۔ 1985 ء میں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبداللطیف ایوان بالا سینٹ کے رکن منتخب ہوئے تو ان دونوں حضرات نے وقت ضائع کیے بغیر ملک سے فرسودہ و بے ثمر انگریزی نظام کے خاتمے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے شریعت بل کا مسودہ پیش کیا اور پانچ سال تک ایوان بالا سینٹ میں اس بل پر طویل بحثیں ہوتی رہیں غور و خوض کے لیے کمیٹیاں بنتی رہیں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبداللطیف نفاذ شریعت کے حق میں دلائل و براہین کے انبار لگاتے رہے اور مولانا عبدالحق کی قیادت قومی اسمبلی کے ارکان اور تمام مسالک کے سر کردہ علما پر مشتمل متحدہ شریعت محاذ عوامی جدوجہد کے ذریعے شریعت بل کے حق میں سرگرم عمل رہے۔ بالاخر 13 مئی 1990ء کو سینٹ اف پاکستان نے متفقہ طور پر شریعت بل کو منظور کر لیا اور اسے نفاذ شریعت ایکٹ 1990 ء کا نام دیا گیا۔ شریعت بل کے اہم نکات یہ تھے کہ ملک کی عدالتیں شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلے کریں گی علماء و مفتیان کرام جج اور عدالتی معاون مقرر کیا جائے گا، وفاقی شرعی عدالت میں سرکردہ مفتیان کرام کا تقرر کیا جائے گا، معیشت کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلایا جائے گا، سودی نظام کا فوری ختم کیا جائے گا۔
ذرائع ابلاغ کو اسلامی اقدار کو فروغ دینے کا پابند بنایا جائے گا ،شریعت بل کی تحریک کے دوران اسلامیان پاکستان کی اکثریت شریعت کے نفاذ کے لیے دعا گو سرگرم اور پرجوش تھی، لیکن سیکولر، لبرلز بے دین مغربی تہذیب کے دلدادہ این جی اوز اور ملحد طبقات شریعت کے نفاذ کا راستہ روکنے کے لیے برسر پیکار رہے، مولانا سمیع الحق تین بار ایوان بالاسینٹ کے رکن رہے۔ 1994ء میں مولانا سمیع الحق نے ایوان بالاسینٹ میں تحفظ ناموس صحابہ و اہل بیت بل پیش کیا ۔نفاذشریعت۔تحفظ ناموس رسالت۔تحفظ ناموس صحابہؓ ۔دفاع مدارس دینیہ۔دفاع واستحکام پاکستان کے لیے ایوان بالا میں مولانا سمیع الحق کی شاندار خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ دلائل و براہین سے مرصع۔ حکمت و موعظت سے لبریز ایوان بالا میں آپ کے خطابات علمی جلالت اور رسوخ فی العلم کاعظیم شاہکار ہیں۔1988میں بے نظیر بھٹو کی حکومت قائم ہوئی تو مولانا سمیع الحق نے عورت کی حکمرانی کوغیر شرعی قرار دے کر اسے سقوطِ ڈھاکہ اور سقوط بغداد سے بڑا المیہ قرار دیا۔27 نومبر 88کو جمعیت علما اسلام کی مجلس شوریٰ نے جامعہ فرقانیہ راولپنڈی میں منعقدہ اجلاس میں متفقہ طور پر عورت کی حکمرانی کو شرعا ناجائز قرار دیا۔مولانا سمیع الحق کیعورت کی حکمرانی کی شرعی حوالے سے مخالفت پر وفاقی وزیر قانون افتخار گیلانی نے اشتعال انگیز اور توہین امیز لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ آئین کی آرٹیکل 6کے تحت آپ کو غداری اور پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔چنانچہ مولانا سمیع الحق نے عورت کی حکمرانی عذاب الٰہی کی نشانی کا سلوگن اختیار کر کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ اکابر علماء پر مشتمل متحدہ علماء کونسل کی داغ بیل ڈالی اور جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی میں ملک گیر علماء کنونشن منعقد کر کے ملک بھر میں نسوانی حکومت کے غیر شرعی ہونے کی جدوجہد شروع کر دی۔
15 اکتوبر 1993ء کو دوبارہ وزیراعظم بننے سے قبل بے نظیر بھٹو مولانا سمیع الحق کی رہائش کا واقعہ گلشن جناح اسلام آباد تشریف لائیں اور عورت کی حکمرانی کے مسئلے پر اپ کے خیالات جاننا چاہے تو مولانا سمیع الحق نے کہا کہ محترمہ یہ آپ کی ذات کا مسئلہ نہیں اگر خاتون مولانا مفتی محمود مولانا عبدالحق یا میری بیٹی بھی ہو تو اس کے بارے میں بھی موقف اور مسئلہ یہی رہے گا کہ اسلام کی رو سے عورت حکمران نہیں بن سکتی، باقی قوم جو بھی فیصلے کرے ہم تو شرعی مسئلہ سمجھانے اور بتانے کے پابند ہیں۔مولانا سمیع الحق جس بات کو حق سمجھتے نہایت جرات وپامردی سے اس کااظہار کرتے ۔وہ کبھی بھی کسی خوف و وحشت دھونس ودھمکی کو خاطرمیں نہ لاتے تھے،وہ اس شعر کا حقیقی مصداق تھے۔
ہواہے گو تندوتیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مرد حق جسے قدرت نے دیئے ہیں انداز خسروانہ