دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی ایک سنگین اوربڑھتا ہوا بحران ہےجو ہرگزرتےدن کے ساتھ مزید پیچیدہ اورشدیدہوتاجارہا ہے۔ یہ عالمی سطح پر قدرتی آفات کی شدت کو بڑھا رہا ہے، گلیشئیرز کو پگھلا کرسمندری سطح کو بلند کر رہا ہے اور فطری وسائل کو تیزی سے ختم کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور دنیا کی معیشتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس بحران کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی 29ویں کانفرنس آف دی پارٹیز (COP29) ایک اہم عالمی فورم ہے، جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عالمی رہنما اور ماہرین جمع ہو کر مشترکہ حل تلاش کرتے ہیں ۔
پاکستان کا شمار موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کی معیشت، زراعت، پانی کے ذخائر اور عوامی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختون خوا، پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے علاقوں میں پانی کی شدید کمی اور گرمی کی لہر بڑھتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب اور قدرتی آفات کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے، جو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات مختلف نوعیت کے ہیں۔ ان اثرات کو سمجھنا اس لیے ضروری ہےکہ ہم ان چیلنجز سےنمٹنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کر سکیں۔دنیا کے چھوٹے جزیرے، جیسے مالدیپ، تووالو، اور کک آئی لینڈز، شدید خطرات سے دوچار ہیں۔ سمندری سطح کا بلند ہونا ان کی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہاں کے بیشتر علاقےسطح سمندر سےنیچےواقع ہیں، اور اگرسمندری سطح میں مزید اضافہ ہوا تو یہ علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ سکتے ہیں، جس کےنتیجے میں لاکھوں افراد بےگھر ہو سکتے ہیں۔ ان ممالک کی معیشت کا انحصار زیادہ تر سیاحت اور ماہی گیری پر ہے، اور ان دونوں شعبوں پرماحولیاتی تبدیلی کےمنفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔پاکستان اور بھارت جیسے ترقی پذیرممالک ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدیدمتاثرہیں۔ دریاوں کی آلودگی اور پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ افریقہ کے کئی ممالک جیسے نائیجیریا، سوڈان، اور صومالیہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ یہاں خشک سالی، قحط سالی، اور زرعی پیداوار کی کمی عام ہو چکی ہے۔ افریقہ کے ممالک میں کم بارشیں اور بلند درجہ حرارت زرعی زمینوں کو بنجر بنا رہے ہیں، جس سے لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہو رہا ہے اور بہت سی کمیونٹیز نقل مکانی پرمجبور ہو رہی ہیں۔امریکہ اور یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ امریکی ریاستیں جہاں سیلاب، طوفان اورجنگلات کی آگ کی شدت میں اضافہ ہو چکا ہے، وہیں یورپ میں گرمی کی لہر اور شدید سیلاب کی تباہی کے واقعات بڑھتےجا رہے ہیں۔ اسپین، اٹلی اور یونان جیسے ممالک میں شدید گرمی، پانی کی کمی اور آفات کے اثرات نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔چین میں بڑھتی ہوئی آلودگی، شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی، اور قدرتی آفات جیسے طوفان اور زلزلے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات ہیں۔ جاپان میں سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو انسانی زندگی اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرناک ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے چین اورجاپان نے مختلف پالیسی اقدامات کیے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔
COP29 کا انعقاد عالمی برادری کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے اگر اس میں طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد ہو۔ اس کانفرنس میں پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو مالی اور تکنیکی معاونت کی ضرورت ہے تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کےلیےاپنے وسائل کو بہتر طور پر استعمال کر سکیں۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی پچھلے سال ماحولیاتی تبدیلی کی کانفرنس میں ترقی پزیر ممالک کو فنڈز کی فراہمی کے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی فنڈز کی تقسیم میں منصفانہ عمل اپنایا جائے تاکہ وہ ممالک جو اس بحران کا سامنا کر رہے ہیں انہیں مدد فراہم کی جاسکے۔پاکستان نے اس کانفرنس میں عالمی رہنمائوں کے سامنے یہ موقف رکھا کہ ترقی پذیر ممالک پر ماحولیاتی تبدیلیوں کا اثر زیادہ پڑ رہا ہے، حالانکہ ان ممالک کا گلوبل وارمنگ میں کردار کم ہے۔ ان ممالک کے لیے موسمیاتی فنڈز، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور ماحولیاتی تعلیم ضروری ہے تاکہ وہ اپنے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکیں اور مستقبل میں ماحولیاتی آفات سے بچائو کے لیے اقدامات کر سکیں۔ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر ایک جامع معاہدہ ضروری ہے، جس میں تمام ممالک مشترکہ طور پر اس بات پر متفق ہوں کہ وہ اپنے گلوبل وارمنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔ یہ معاہدہ کاربن کے اخراج میں کمی، صاف توانائی کے ذرائع کی ترویج، اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک پر مبنی ہو۔سبز معیشت میں صاف توانائی، ری سائیکلنگ، اور پائیدار زرعی پیداوار کی ترویج کی جائے ، جس سے قدرتی وسائل کا بہتر استعمال اور ماحول کی حفاظت ہو سکے گی۔
ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی فنڈز فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کر سکیں۔ ان فنڈز کا استعمال پانی کے ذخائر کی حفاظت، توانائی کے نئے ذرائع کی ترقی، اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی تعمیر میں کیاجاسکتا ہے۔ماحولیاتی تعلیم کےذریعے لوگوں کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح اپنی روزمرہ کی زندگی میں ماحول دوست عادات اپنائیں اور اس بحران سے نمٹنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے اثرات ہر گوشے میں پہنچ چکےہیں۔ COP29 جیسے عالمی فورمز کاانعقاد اس بات کاغماز ہےکہ عالمی برادری اس چیلنج کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اس بحران کا حل صرف عالمی سطح پر معاہدوں اور پالیسیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں انفرادی، مقامی اور قومی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے۔