وزیراعظم محمد شہباز شریف نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے 147ویں یوم پیدائش پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آئیے آج عہد کریں کہ ہم سب اقبالؒ کی تعلیمات پر عمل کریں گے، نئی امید اور عزم کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ علامہ اقبال ؒکے افکار اور تحریروں نے پوری دنیا پر گہرا اثر ڈالا ہے، انہوں نے کہا کہ یوم اقبال ؒکے اس پرمسرت موقع پر میں پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبالؒ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، جو ایک صاحب بصیرت شاعر، فلسفی اور ایک بلند پایہ شخصیت تھے۔انگریز کے باغی خطیب امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ نے 1938ء میں امرتسر کے مقام پر علامہ اقبال علیہ الرحمہ کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’اقبالؒ کو انگریز سمجھ سکا، نہ مسلمان۔ انگریز سمجھ لیتا تو اقبالؒ بستر پر نہ مرتا، پھانسی کے پھندے پر ہوتا اور مسلمان سمجھ لیتے تو آج غلام نہ ہوتے۔‘‘ کاش وزیراعظم شہباز شریف امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری کے اس تاریخی جملے کی حقیقت کو جان کر شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری اور تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرتے تو آج 24 کروڑ مسلمانوں کا اسلامی جمہوریہ پاکستان آئی ایم ایف کی غلامی میں نہ جاتا،پاکستان کو آئی ایم کی غلامی میں دے کر اقبالؒ کی شاعری کے قصیدے پڑھنا منافقت نہیں تو پھر کیا ہے؟
علامہ اقبال ؒ کا انتقال1938ء میں ہوا اور امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل 1948ء میں وجود میں آیا، مگر علامہ اقبالؒ کی مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر اور فلسطینی مسلمانوں سے بے پناہ محبت اور ہمدردی کا اندازہ لگائیے کہ فرماتے ہیں کہ ہے خاک فلسطین پہ یہودی کا اگر حق ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہل عرب کا ضرب کلیم میں شامل اپنی نظم’’فلسطینی عرب سے‘‘میں فلسطینیوں سے یوں مخاطب ہوتے ہیں۔
تیری دوا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں
فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے
برطانیہ آج بھی یہود نوازی میں اول نمبر پر ہے، جبکہ علامہ اقبالؒ نے اس وقت برطانیہ کی اس یہود نوازی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے سات ستمبر 1929 ء کو لاہور میں بیرون دہلی دروازہ پر منعقد ہونے والے ایک جلسے کے صدارتی خطاب میں فرمایا تھا۔ ’’یہودیوں کویورپ کی تمام سلطنتوں میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، مسلمانوں نے یورپ کے ستائے ہوئے یہودیوں کو نہ صرف پناہ دی، بلکہ انہیں اعلیٰ مناسب پر فائز کیا، ترک یہودیوں کے ساتھ غیر معمولی رواداری کا سلوک کرتے رہے، یہودیوں کی خواہش پر انہیں مخصوص اوقات میں دیوار براق کے ساتھ کھڑا ہو کر گریا و زاری کرنے کی اجازت عطا کی، اسی وجہ سے اس دیوار کا نام ان کی اصطلاح میں ’’دیوارے گریہ‘‘مشہور ہو گیا، شریعت اسلامیہ کی روح میں مسجد اقصیٰ کا سارا احاطہ وقف ہے، جس قبضے اور تصرف کا یہود اب دعویٰ کرتے ہیں قانونی اور تاریخی اعتبار سے اس کا حق انہیں ہرگز نہیں پہنچتا، سوائے اس کے کہ ترکوں نے انہیں گریہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، علامہ اقبال ؒنے لندن میں 31ویں منعقدہ دوسری گول کانفرنس میں شرکت کی تھی، انہی دنوں یوروشلم میں موتمر عالم اسلامی کے زیر اہتمام ایک کانگرس کا انعقاد ہو رہا تھا، تاکہ صیہونی خطرے پر غور کیا جا سکے۔علامہ اقبالؒ لندن کی گول میز کانفرنس کو ادھورا چھوڑ کر یورو شلم چلے گئے تاکہ اس کانگرس میں شریک ہو سکیں، نومبر 1932ء میں اقبال تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے ، وہاں ان کی ملاقات مس مارگیٹ فرگوسن سے ہوئی، مس مارگیٹ ایک تنظیم نیشنل لیگ کی رہنما تھی، اس تنظیم کا ایک مقصد براعظم پاک و ہند اور مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کو انصاف کے حصول میں مدد دینا بھی تھا، اس تنظیم کو فلسطینیوں سے بھی ہمدردی تھی، مس مارگیٹ نے لندن میں 24نومبر 1932ء کو علامہ اقبالؒ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ دیا اس موقع پر علامہ اقبال ؒنے فرمایا ’’برطانیہ کو چاہیے کہ عالم اسلام کے ساتھ تعلقات استوار کرے اور یہ جبھی ممکن ہے کہ فلسطین سے برطانوی اقتدار ختم کر کے اسے عربوں کے حوالے کر دیا جائے ،مس مارگیٹ کے نام اپنے ایک انگریزی میں لکھے گئے خط بتاریخ 20جولائی 1937ء میں علامہ اقبالؒ نے بعض اہم باتیں لکھیں ، شیخ عطا اللہ نے اقبال نامہ میں اس خط کا اردو ترجمہ درج کیا ہے، اس میں سے بعض جھلکیاں قارئین کی نظر کرتا ہوں ،آپ لکھتے ہیں کہ میں بدستور بیمار ہوں اس لیے فلسطینی رپورٹ پر اپنی رائے اور وہ عجیب و غریب خیالات اور احساسات جو اس نے ہندوستانی مسلمانوں کے دلوں میں بالخصوص اور ایشیائی مسلمانوں کے دلوں میں بالعموم پیدا کیے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ تفصیل سے تحریر نہیں کر سکتا۔
علامہ اقبالؒ فلسطین کے مسلمانوں کے حوالے سے اس حد تک متفکر اور پریشان رہتے تھے، کہ انہوں نے سات اکتوبر 1938ء کو قائد اعظم ؒکے نام ایک خط لکھا تھا یعنی اپنی وفات سے صرف چھ سات ماہ قبل اور بیماری کے عالم میں بھی فلسطین کے لیے علامہ اقبالؒ کا جذبہ دیدنی تھا ،یہ خاکسار اقبال کے اس جذبے کو ’’جہادی جذبہ‘‘قرار دینے پر مجبور ہے،وہ خط انگریزی میں ہے جو کہ بشیر احمد ڈار کی کتاب لیٹرآاف اقبا لLeater of Iqbal میں موجود ہے، علامہ اقبالؒ نے اپنی وفات سے چھ سات ماہ قبل انتہائی بیماری کے عالم میں اس خط میں جو تحریرکیا اس کا لب لباب یہ ہے کہ وہ اسرائیل کے قیام کو مشرق کے دروازے پر مغربی اڈے کا قیام سمجھتے تھے اور اس عمر اور بیماری کی حالت میں بھی مسئلہ فلسطین پر جیل جانے کو تیار تھے،علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877 ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم آبائی شہر میں حاصل کی، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے پہلے لاہور اور بعد ازاں برطانیہ چلے گئے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے جگانے کا بیڑہ اٹھایا اور پاکستان کا تصور دیا،ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ قیام پاکستان سے 9 برس قبل 21اپریل 1938 ء کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔علامہ اقبالؒ کاکلام اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں موجود ہے۔ان کی مشہور کتابوں میں بانگِ درا، بالِ جبریل، اور ضربِ کلیم اردو شاعری کے مجموعے ہیں، جبکہ پیامِ مشرق، زبورِ عجم، جاوید نامہ وغیرہ فارسی کی کتابیں ہیںکیا ۔ ( جاری ہے)