Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

عصبیت کی بو

ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں جنہیں بندگی کے خاص مقاصد کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر ان کی کوکھ سے انسانیت کی اماں حضرت حوا علیہا السلام کو پیدا فرمایا پھر آگے ان کی اولاد میں سے بہت سارے مرد وں اورعورتوں کو پھیلایا۔( نسا ء :1) اولادِ آدم کا یہ پھیلائو اس قدر پھیلا کہ اب انسان ایک گھر یا گھرانہ سے کافی آگے جانے لگے تھے یہاں تک کہ شناخت اور پہچان کی ضرورت پیش آنے لگی تو حق تعالیٰ شانہ نے اپنی حکمت ومصلحت سے مختلف جتھوں اور قبائل سے موسوم ومتعارف کروادیا تاکہ باہمی شناخت اور پہچان کا فائدہ حاصل ہوسکے۔ (الحجرات:13) اور پھر ہر قبیلہ کے لئے مستقل رہنمائی کرنے والا اور سامانِ رشد وہدایت پہنچانے والے کا انتظام بھی فرمایا۔ (الرعد:7) ظاہر ہے کہ زمانہ کی گردش کے ساتھ ساتھ انسان ہدایت کی شمعوں سے دور ہونے لگے جس کے نتیجے میں انسانیت میں مختلف روحانی اور اخلاقی امراض در آئے منجملہ عصبیت وتفاخر ہے یعنی اپنے نام ونسب اور قبیلہ وکنبہ کو اعزاز وافتخار کا نشان سمجھنا ہر جائز وناجائز اور اچھے برے کی تمیز ختم کرکے تمام معاملات میں اپنے قبیلہ وکنبہ کے لئے مرمٹنے کا تاثر اور نظریہ اپنانا اور خاندانی وقبائلی تقسیم(جو منش خداوندی کے مطابق محض شناخت کے لئے تھی) کو عزت وذلت اور اونچ نیچ کی تقسیم سمجھنا ۔
آنحضرت ﷺنے دوسرے روحانی و اخلاقی امراض کی طرح اس مرض کے قلع وقمع کے لئے خوب خوب تعلیم فرمائی اور بے شمار وعیدات کے ذریعہ اس بدبو دار فکر سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور ایسے تمام افکار ونظریات کی حوصلہ شکنی فرمائی جن سے لسانی نسلی یا گروہی تعفن ابھر سکتاہو بلکہ ضابطہ عام کے ذریعہ شرافت اور عزت کا مدار علم دین تقویٰ وخشیتِ الٰہی کو قرار دیتے ہوئے بڑی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ان اللہ اوحی الی ان تواضعوا حتی لایفخر احد علی احد ولایبغی احد علی احد ۔ (رواہ مسلم مشکوۃ:217 ) ترجمہ:اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے عاجزی وتواضع اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ہرقسم کے غلط فخر اور ظلم وزیادتی سے بچنے کا ارشاد فرمایاہے۔ اور حدیث میں تعصب کرنے والے قوم پرست اور نسل پرست تعصبی کو گبر (غلاظت کے کیڑے)کی مانند قرار دیا ہے جو گندگی سے پیدا ہوتا ہے گندگی میں رہتا ہے اور گندگی ہی اس کا مشغلہ زندگی بنی رہتی ہے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ عصبیت قوم پرستی اور نسل پرستی اسلام میں کس قدر ناپسند اور قابل نفرت چیز ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ کا ارشاد ہے کہ نسب کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے سبب کسی کو برا کہا جائے یا عاردلائی جائے بلکہ تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو تمہاری مثال دو برابر سرابر برتنوں کی ہے جو خالی ہوں یعنی کچھ نہ کچھ کمی سے کوئی فرد خالی نہیں کسی کو کسی پر دین اور تقوی کے علاوہ کوئی فضیلت وترجیح نہیں ہے۔ ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جب آپ کسی مسلمان بھائی کو عصبیت وقومیت کے باعث شرم وعارکے مقام پر پا تو اسے اس باعثِ شرم وعار مقام سے ہٹا یعنی اس کی غلط ذہنیت بری خصلت اور بے جا تعصب وتفاخر سے باز رکھنے میں اس مسلمان بھائی کی مدد کرو کیونکہ اگر وہ اس غلاظت میں لتھڑا رہا اور اسی حالت پر اسے موت آگئی تو بے چارہ امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام)میں شمار نہ ہوسکے گا۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ ولیس منا من مات علی عصبیۃ۔ (مشکوٰۃ:417) ترجمہ:جسے عصبیت پر موت آئی وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔یعنی ایسے فرد کا شمار امت محمدیہ میں نہ ہوگا۔ لہٰذا ہمیں اپنی ذہنی فکر وسوچ اور اپنے عمل وکردار کا خوب تجزیہ کرلینا چاہئے کہ خدانخواستہ ہم عصبیت کے روحانی مرض کا شکار ہوکر کہیں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام)میں شمولیت کے عظیم شرف سے محروم تو نہیں ہو رہے۔ نیز ہماری یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں کو بھی عصبیت کے چوہڑ سے دور کریں جو لسانیت قومیت یا علاقائیت کے خوشنما نعروں کے جال میں پھانسے جاچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینِ حق کا فدائی اور شیدائی بنادے اور دنیا کے مختلف جھوٹے نعروں کی لعنت سے محفوظ فرمائے آمین،نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس کے ہاں پائی جاتی ہے اور باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرور آگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں، مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کرجاتا ہے جس کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔ زیادہ دور کیوں جائیں ابھی پچاس سال پہلے ہی اسی نسلی غرور کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کو یاد کیجئے جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ غرور صرف غیرمسلموں کے ہاں ہی پایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے ہیں جتنا کہ دوسری اقوام، ایسا کیوں ہے؟ اس کے ہمارے معاشروں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں؟ اس سے بچائو کی کیا تدابیر ہیں؟ سب سے پہلے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا مسلمانوں کے ہاں یہ غرور خود ان کے دین نے پیدا کیا ہے یا یہ کہیں اور سے آیا ہے جب ہم اس موضوع پر قرآن و حدیث کاجائزہ لیتے ہیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے،کہ قرآن و حدیث نے قوم پرستی ،اور عصیبت کو مکمل طور پر مسترد کر کے مسلمانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی ، اللہ کے رسولﷺ اپنے مشہور خطبہ حج الوداع میں ارشاد فرماتے ہیں۔ ’’تمام لوگ آدم ؑکی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیاتھا۔ اے لوگو!سنو تمہارا رب ایک رب ہے ، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اورصرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘ یہود میں مرشاس بن قیس نامی شخص مسلمانوں سے سخت دشمنی رکھتا تھا اس نے جب انصار میں محبت اور الفت کا معاملہ دیکھا تو اس نے ایک یہودی نوجوان سے کہا کہ تم ان کے درمیان بیٹھ کر جنگ بعاث کا ذکر کرو جو ماضی میں انصار کے قبائل اوس اور خزرج کے درمیان لڑی گئی تھی تاکہ ان کی محبت اور الفت قوم پرستی کے جذبے سے مغلوب ہوکر ختم ہوجائے۔ اس نوجوان نے مسلمانوں میں بیٹھ کر وہی ذکر چھیڑا اور آگ بھڑکائی یہاں تک کہ انصار کے دونوں قبائل میں سخت کلامی شروع ہوگئی اور ہتھیار لگا کر آمادہ جنگ ہوگئے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں