Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

’’تلوار ‘‘ نبی السیف ﷺکے اخلاق کا حصہ

اللہ ظلم نہیں کرتا لوگ خود کرتے ہیں،ملک کو نفرتوں سے بچانے کیلئے دعا سب سے بڑا میزائل ہے، رائیونڈ سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ آہوں، سسکیوں اوررقت آمیز دعاکے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، اختتامی دعامولانا ابراہیم دیولہ آف انڈیانے کروائی،دعا اتوار کی صبح ساڑھے آٹھ بجے شروع ہو کر 8 بجکر 53منٹ پر ختم ہوئی,دعا میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے مظلوم، بے بس اور بے کس مسلمانوں کیلئے اللہ کے حضورخصوصی التجائیں کی گئیں، بعد نماز فجر مولانا عبیداللہ خورشید نے کہا کہ ملک کو نفرتوں کی تیز آندھیوں سے بچانےکے لیے سب سے بڑامیزائل دعا ہے،کہ جو اللہ سے تعلق جوڑتی ہے، انہوں نے کہا کہ اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے، انہوں نے کہاکہ دعا اللہ کے ساتھ تعلق کی وضاحت کرتی ہے، دعا کو مت چھوڑیں اور نہ ہی اللہ سے کبھی ناامید ہوں،اللہ کرے کہ مسلمان ملکوں میں اتحاد اور امن کی فضا پیدا ہو جائے۔مولانا ابراہیم نے اختتامی رقت آمیز دعا کراتے ہوئے کہا کہ اے اللہ فلسطین کے مسلمانوں کو فتح اور مسجد اقصیٰ کو یہود و ہنود سے پاک کردے،اے اللہ مقروضین کے قرضوں کی ادائیگی اپنے غیب کے خزانہ سے فرما اور غیبی اسباب پیدا فرما، اے اللہ بے اولادوں کو نرینہ اولاد نصیب فرما، صاحب اولاد کی اولادوں کو والدین کی خدمت کرنے والا بنا دے،پوری دنیا میں دینی مدارس کی حفاظت فرما۔
بعد ازاں حسب روایت تعلیم سے فارغ ہونے والے طالب علموں اور طالبات کے، امیر جماعت مولانا نذالرحمان، اور مولانا ابراہیم دیولا نےاجتماعی نکاح پڑھائےاوران کو ضروریات زندگی کی اشیاجہیزسمیت دیکراپنی نیک تمناوں کے ساتھ رخصت کیا۔تبلیغی اجتماع میں فلسطین کے مظلوم مسلمانوں اور مسجداقصیٰ کی آزادی کے لئے دعائیں کی گئیں ،یقینا یہ ایک خوش آئند بات ہے ، اللہ جزائے خیر دے،شیخ السلام مفتی تقی عثمانی صاحب کو کہ جنہوں نے اپنی ملاقات کے لئے دارالعلوم میں تشریف لانے والے انڈیا کے تبلیغی اکابرین کے سامنے اس حوالے سے اپنا درد دل بیان کرتےہوئے فرمایا تھا کہ’’آج کل مجھ پر کچھ غلبہ حال بھی ہے ،اور بہت بار محسوس بھی ہوتا ہے کہ غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں پر اج جس قدر ظلم و ستم ہو رہا ہے ہر مسلمان باخبر ہے، تبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں، دعا کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوتے ہیں مجھے یہ بات انتہائی تکلیف دیتی ہے کہ ان اجتماعات اور ان کی دعائوں میں فلسطین کے مجاہدین اور مظلوموں کے لیے نام لے کر دعائیں نہیں ہوتیں ،یہ بات مجھے کھلتی ہے ، کیا ان مظلوموں کے لیے یہ اکرام نہیں ۔کیا ان کا یہ حق نہیں ہم پر، مفتی تقی عثمانی نے تقریبا ًچھلکتی انکھوں سے فرمایا تھا کہ یہ میری درخواست ہے مجھے اس پر کوئی جواب نہیں چاہیے‘‘ یقینا فلسطین کے مظلوم مسلمانوں اور مسجداقصیٰ کی آزادی کے لئے ہر مسلمان کا حق دعائوں سے بڑھ کر ہے،لیکن کم از کم ان مظلوموں کے لیے دعائیں تو کی جا سکتی ہیں۔
تبلیغی اجتماع میں شریک متعدد دوستوں نے مولانا عبیداللہ خورشید کی تقریر پر سوال اٹھایا ہے کہ انہوں نے جو اپنے خطاب میں یہ کہا کہ ’’اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ اخلاق سے پھیلا ہے‘‘ اس کا کیا مطلب ہے؟پہلی بات صہیونی ،صلیبی اور مستشرقین نے جب اس معاملے کو انہیں لفظوں میں چھیڑنے کی کوششیں کی تھی تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے جواب میں یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’میں نہیں جانتا کہ اسلام تلوار سے پھیلا، یا اخلاق سے مگرمیں اسکے تحفظ کے لئے تلوار ضروری سمجھتا ہوں‘‘ یہ بات یاد رکھنا لازم ہے کہ ’’تلوار‘‘ بھی نبی السیف حضرت محمد کریم ﷺکے اعلیٰ ترین اخلاق کا حصہ ہے ،نبی الملاحم ﷺنے27 جنگیں کہ جنہیں غزوات النبی کہا جاتا ہے کی عملی طور پر کمان فرمائی،سارے کے سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آقا و مولیٰﷺکی قیادت میں کافروں کے ساتھ مختلف جہادی میدانوں میں برسر پیکار رہے۔’’نبی السیف‘‘ میرے آقاو مولیٰ ﷺکا لقب ہے،جس کا مطلب ہے ’’تلوار والا نبی‘‘آقا و مولیٰﷺنے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ’’سیف اللہ‘‘کا لقب عطا فرمایا جس کا مطلب ہے’’اللہ کی تلوار‘‘،’’تلوار‘‘ لگا کر نماز پڑھنے والے کو عام نمازی کی نماز سے ستر گنا زیادہ ثواب ملتا ہے،یہ بھی فرمان رسول ﷺہے، ہر مسلمان کو ہر اس جملے اور الفاظ سے بچنے کی ضرورت ہےکہ جو مشرکین،مستشرقین ملحدین اور قادیانی گروہ نے جہاد مقدس، اور رسول اکرم ﷺکی تلوار کے خلاف ادا کئے ہیں ۔’’تلوار‘‘میرے مدنی آقاو مولیٰ کے اخلاق عظیم کا حصہ تھی،تبھی تو آپ ﷺنے اسے کبھی غزوہ بدر،کبھی غزوہ احد اور کبھی غزوہ تبوک میں اٹھایا تھا۔
اللہ کے بندو!تمہیں کیا ہو گیا ہے،افغانستان اور کشمیر کا جہاد اگر تمہاری آنکھیں نہیں کھول سکا تو کیا غزہ کے معصوم بچوں کا بہتا لہو اور یہودی زنجیروں میں جکڑی مسجد اقصیٰ بھی تمہیں خواب غفلت سے بیدارکرنے میں ناکام ہو چکی ہے،دین اسلام آقاو مولیٰﷺ کے اخلاق سے پھیلا اور تلوار مدنی آقا ﷺکے اخلاق کا حصہ تھی،دعوت وتبلیغ کے دوران آقاو مولیٰﷺنے جہاں ایک طرف مشرکین کے ہاتھوں پتھر کھائے،ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار اپنے جسم کا لہو بہایا،وہاں دوسری طرف بار بار جہادی میدانوں میں کافروں کے خلاف تلوار اٹھا کر قیامت تک آنے والے مسلمانوں پر واضح فرما دیا کہ دعوت وتبلیغ ہو یا زرہ پہن کر تیر و تلوار و نیزوں سے جسم سجا کر بدر،احد،خندق،تبوک سمیت 27 غزوات اور 55 سریات میں نکلنا،پیغمبر اسلام ﷺاور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اخلاق ہی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں