COP29 (کانفرنس آف پارٹیز 29) اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کی ایک اہم عالمی کانفرنس ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور عالمی رہنمائوں کو موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملیوں اور اقدامات پر بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں عالمی رہنما، ماہرین، اور پالیسی ساز موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر ایک مشترکہ کوشش کرنے پر متفق ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اور COP29 ایک ایسا موقع ہے جہاں پاکستان اپنے موسمیاتی بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکتا ہے، عالمی سطح پر مالی امداد اور تکنیکی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے ملکی اقدامات کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی حکومت کی ترجیحات میں موسمیاتی تبدیلی کو ایک مرکزی حیثیت دی ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے موسمیاتی بحران کے اثرات کو کم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں اور وہ عالمی سطح پر پاکستان کے موسمیاتی مسائل کو حل کرنے کے لیے عالمی کمیونٹی سے تعاون کی اپیل کر رہے ہیں۔
پاکستان میں اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات روزبروز شدت اختیار کر رہے ہیں اور یہ بحران ملک کی زراعت، پانی کے وسائل، انسانی صحت اور قدرتی وسائل پر شدید اثرات ڈال رہا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے ہیں جن میں عالمی سطح پر پاکستان کی آواز کو بلند کرنا، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے داخلی حکمت عملی تیار کرنا اور عالمی کمیونٹی سے تعاون حاصل کرنا شامل ہے۔ ان کی کوششوں کا مقصد نہ صرف پاکستان کی موسمیاتی حساسیت کو کم کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے موسمیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے دنیا کے دیگر ممالک سے مدد حاصل کرنا بھی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اقتدار کے ابتدائی سالوں میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سب سے اہم قدم ملک میں جنگلات کی مقدار کو بڑھانا اور قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا ہے۔یہ پروگرام عالمی سطح پر پاکستان کی موسمیاتی پالیسی کی طرف ایک اہم قدم تھااور اس نے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کو بہتر کیا۔ پاکستان میں قدرتی آفات کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر، وزیراعظم شہباز شریف نے قومی قدرتی آفات کے انتظامی ادارہ (NDMA) کو مزید فعال کیا ہے تاکہ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ NDMA کی مدد سے پاکستان میں قدرتی آفات جیسے سیلاب، خشک سالی اور دیگر آفات کے لیے بہتر تیاری کی جا رہی ہے۔ اس ادارے کی تشکیل کا مقصد ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی سطح پر پاکستان کے موسمیاتی بحران کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی آواز بلند کی ہے۔ خاص طور پر، COP27 میں وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچا کے لیے مالی امداد فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنے وعدوں کے مطابق موسمیاتی مالی امداد فراہم کرنی چاہیے تاکہ کم ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں کامیاب ہو سکیں۔انہوں نے (Loss and Damage) کے فنڈ کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ یہ فنڈ ان ممالک کے لیے قائم کیا جائے گا جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان، چونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہے، اس لیے اس فنڈ کی تشکیل کے لیے وزیراعظم کی کوششیں اہم رہی ہیں۔پاکستان میں 2022ء کے سیلاب نے نہ صرف انسانی جانوں کونقصان پہنچایا بلکہ ملک کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ انہوں نے اس قدرتی آفت کے بعد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری امداد کاآغاز کیا۔ حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے فوری طور پر خوراک، پناہ گاہیں اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کیں۔ اس کے علاوہ، نیشنل فلڈ ریسپانس اور بحالی منصوبہ تیار کیا گیا تاکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی بحال کی جا سکے۔پاکستان کی حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل میں سیلابوں کی شدت کو کم کرنے کے لیے موسمیاتی مزاحمت کی حکمت عملیوں پر عمل کیا جائے، جیسے کہ بہتر پانی کے انتظام کے نظام، قدرتی وسائل کا تحفظ اور موسم کی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال وغیرہ۔COP29 میں پاکستان کے لیے کئی اہم ترجیحات ہیں، جن میں موسمیاتی مالی امداد کا حصول، موافقت کے اقدامات اور پائیدار توانائی کے نظام کی تشکیل شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان ان مسائل پر عالمی رہنماں سے بات چیت کرے گا اور عالمی سطح پر پاکستان کی آواز بلند کرے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت ترقی یافتہ ممالک سے یہ مطالبہ کرے گی کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق کم از کم 100 بلین ڈالر سالانہ موسمیاتی امداد فراہم کریں تاکہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کر سکیں۔پاکستان اپنے موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے Adaptation کے اقدامات پر بھی زور دے گا جن میں زراعت کے شعبے کی موسمیاتی تبدیلی کے لیے تیاری، پانی کے بہتر انتظام کے نظام اور قدرتی آفات سے بچائو کے اقدامات شامل ہیں۔پاکستان COP29میں (Renewable Energy) کے منصوبوں کی ترویج کے لیے عالمی مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، جس میں شمسی، ہوا اور آبی توانائی کے شعبوں کی ترقی شامل ہے۔ اس کا مقصد پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔
COP29 پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے جس میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔ پاکستان کی موسمیاتی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعاون کی کوششوں سے یہ ممکن ہو سکے گا کہ عالمی برادری موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کو حل کرنے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرے۔ وزیراعظم شہبازشریف کا یہ عزم کہ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی رہنمائوں سے تعاون کرے گا، ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔