Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

6نومبر47 ، دریائوں سے مسلمانوں کا لہوبہہ رہا تھا

(گزشتہ سے پیوستہ)
مسلمانوں کے قتل عام سے قبل پورے جموں میں کرفیو لگایا گیا۔ سیوک سنگھ، مہاسبھا اور اکالی دل کے جتھوں نے ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا عہد کررکھا تھا۔ چاروں اطراف سے جے ہند اورمت سری اکال کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کے علاقوں میں انتظامیہ نے اعلان کیا کہ پاکستان نے مسلمانوں کیلئے گاڑیاں بھیجی ہیں، اس لئے لوگ سیالکوٹ جانے کیلئے پولیس لائنز میں جمع ہو جائیں۔ اس وقت پولیس لائنز جموں توی میں تھا، جہاں بسوں پر پاکستانی جھنڈے لگا دیئے گئے تھے۔شیخ عبداللہ اپنی خود نوشت آتشِ چنار میںلکھتے ہیں کہ 5؍ نومبر 1947ء کو جموں شہر میں ڈھنڈورہ پٹوایا گیا کہ مسلمان پولیس لائنز میںحاضر ہو جائیں تاکہ انہیں پاکستان بھیجا جاسکے۔ مسلمان بچوں اور عورتوں کے ساتھ حاضر ہوگئے۔انہیں چالیس ٹرکوں کے قافلے میں سوار کیا گیا۔ ہر ٹرک میں 60 افراد سوار تھے۔ انہیں سانبہ کے قریب ایک پہاڑی کے نزدیک اتارا گیا جہاں مشین گنیں نصب تھیں۔ جوان عورتوں کو الگ کرکے باقی تمام جوانوں، بچوں اور بوڑھوں کو آن کی آن میں گولیوں سے اڑا دیا گیا ۔یہی سلوک کئی قافلوں کے ساتھ ہوا۔ جس طرح پٹیالہ، فرید کوٹ اور کپور تھلہ میںمسلمانوں کا مکمل صفایا کیا گیااسی طرح جموں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا مقصود تھا۔کشمیر پر 27اکتوبر1947کوبھارتی فوجی قبضے سے قبل ڈوگرہ فوجیوں نے 20؍ اکتوبر 47ء کو اکھنور میںمسلمانوں کو پاکستان لے جانے کیلئے جمع کیا او ر انہیں شہید کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اکھنور پل سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ 23؍ اکتوبر کو جموں کے آر ایس پورہ شاہراہ پر جمع 25 ہزار مسلمانوں پر ڈوگرہ اور پٹیالہ فورسز نے اندھا دھند گولیاں چلاکر شہید کیا۔ آر ایس پورہ تحصیل میںمسلمانوں کے 26دیہات تھے۔ آج وہاں چند گھر ہی نظر آتے ہیں۔
جموں شہر کی آبادی 1941ء کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار تھی جو 20 سال بعد 1961ء میں کم ہوکر صرف 50 ہزار رہ گئی۔مسلمانوں کی نسل کشی میںدہشت گرد تنظیموں آر ایس ایس، ہندو مہا سبھا اور دیگر فرقہ پرست جماعتیں پیش پیش رہیں۔ یہ وہی فرقہ پرست تھے جنہوںنے مارچ 1947ء میں لدھیانہ، جالندھر،امرتسر، کپورتھلہ، پٹیالہ،فرید کوٹ،پانی پت، کرنال، گوڑگائوں وغیرہ میں مسلمانوں پر حملے کئے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر میںداخل ہوکر مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کٹھوعہ، سانبہ، ادھمپور، بھمبر، نوشہرہ، ہیرانگر، رام گڑھ، آر ایس پورہ، ارنیہ، سچیت گڑھ، جموں ، بٹوت حتیٰ کہ مظفر آباد میں بھی ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ مہاراجہ نے ان دہشت گردوں کی خوب آئو بھگت کی۔ اس نے وزیر اعظم پنڈت رام چند کاک کو برطرف کر کے مہارانی تارا دیوی کے قریبی رشتہ دار ٹھاکر جنک سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ مہاراجہ نے اپریل 47ء کو راولاکوٹ کے دورہ کے موقع پر جب جنگ عظیم دوم کے ہزاروں مسلمان فوجیوں کا نظارہ کیا تو واپسی پر فوری طور پر غیر مسلم راجپوت اور ڈوگرہ فوج کے یونٹ قائم کئے۔ راجہ نے اپنے سسُرالی علاقہ کانگڑہ (رانی تارا دیوی کا علاقہ) اور اس کے قرب وجوار کلو، چمبہ،گڑھوال وغیرہ سے بھی ہندو فوجی بھرتی کئے۔ ان فوجیوں کو سرینگر اور جموں میںتعینات کیا گیا۔ مہارانی تارا دیوی نے بائونڈری کمیشن کے ممبر مہر چند مہاجن جیسے مسلم دشمن غیر ریاستی شخص کو کشمیر کا وزیراعظم بنایا۔ مہاجن کو لارڈ موئونٹ بیٹن اور کانگریس ہائی کمان تک رسائی حاصل تھی۔ مہاجن نے اپنی کتاب’’Back Looking‘‘ میںتحریر کیا ہے کہ مہارانی نے ان کے ساتھ لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میںمشاورت کی۔ وہ اپنے علیل بیٹے کرن سنگھ کے علاج کے لئے لاہور آئی ہوئی تھی جو ایک بہانہ تھا۔ بعد ازاں مہر چند مہاجن کو چیف جسٹس آف انڈیا بنایا گیا۔
6 نومبر کو دنیا بھر میں کشمیری یوم شہدائے جموں اسی وجہ سے مناتے ہیں تاکہ جموں خطے کے مسلمانوں کی اسلام، پاکستان اور تحریک آزادی کے لئے جانوں، مالوں اور عزتوں کی قربانیاں یاد رکھی جائیں اور شہداء کے خون کے ساتھ کسی کو سودا بازی نہکرنے دی جائے۔76سال گزرنے کے باوجود جموں کے ہندو دہشت گردوں کی ذہنیت نہیں بدلی ہے۔وہ مسلمانوں کی زندہ کھالیں اتارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کشمیر کے پہاڑوں میںہندوامر ناتھ شرائن بورڈ کے خلاف تحریک کے ردعمل میں جموں کے انتہا پسند ہندوئوں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ آج بھی لاک ڈائون اور کرفیو، پابندیوں کے دوران بھارتی فورسز کشمیریوں کو اقتصادی طور پر بدحال کرنے کے لئے کھیت اور کھلیان جلا رہے ہیں۔میوہ باغات کو تباہ کیا گیا ہے۔گزشتہ برس تقریباً ایک کھرب روپے سے زیادہ کے میوہ جات درختوں پر سڑگئے۔ وادی کے مسلمانوں نے ہندوئوں کا ہمیشہ احترام کیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات کے باوجود وادی میںہندوئوں کے خلاف کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیںہوا۔ کشمیری مسلمان صرف اپنے حقوق کے لئے برسرپیکاررہے جبکہ ہندو انتہا پسند جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔مقبوضہ وادی میں غیر مسلم افراد کے قتل کر کے الزام مسلمانوں پر عائد کیا گیا۔ آج بھی ویلج دیفنس کمیٹیوں میں شامل ہندو انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔پنچ اور سرپنچ مقامی مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے بھارتی فورسز کے آلہ کار ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں