تصوف کی حقیقت اور اس کا مقصد تکمیل ایمان کا درجہ اور اخلاص کا مقام ہے۔ حقیقی تصوف مومن و مال ایمان اور اخلاص کے اعلیٰ درجہ پر لے جاتا ہے اور وہ آمناً و صدقناً و عملاً اپنالیتا ہے۔ تصوف توحید کامل کا عملی نمونہ اور سنت رسولﷺ کا پیمانہ ہے۔
تصوف کا علم دراصل اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے سفر کا علم ہے، جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے دل کو ہر قسم کی نفسانی خواہشات اور دنیاوی رغبتوں سے پاک کرے اور قولاً و فعلاً اللہ تعالیٰ کے ساتھ خلوص عبودیت کا تعلق قائم کرے۔ حضرت حسن بصری ؓفرماتے ہیں، میں نے بدر کے چالیس صحابہ کرام کو اون کے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا۔ یہ لوگ دنیا اور مادی چیزوں سے دستکش اللہ کی عبادت اور ذکر و تسبیح میں محو و مصروف رہتے ‘صوف کا لباس پہننے کی وجہ سے عام لوگ انہیں صوفی کہنے لگے۔ کیونکہ یہ ان لوگوں سے مختلف اپنا سارا وقت اللہ کی اطاعت و عبادت میں گزارتے اور تمام مادی خواہشات سے بے نیاز اللہ کی محبت میں ذکر و عبادت اور صوم و صلاۃ میں محو و مستغرق رہتے اور دنیا میں مسافر بن کے رہتے اور اس طرح صوفی وہ کہلاتا جو عرفان و حقیقت کے تجربے کا مسافر بن کر اللہ کی عبادت میں معتکف ہو جاتا ہے اور اللہ کی توحید میں اس طرح وحید ہو جاتا ہ جہاں کسی طرح شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔
حضرت جنید بغدادی ؒ نے فرمایا، صوفی زمین کی مانند ہے جو نیک اور بد سب کا بوجھ اٹھاتا ہے، آسمان کی طرح ہے جو سب پر سایہ کرتا ہے، اور بارش کی طرح ہے جو سب کو دھو دیتا ہے اور کسی کا برا نہیں چاہتا ہے نہ کرتا ہے۔ جو اس پر زیادتی کرے اس کو بھی معاف کرتا اور بدلے میں اچھائی کرتاہے۔ حقیقی صوف خوشبو اور محبت پھیلاتا ہے۔ حقیق صوفی تکبر اور شان و شوت و چھوڑکر عجز و فقر اپناتا ہے اور تقویٰ اور تزکیہ کو اپنا شعار بناتا ہے۔
قرآن مجید میں تزکیہ نفس کو کامیابی کی شرط قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے تزکیہ اختیار کیا(سورۃ الشمس، 91:9)
اللہ کا ذکر اور قرب تصوف میں اللہ کے ذکر کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا(سورۃ البقرہ، 2:152)
اللہ کے ذکر سے انسان کا دل روشن اور نفس پاکیزہ ہوتا ہے۔ صوفی کا مقصد یہی ہے کہ وہ اپنے دل کو اللہ کے ذکر سے منور کر کے قربِ الٰہی حاصل کرے۔
حقیقی صوفی اپنے دل میں دنیاوی چیزوں کی محبت کو ختم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:اور دنیا کی زندگی تو بس دھوکے کا سامان ہے(سورۃ الحدید، 57:20)
صوفی دنیا کی ظاہری چمک دمک سے بے نیاز ہوتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کی محبت اور یاد سے بھرتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دنیا کی محبت تمام خطائوں کی جڑ ہے۔
حدیث کے مطابق اللہ کا ارشاد ۔ میرے بندوں میں سے میرے اولیا وہ ہیں جو میرے ذکر سے مجھے یاد رکھتے ہیں اور میری محبت میں مبتلا ہوتے ہیں۔(صحیح بخاری)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ولی یعنی اس کے خاص بندے ہمیشہ اللہ کے ذکر اور اس کی محبت میں مشغول رہتے ہیں، اور یہی صوفی کا مقام ہوتا ہے۔
صوفی اور دل کی صفائی ‘صوفی کا دل ہر قسم کی نفسانی خواہشات سے پاک اور اللہ کی محبت سے بھرا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح مسلم)
یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تصوف میں دل کی پاکیزگی اور نیت کی خالصیت ہی اصل مقصود ہے۔صوفی اور اللہ کا قرب‘ صوفی عالمگیر شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس نے خودی کے نشانات کو اس حد تک کم کیا کہ بالآخر ختم کر دیا، جس سے اسے کائناتی حقیقت کی صاف تصویر نظر آتی ہے۔ اس نے کائنات کو لپیٹ دیا اور اس کے بعد اس سے بھی آگے نکل گیا۔ اس نے اللہ کا ذکر کیا یہاں تک کہ اس کا فہم حاصل کیا۔ دنیا میں سب لوگ بچوں کی طرح کھیل رہے ہیں۔ صوفی کا کام یہ ہے کہ ابتدا میں انجام کو پہچانے اور انجام میں ابتدا کو سمجھے، ایک یگانگی والے نظریے تک پہنچے۔ جب بیرونی تضادات یکساں ہو جائیں، اور لمحہ حضوری میں بدل جائے، اور دل مطمئن، خالی اور بھرا ہوا ہو، روشنی پر روشنی ہو، تو اون کے لباس میں ملبوس یہ بندہ عزت کے خلعت سے نوازا جاتا ہے اور تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔
ایک امام نے فرمایا: اگر مجھے تصوف سے بڑا کوئی علم معلوم ہوتا تو میں اس تک پہنچنے کے لیے اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتا۔یہ اقتباسات تصوف کی روحانی حقیقت کو واضح کرتے ہیں اور اس بات کو بیان کرتے ہیں کہ صوفی کا اصل مقصد اللہ کا قرب اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ صوفی اپنی ذات کو اللہ کی محبت میں فنا کر کے بقا حاصل کرتا ہے اور اسی کی جستجو میں وہ ہر لمحہ اللہ کے ذکر اور اس کی قربت کی طرف متوجہ رہتا ہے۔تصوف کی جامعیت اور اس کے مختلف پہلوئوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھ کر اخلاص و محبت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنا اور سنت نبوی کے مطابق زندگی گزارنا سلوک و احسان یا تصوف کہلاتا ہے۔