Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

? Do or Die

افسوس صد افسوس کہ کبھی ’’ڈو آر ڈائی‘‘کا نعرہ ملک دشمنوں کے خلاف استعمال کیا جاتا تھا مگر اب اپنے ہی ملک و ملت کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان کی سیاست تو خیر ہر دور میں ہی ایک سنگین موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ یہ کوئی پہلی بار نہیں کہ ملک میں سیاسی بحران نے سر اٹھایا ہو، مگر موجودہ حالات پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دبائو بڑھایا جا رہا ہے، تو دوسری طرف حکومت اور ریاستی ادارے اپنی طاقت کو برقرار رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ایسا لگ رہا ہے کہ ایک مخصوص سیاسی گروہ، جو پہلے بھی ریاستی اداروں کے خلاف متنازعہ بیانات دیتا رہا ہے، اب ایک اور بحران پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ یہ گروہ دراصل پی ٹی آئی ہے، جس کی قیادت عمران خان کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اپنی سیاست میں جارحیت کو بڑھایا ہے اور حالیہ دنوں میں عمران خان کی طرف سے ایک نیا سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ عمران خان، جو اس وقت جیل میں قید ہیں، نے اپنی رہائی کے لیے ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
9 مئی 2023 ء کا سانحہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ریاستی اداروں پر حملے، اہم سرکاری عمارتوں کی توڑ پھوڑ، اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑانا اس بات کا غماز ہے کہ کچھ عناصر ریاستی سسٹم کو کھلے عام چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ حملے صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہے بلکہ ان سے پورے ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اور اب، جب نومبر کو ایک نئے احتجاج کی تیاری کی جارہی ہے، تو یہ خدشات ایک بار پھر جڑ پکڑ رہے ہیں کہ کہیں یہ احتجاج ایک اور خونریز سانحے کی طرف نہ لے جائے۔جیل سے جاری پیغام میں عمران خان کا کہنا ہے کہ 24 نومبر کو احتجاج صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں اس کا دائرہ پھیل جائے گا۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جس سے عوام میں مزید افراتفری پھیل سکتی ہے۔پی ٹی آئی کے کارکنوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر حکومت کو گرا کر رہیں ۔ عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے ساتھ ساتھ یہ تحریک اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی اس کا اثر پڑے گا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور ان کے حمایتی ملکی قانون کو چیلنج کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی میں شدت پسندی کا عنصر واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ پارٹی کے نعرے، جیسے ’’جلا دو، توڑ دو، مار دو، گھیر لو‘‘، نہ صرف سیاسی ماحول میں تلخی پیدا کرتے ہیں بلکہ یہ پورے ملک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے رہنمائوں کے بیانات اور اقدامات ملک میں سیاسی انتقام کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں اور ان کا کہنا کہ یہ عمران خان کی رہائی کا ’’آخری موقع‘‘ہے، یہ بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ ریاستی اداروں کو چیلنج کرنے کے لیے اپنے کارکنوں کو ایک بار پھر میدان میں اتارنے کے لیے تیار ہے۔ ان تمام بیانات کے پیچھے ایک نہ ختم ہونے والی جنگ چھپی ہوئی ہے، جو آئین و قانون کی بالادستی کے خلاف جا رہی ہے۔ پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کا ایک نیا باب کھل رہا ہے، اور وہ ہے بشری بی بی کا پی ٹی آئی میں بڑھتا ہوا کردار۔ عمران خان کی گھریلو اہلیہ بشری بی بی نے پارٹی کی سیاست میں باضابطہ طور پر انٹری دی ہے اور پارٹی فیصلوں میں کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ پشاور میں ہونے والے اجلاس میں بشری بی بی نے احتجاج سے متعلق احکامات جاری کئے۔انہوں نے 24 نومبر کو احتجاج میں ہر حلقے سے ایم این اے کو 10ہزار اور ہر ایم پی اے کو 5ہزار افراد ساتھ لانے کی ہدایت کی۔ بشری بی بی نے وارننگ بھی دے دی کہ جو اراکین اسمبلی اپنے ساتھ لوگ نہیں لائے گا اسے پارٹی سے باہر کیا جائے گا اور جو پارٹی رہنما، ایم این اے یا ایم پی اے احتجاج سے پہلے گرفتار ہوا وہ بھی پارٹی سے باہر سمجھا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی سینئر قیادت بشری بی بی کے اس کردار سے خائف نظر آتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ خان کی بیوی کا سیاست میں اس قدر اہمیت کا بڑھنا ایک نیا رجحان ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں عمران خان کی گرفت کمزور ہو سکتی ہے جبکہ ان کی پارٹی کی پالیسیوں میں مداخلت سے پی ٹی آئی کے مستقبل کی سیاسی سمت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک اور سنگین مسئلہ جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ پی ٹی آئی کے جلسوں میں افغان دہشت گرد تنظیموں کی مبینہ موجودگی ہے۔ احتجاجی جلسوں میں افغان شہریوں کو پیسوں کے عوض لایا جاتا ہے اور وہ مسلح ہو کر ان جلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے جلسوں سے افغان دہشت گردوں کے پکڑے جانے کے شواہد موجود ہیں، جو پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔افغانوں کا پاکستان کے سیاسی جلسوں میں آنا اور ان کا مسلح ہونا تشویش کی بات ہے۔ پی ٹی آئی کے جلسوں میں ان دہشت گردوں کی موجودگی اس بات کا غماز ہے کہ یہ جماعت ملک کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اس سے پاکستان کی سلامتی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔اگر ریاست اپنی رٹ قائم رکھنے میں ناکام ہو جاتی ہے، تو سیاسی استحکام مزید متاثر ہو گا اور دشمن قوتیں ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا موقع حاصل کر لیں گی۔ ہمیں ایک ایسا پاکستان چاہیے جس میں آئین و قانون کی حکمرانی ہو۔یہ سوال نہ صرف پی ٹی آئی قیادت، بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہم ہے کہ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں؟ کیا ہم پرامن پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ یا پھر سیاسی انتہاپسندی اور انتشار کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں؟ ہمیں اپنے فیصلوں پر غور کرنا ہو گا اور یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم نے کس پاکستان کی تعمیر کرنی ہے۔
افسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنائو
تو دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!

یہ بھی پڑھیں