(گزشتہ سے پیوستہ)
یہاں میں ایک اصول عرض کروں گا کہ حقوق اللہ بھی ضروری ہیں اور حقوق العباد بھی ضروری ہیں، لیکن دونوں کی ترتیب یہ ہے کہ فرائض و واجبات میں حقوق اللہ مقدم ہیں، جبکہ مباحات اور مستحبات میں حقوق العباد مقدم ہیں۔ فقہاء یہ مسئلہ لکھتے ہیں کہ فرض روزہ کسی کے لیے بھی توڑنا جائز نہیں، جبکہ نفلی روزہ مہمان کے اکرام میں توڑنا پڑے تو توڑ دیں اور پھر اس کی قضاء کریں کہ مہمان کا حق زیادہ ہے۔ چنانچہ حضرت ابوالدرداءؓ روزہ توڑ کر مہمان کے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے، حضرت سلمان فارسیؓ نے یہ دوسرا کام کیا کہ ان کا روزہ تڑوایا۔ رات کو سونے کا وقت ہوا تو حضرت ابوالدرداءؓ نے حضرت سلمان فارسیؓ کو بستر بچھا کر دیا کہ آپ آرام فرمائیں۔ انہوں نے پوچھا تمہارا کیا پروگرام ہے؟ کہا، میں تو ساری رات نفل پڑھتا ہوں، رات کو سوتا نہیں ہوں، عبادت کرتا ہوں۔ فرمایا، بستر لاؤ اور میرے ساتھ آرام کرو۔ انہوں نے کہا حضرت! یہ میرا معمول نہیں ہے۔ فرمایا، معمول ہے یا نہیں بستر ادھر لاؤ اور آرام کرو۔ مجبورًا ان کو بستر پر لیٹنا پڑا۔ درمیان میں ایک بات کہتا ہوں کہ حضرت سلمان فارسیؓ حضرت ابوالدرداءؓ کے بڑے بھائی بنائے گئے تھے اور بڑا بھائی تو بڑا بھائی ہی ہوتا ہے، بڑے بھائی کا دبکا مشہور ہے۔ حضرت ابوالدرداءؓ خود کہتے ہیں، میں یہ سوچ کر لیٹ گیا کہ تھوڑی دیر بعد جب حضرت سلمان فارسیؓ سو جائیں گے تو میں اٹھ کر مصلّے پر چلا جاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد اٹھنے کی کوشش کی تو حضرت سلمان فارسیؓ جاگ رہے تھے، کہنے لگے کدھر جا رہے ہو؟ آرام سے سو جاؤ۔ صبح سحری کے وقت حضرت سلمان فارسیؓ اٹھے، مجھے بھی اٹھایا کہ یہ وقت ہے عبادت کا، اٹھو تم بھی نفل پڑھو، میں بھی پڑھتا ہوں۔ اس کے بعد پروگرام یہ بنا کہ فجر کی نماز مسجد نبوی میں جا کر آنحضرتؐ کے پیچھے پڑھیں گے۔ مسجد جانے لگے تو حضرت سلمان فارسیؓ نے حضرت ابوالدرداءؓ کو ایک نصیحت کی۔
میں کہا کرتا ہوں کہ اسلام کے فلسفہ حقوق کی بنیاد حضرت سلمان فارسیؓ کی اس نصیحت پر ہے۔ انہوں نے حضرت ابوالدرداء کو مخاطب کر کے فرمایا ’’ان لربک علیک حقًا ولنفسک علیک حقًا ولزوجک علیک حقًا ولزورک علیک حقًا فاعط کل ذی حق حقہ‘‘ تیرے رب کے تجھ پر حقوق ہیں، تیری جان کے تجھ پر حقوق ہیں، تیری بیوی کے تجھ پر حقوق ہیں، تیرے مہمان کے تجھ پر حقوق ہیں، دین یہ ہے کہ ’’فاعط کل ذی حق حقہ‘‘ ہر حق والے کو اس کا حق وقت پر ادا کرو۔ اللہ کے حق کے وقت میں اللہ کا حق، جان کے حق کے وقت میں جان کا حق، کھانا پینا سونا وغیرہ یہ جان کے حق ہیں، بیوی کے حق کے وقت میں بیوی کا حق، اور مہمان کے حق کے وقت میں مہمان کا حق۔ ہر حق والے کو اس کا حق اس کے وقت پر ادا کرو، یہ ہے دین۔ یہ نصیحت کی اور اور پھر دونوں بھائی جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ فجر کی نماز مسجد نبوی میں آنحضرتؐ کے پیچھے ادا کی۔
نماز فجر کے بعد حضورؐ کا معمول یہ ہوتا تھا کہ مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھتے تھے، اشراق کے وقت تک بیٹھے رہتے تھے۔ یہ متفرق کاموں کی مجلس ہوتی تھی، اسے میں آج کی اصطلاح کے حوالے سے کھلی کچہری کہا کرتا ہوں۔ کوئی متعین کام نہیں ہوتا تھا، کوئی نئی وحی آئی ہوتی تو اس وقت سنا دیتے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو اس کی تعبیر پوچھ لیتا، کوئی مہمان آیا ہے تو اس کا حال احوال پوچھ لیا جاتا، کوئی خاص ہدایات دینی ہوتیں تو وہ دے دیتے، اور سمرۃ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ کوئی اور کام نہیں ہوتا تھا تو ہم گپ شپ کرتے رہتے تھے۔ اشراق تک یہ مجلس ہوتی تھی، اس کے بعد آپؐ گھر تشریف لے جاتے تھے، بلکہ بسا اوقات حضورؐ خود پوچھتے تھے کسی نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا۔
ایسے ہی اس دن حضورؐ مقتدیوں کی طرف متوجہ ہوئے تو حضرت ابوالدرداءؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کو دیکھا تو ان کو بلا لیا۔ حضرت ابوالدرداءؓ سے پوچھا، بھائی کیسا لگا ؟ آپس میں مزاج ملا؟ حضرت ابوادرداءؓ پچھلے ایک دن سے بھرے بیٹھے تھے، موقع ملتے ہی ساری کارگزاری سنا دی کہ یارسول اللہ! انہوں نے جاتے ہی میری بیوی سے انٹرویو کیا، پھر میرا روزہ تڑوا دیا، رات کو مجھے نفل نہیں پڑھنے دیے، مجھ سے زبردستی نیند کروائی، صبح کو یہ نصیحت کی اور ہم یہاں آگئے ہیں۔ اس پر جناب نبی کریمؐ نے ایک جملہ کہا ’’صدق سلمان‘‘۔ صدق فعل پر بھی لگتا ہے اور قول پر بھی لگتا ہے۔ مطلب یہ کہ سلمان نے جو کیا ہے ٹھیک کیا ہے اور جو کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔ اس سے پہلے یہ جملے حضرت سلمانؓ کی نصیحت تھی ’’ان لربک علیک حقًا ولنفسک علیک حقًا ولزوجک علیک حقًا ولزورک علیک حقًا فاعط کل ذی حق حقہ‘‘۔ لیکن حضورؐ کے ’’صدق سلمان‘‘ کہنے سے یہ جملے مرفوع حدیث ہوگئے ہیں۔
یہ جناب نبی کریمؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ کے حق کے لیے بندوں کے حق نہ مارو، اور بندوں کے حق کے لیے اللہ کا حق نہ مارو، ہر ایک کا حق ادا کرو۔ میں کہا کرتا ہوں کہ اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی بنیاد قرآن کریم کی ’’واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئًا‘‘ والی آیت ہے اور سلمان فارسیؓ کے یہ جملے ہیں، اور اس میں بھی ترتیب وہی ہے کہ پہلے حقوق اللہ کا ذکر ہے پھر حقوق العباد کا۔
(جاری ہے)