Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

عصبیت کی بو

(گزشتہ سے پیوستہ)
یہ خبر آپﷺ تک پہنچی تو آپﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایااے مسلمانو!یہ کیا حرکت ہے کہ تم جاہلیت کے دعوے کرتے ہو حالانکہ میں تمہارے اندر موجود ہوں اور خدا نے تمہیں ہدایت دے دی اور اسلام کی بزرگی بخشی اور جاہلیت کی سب باتیں تم سے ختم کردیں اورتمہاری آپس میں محبت اور الفت قائم کردی۔ اس وقت دونوں گروہوں کو معلوم ہوا کہ یہ ایک شیطانی وسوسہ تھا جس میں ہم مبتلا ہوگئے تھے پھر وہ رو پڑے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے لگے۔اسی طرح کا واقعہ ایک غزوہ میں رونما ہوا جب ایک انصاری اور مہاجر صحابی ؓکے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تو دونوں نے اپنی اپنی قوم کو مدد کے لئے بلایا اس پر باہم لڑائی کی نوبت آپہنچی تو رسول اللہﷺ نے ان کے اس قوم پرستی پر مبنی فعل کو جاہلیت کا نعرہ قرار دیا۔ اس کے بعد ان صحابہ کرام ؓکے درمیان صلح ہوگئی اور وہ قوم پرستی کے اس نعرے پر نادم ہوئے۔قرآن وحدیث کی ان تصریحات سے یہ تو واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کسی ذات پات، رنگ ،نسل اور قومیت کو فضیلت کی بنیاد نہیں مانتا بلکہ صرف اورصرف تقویٰ اور پرہیزگاری کو ہی فضیلت کامعیار قرار دیتا ہے اورقوم پرستی کی بنیاد پر رونما ہونے والے اختلافات کا قلع قمع کرتا ہے جیسا کہ انصار کے واقعہ سے واضح ہوا۔
دنیا کی دوسری اقوام اگر اپنے قومی ونسلی غرور میں مبتلا ہوتی ہیں تو یہ ان کے باطل نظریات کا قصور ہے لیکن حیرت ان مسلمانوں پر ہے جو قرآن کی ان آیات کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر بھی اس تکبر میں مبتلا ہیں۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں قومی ونسلی تفاخر کے اثرات دوسری اقوام سے آئے اس میں ان کے دین کا ہرگز ہرگز کوئی قصور نہیں ہے۔قومیت پرستی بہت سی خطرناک معاشرتی بیماریاں جنم دیتی ہے مثلاً -1قوم پرستی سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں محدود ہوجاتی ہیں۔-2قوم پرستی سے انسان میں قبول حق کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔-3قوم پرست ملکی وملی مفاد میں کم اور قوم اور قبیلے کے مفاد میں زیادہ سوچتے ہیں جس سے اجتماعیت کی روح متاثر ہوتی ہے-4یہ قوم پرستی ہی کا اثر تھا کہ یہود اسلام لانے سے محروم رہے حالانکہ انہیں حضور اقدسﷺ کے نبی برحق ہونے کا اپنی اولاد سے زیادہ سچا یقین حاصل تھا لیکن وہ اسی وجہ سے ایمان نہیں لائے کہ حضورﷺ ان کی قوم میں پیدا نہیں ہوئے۔ دین اسلام اپنے ماننے والوں کو علاقے اور زبان کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچاتا ہے اور انہیں ایک ہی لڑی میں پرو کر بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر تحریک پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے لیڈر اور عوام صحیح اسلامی روح کے ساتھ ایک امت مسلمہ بننے کی کوشش کرتے اور انہی بنیادوں پر پاکستان کی تعمیر کی کوشش کرتے تو نہ بنگلہ دیش بنتا اور نہ ہی کوئی اورلسانی جھگڑا کھڑا ہوتا۔
ہمارا دین ہمیں ایک قوم پرست گروہ بننے کی بجائے ایک امت بننے کا حکم دیتا ہے جو خالصتا ًاخلاقی اصولوں کی بنیاد پر اٹھے اور دنیا میں حق وصداقت کا پرچار کرے۔ دین اسلام کی تمام تعلیمات ہمیں ہرقسم کے امتیاز سے بچ کر خالصتاً اللہ کا ہوجانے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ ہمارے لئے شرم کا باعث ہے کہ ہمارے پاس ہدایت کا نور ہوتے ہوئے بھی اہل مغرب ان نسلی، علاقائی، مذہبی اورلسانی تعصبات سے نجات حاصل کرنے میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔ وہاں امتیاز کیخلاف قوانین بنائے جاچکے ہیں اور میڈیا کے ذریعے عوام الناس میں اس کا شعور بھی بیدار کیا جارہا ہے۔
عصبت کے کیچڑ میں لت پت قوم پرستوں کو کئی مواقع پر بعض مذہبی جماعتوں کی حاصل حمایت دیکھ کر انسان سر پکڑ کر رہ جاتاہے،سندھ ہو،بلوچستان ہو،کے پی کے ہو یا پنجاب، عصبت کا گند پھیلائے والوں نے ، سوائے پاکستان اور اکابرین پاکستان کو گالیاں دینے کے کوئی اور کارنامہ بھی سر انجام دیا ہو تو بتایا جائے،سندھ باب السلام میں قوم پرستی راجہ داہر کی شیطانیت میں ڈوبی ہوئی، جسے جہنم مکانی راجہ داہر کی دہرئیت کے گن گانے سے ہی فرصت نہیں،کراچی اور اندرون سندھ کی سڑکوں اور گلیوں میں جگہ جگہ موہنجودڑو کے مناظر، مگر وہاں کہیں بھٹو زندہ ہے،اورکہیں راجہ داہر کو زندہ کرنے کی کوششیں عروج پر ،کہا جاتا ہے کہ سندھ میں عصبیت اور قوم پرستی راجہ داہر کی دہرئیت کا ہی دوسرا نام ہے ، چاروں صوبوں میں موجود قو پرستی اور عصیبت کا ایک مشترکہ مرض دین اسلام کے احکامات ،دینی اداروں،پاکستان اور پاک فوج کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کر نا،دشنام تراضیاں کرنا اور سیاپا ڈالنا ہے،کالجز،یونیورسٹیز کے طلباء وطالبات ہوںیا،پروفیسرز،پرنسپلز اور اساتذہ ،تاجر ہوں،وکلاء ہوں، سیاست دان ہوں،سیاسی ومذہبی کارکن ہوں یا زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کان کھول کر سن اور آنکھیں کھول کر پڑھ لیں۔’’قوم پرستی‘‘ اور ’’عصیبت‘‘کو چاہے ہیرے جواہرات سے مزین جامہ پہنا دیا جائے،یا اسے غلاف کعبہ میں چھپا دیا جائے ،پھر بھی اسکی شیطانی بو کو پھیلنے سے روکا نہیں جاسکتا ، پاکستان کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی،جلد یا بدیر دنیا یہاں نظام اسلام کا سورج طلوع ہوتے ہوئے ضرور دیکھے گی،(ان شااللہ العزیز)
ایسے لگتا ہے کہ جیسے بعض کالجز اور یونیورسٹیاں طلباء وطالبات کو ’’عصبیت‘‘ زدہ کرنے کے لئے باقاعدہ فیکٹریاں بن گئی ہیں،والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر ،انجینئر بنانے کے لئے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں،لیکن قوم پرست مافیاء انہیں علیحدگی پسند بنا کر اپنے ہی اداروں کے خلاف لانچ کرتے ہیں،اب تو بلو چستان کو علیحدہ کرنے کے لئے وہاں خود کش خواتین بھی سامنے آ رہی ہیں، ستم بالائے ستم حکمران مافیا نے بھی اس ساری صورتحال کی طرف سے اپنی آنکھیں اور کان مکمل طور پر بند کر رکھے ہیں،وگرنہ جن یونیورسٹیوں میں تر غیب اور تر بیت کی وجہ سے علیحدگی پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے، حکومت ان میں سے کسی ایک پر تو ہاتھ ڈالتی،حکمران، جب تعلیمی اداروں اور دانش گاہوں کو علیحدگی پسندی اور قوم پرستی کے مراکز بننے سے روکنے میں ناکام رہیں گے تو پھر الیکٹرانک میڈیا سے لے کر سوشل میڈیا تک، ہر طرف عصبیت کے جن اور چڑیلیں ہی مسلط رہیں گی (وما توفیقی الا باللہ)

یہ بھی پڑھیں