(گزشتہ سے پیوستہ)
بھارتی فوج اس سلسلے میں تاریخ کا بدترین کردار ادا کر رہی ہے۔وہ کرگل جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے لئے تابوتوں کی خریداری کے سودے میں بھی کرپشن کرنے سے گریز نہیں کرتی جبکہ بو فورس توپوں کے سودوں میں اربوں کے سکینڈل فوج کے لئے بدنامی کا باعث بن چکے ہیں۔یہی فوج کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں شہریوں کو شہید کر کے ترقیاں اور تمغے پاتی ہے ۔ بارودی سرنگیں نصب کر کے ان کی برآمدگی کے نام پر ترقیاں اور میڈلز وصول کرنے کے سکینڈلز بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔کئی علاقوں میں بھی میزائل اور مارٹر گولے داغنے کے بعد بارودی دھماکوں سے مکانوں کو زمین بوس کیا گیا۔ بھارتی فوج کی نصب بارودی سرنگیں پھٹنے سے معصوم کشمیری شہید اور زخمی ہورہے ہیں۔وادی میں نہتے اور معصوم وپرامن مظاہرین پر پیلٹ گن، ٹیئر گیس شیلنگ، زہریلی گیسوں اور تباہی پھیلانے والے اسلحہ کامسلسل استعمال ہو رہا ہے۔اب زمین پر قبضہ کی مہم زوروں پر ہے۔مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے اور ثقافتی یلغار مودی ازم کو فروغ دینے کے لئے ہے۔ جو اکھنڈ بھارت کا چانکیائی فلسفہ رکھتے ہیں۔کشمیریوں کی نسل کشی اور قتل عام کے خلاف وادی چناب اور پیر پنچال سمیت کرگل کے عوام نے بھی ہڑتال کیں۔ احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس طرح انہوں نے بھی یک جہتی کا بھر پور اظہار کیا۔بھارت نے انتقام کے طور پرہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا ۔جن میں مقبوضہ ریاست کے تین سابق وزرئاے اعلیٰ بھی شاملتھے۔جو اب گپکار اعلامیہ کے تحت متحد ہو رہے ہیں۔ شہداء کے نام پر سیاست چمکانے کا وقت گزر چکا۔ یہ مکار اور ایمان فروش لوگوں کا وطیرہ تھا۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ اُن کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور مشن کو پورا کرنے کے لئے جدید اور سائنسی تقاضوں کے مطابق عملی جدوجہدکرنا ہے۔ جموں ڈویژن کے 10اضلاع ہیں۔شہدائے جموں کا مشن تقسیم کشمیر یا چناب فارمولے پر عمل درآمد نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت، کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔یہ دین کا رشتہ ہے۔ 1947ء کومسلمانوں کی نسل کشی اور انخلاء کے باوجود ضلع ڈوڈہ ، کشتواڑ ، پونچھ اور راجوری میں80فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ ریاسی ، ادھمپور، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔بھارت نے کشمیر کو تقسیم کیا ۔ اس کا خصوصی درجہ ختم کیا۔
سرمایہ کاری اور دیگر حیلے بہانوں سے اب مقبوضہ ریاست میں بھارتی مکمل عمل داری اور زمین جائیدادوں پر بھارتی شہریوں کے قبضے ہو رہے ہیں۔بھارتی یونین علاقے قرار دینے سے پہلے مقبوضہ ریاست پر دہلی سے بھیجا ایک گورنرز حکومت کرتا تھا۔ اب ایک گورنر کی جگہ دو لیفٹننٹ گورنر حکومت کرتے ہیں۔پہلے مقبوضہ کشمیر کا اپنا پرچم تھا۔ اب اسے سرکاری عمارتوں سے اتار کر وہاں پر بھارتی پرچم لہرا دیئے گئے ہیں۔پہلے کوئی بھی بھارتی آئین مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر نافذ نہ ہوتا تھا، اب بھارتی قوانین براہ راست لاگو ہو رہے ہیں۔ ان کالے قوانین کے تحت مسلمانوں کو اہم محکموں سے نہ صرف ہٹایا جا رہا ہے بلکہ انہیں نوکریوں سے بھی برطرف کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی یہ سب انتقامی مہم ہے۔ 1947کی طرح مسلمانوں کی ایک بار پھر نسل کشی کے لئے ماحول سازگار بنایا جا رہاہے۔ جموں وکشمیر کو ایک الگ بھارتی علاقہ اور لداخ کو بھی دہلی کا زیر انتظام علاقہ بنا کر بھارت میں عملی طور پر ضم کردیا گیا ہے۔
جموں خطے سے ہجرت کرنے والے پاکستان میں کراچی سے کوہالہ تک لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔انہیں دوہری شہریت حاصل ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میںمہاجرین جموں و کشمیر مقیم پاکستان کے لئے12نشستیں مختص ہیں۔ جن پر وہ منتخب ہو کر آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن بنتے ہیں۔ انہیں وزیر مشیر بنایا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت اپنے پہلے اعلامیہ سے نا بلد نہیں رہ سکتی۔ وہ اپنے مشن اور نصب العین سے بے خبر نہیں۔ جس حکومت کا بنیادی کام مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کے لئے کام کرنا تھا، آزاد کشمیر کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ بنانا تھا، وہ اس سے خود کو برٰ الزمہ نہیں سمجھتی ہے۔ کام بہت ہو رہا ہے، مگر یہ نعروں، تقاریر،مذمتی قراردادوں، بلند و بانگ دعوئوںتک محدود نہیں رہ سکتا۔ یہ ایک روایت بن چکی ہے۔ کسی کے پاس کوئی ایجنڈا نہ ہو تو کشمیر پر بیان جاری ہوتا ہے، رٹی ہوئی تقریر جھاڑ دی جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عملی طور پر بھی کچھ ہونا چاہیئے۔ نئی نسل اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں سے بے خبر اور لاتعلق نہیں رہ سکتی ہے۔وہ اپنی روایا ت اور ثقافت کو کیسے دم توڑتا ہو ا دیکھ سکتی ہے۔ایک دوسرے سے تعلق اور تعاون کے فروغ کا تصور رفتہ رفتہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر کی جنگ بندی لائن پر آباد لوگ بھی جموں کے قتل عام کو نہیں بھولے۔ان کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان کے عزیز و اقارب، زمین جائیداد جنگ بندی کی دوسری طرف بھارت کے قبضہ میں ہے۔ ان پر بھارت جب چاہے گولہ باری کرتا ہے۔ ان کی جان و مال کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے۔ انہیں موبائل ایمبولنسز کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں فوری ریسکیو چاہیئے، ان کے بچوں کی تعلیم کا کوئی بندو بست ہو، سیز فائر لائن کے عوام پسماندہ ہیں۔ وہ شہروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے انہیں خصوصی پیکج کی ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ بندی لائن کو مستقل سرحد بنانا یا اسے کنٹرول لائن قرار دیناتقسیم کشمیر کی بھارتی سوچ گمراہ کن ہے ۔ شہدائے جموں کے مشن کا تقاضا ہے کہ کشمیری جسد واحد بن کر لسانی،علاقائی اور برادری ازم یا ادھر ہم ادھر تم جیسے فتنوںسے بچتے ہوئے شہداء کے مشن کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔شہداء کا انتقام لینا ہم پر لازم ہے۔ آزاد کشمیر کی حکومت اب بھی عبوری حکومت ہے۔ اس کا آئین عبوری ہے۔ یہاں کے صدر، وزیر اعظم، سیاستدانوں، بیوروکریسی پوری ریاست جموں و کشمیر کو اپنا حلقہ سمجھنا چاہیئے۔سیاستدان جنگ بندی لائن پار کرنے کی کاغذی دھمکیاںدیتے رہے ہیں۔سیاسی پوائینٹ سکورننگ کے بجائے عملی طور پر بیس کیمپ کا کردارادا کرنے کی ضرورت ہے کہ سب ایک ہو کر جدوجہد کریں۔ اسلام آباد میں دنیا کے سفارتی مشنز کو صورتحال سے مسلسل آگاہ کیا جائے۔ دنیا میں پاکستان کے مشنزکردار ادا کریں۔ بھارت کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس اور آزاد کشمیر پر جارحیت کی بڑھکوں اور دعوئو ں کے تناظر میں آزاد کشمیر کی آبادی کو جنگی تربیت اور مسلح کرنے یا دیہی دفاعی کمیٹیاں تشکیل دینے کی طرف توجہ دیں ۔جنگ بندی لائن پر آباد عوام کے لئے مورچے تعمیر کئے جائیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ جموں قتل عام کی طرح مزید قتل عام کے خدشات سے کم از کم مسلم ممالک کے سفیروں کو بریفنگ دی جائے۔ جو مسلم ممالک مودی کو تمغے دیتے ہیں اور بھارتی حکمرانوں کے ریڈ کارپٹ استقبال کرتے ہیں، اسلام آباد میں مسلم ممالک کے سفیر، دنیا میں پاکستان کے سفارتکار کیا خدمات انجام دیتے ہیں۔ مسلم حکمرانوں کو یاد دلایا جائے کہ وہ اپنی سر زمین پر مندر تعمیر کر رہے ہیں مگر بھارت میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں کی مساجد عبادت کے لئے بند کر دی گئی ہیں۔ ان پر تالے لگائے گئے ہیں۔آج ہم جموں کے شہداء کو یاد کر رہے ہیں۔جلسے جلوس نکالتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، بیانات جاری کرتے ہیں، کیا اس سب سے بھارت کشمیر سے نکل جائے گا۔ اگر ایسا نہیں ہے تو تو کشمیر کی آزادی کے لئے عملی اقدامات کی طرف توجہ دی جائے۔شہداء کاا نتقام لینا اور ان کے مشن پر چلنا مسلمانوں کا نصب العین ہے۔ اللہ تعالیٰ کشمیریوں ، فلسطینیوں سمیت دنیا بھر کے شہدائے اسلام کی شہادت قبول و منظورفرمائے اور مسلمانوں کو ان کا مشن پورا کرنے کی توفیق دے۔