تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر احتجاج کے لیے صف آرائی کر رہی ہے ۔تازہ حکم نامہ اڈیالہ جیل سے آیا ہے۔ ظاہر ہے تحریک انصاف میں حکم جاری کرنے کا حق صرف بانی چیئرمین کے لیے مخصوص ہے۔ باقی عہدے دار اور کارکنان صرف حکم کی تعمیل کے ذمہ دار ہیں ۔تعمیل بھی بلاچون و چراں،تحریک انصاف کو احتجاج میں مصروف ہوئے دو برس سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے بعض منچلے اب اسے تحریک انصاف کے بجائے تحریک احتجاج پکارنے لگے ہیں ۔ایک دل جلے نے خوب کہا ہے کہ تحریک انصاف ناکام احتجاجوں کا وسیع تجربہ رکھتی ہے ۔ بلا شبہ بانی چیئرمین کی اسیری سے بطور جماعت تحریک انصاف کی تنظیمی اور نظریاتی خامیاں زیادہ نمایاں ہوتی جارہی ہیں۔ اس امر میں دو رائے نہیں ہو سکتی کہ بانی چیئرمین کی ذاتی مقبولیت اور شہرت ہی پی ٹی آئی کی سب سے بڑی قوت ہے۔ بدقسمتی سے اچھے دنوں میں پارٹی قیادت نے کبھی بھی کارکنوں اور اراکین پارلیمان کی سیاسی تربیت پر توجہ نہیں دی۔ بانی چیئرمین کی مقبولیت کے بعد پی ٹی آئی کی دوسری بڑی طاقت اس کی سوشل میڈیا ٹیم کو قرار دیا جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا ٹیم کو بھی صرف الزام تراشی، کردار کشی اور ہیجان انگیز پروپیگنڈے میں مصروف رکھا گیا۔ اس آتش گیر حکمت عملی نے وقتی طور پر تو سیاسی مخالفین کو زیر کر نے میں مدد دی لیکن رفتہ رفتہ یہ جارحانہ طرز عمل پی ٹی آئی کے سیاسی اور اخلاقی کردار کو داغدار کر رہا ہے۔
مقبولیت سیاسی جدوجہد میں اہمیت کی حامل ہے لیکن حکمت عملی اور سنجیدگی کا متبا دل نہیں ہو سکتی۔ بحرانوں میں گھری پی ٹی آئی آج اس تلخ حقیقت کے عملی تجربے سے آشنا ہو رہی ہے ۔مقبولیت کے منہ زور گھوڑے پہ سوار ہو کے بانی پی ٹی آئی نے متعدد غلط سیاسی فیصلے کیے۔ان فیصلوں کا خمیازہ صرف تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ پورا ملک آج تک بھگت رہا ہے ۔ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ حکمران جماعت کے لیے خواہ کتنا ہی ناپسندیدہ رہا ہو لیکن اس اقدام کو غیر آئینی یا غیر جمہوری قرارنہیں دیا جا سکتا ۔ ڈھائی برس کے تلخ تجربات نے ثابت کر دیا کہ قومی اسمبلی میں آئینی جدوجہد کی بجائے سڑکوں اور گلیوں میں احتجاج کا فیصلہ درست نہیں تھا ۔عوامی مسائل اور قومی سطح کے خارجی چیلنجزکے تناظر میں اگر بانی چیئرمین حزب اختلاف کے مورچے سے پی ڈی ایم حکومت کے خلاف پارلیمان میں موثر کردار ادا کرتے تو شاید کم وقت میں مطلوبہ نتائج حاصل کر لیتے ۔ بدقسمتی سے بانی چیئرمین نے سنجیدہ سیاسی حکمت عملی کے بجائے عوامی جلسے میں سائفر لہراکر امریکہ مخالف جذبات کو بھڑکانے کو ترجیح دی۔ آج تحریک انصاف کو ایسے سنجیدہ مزاج افراد درکار ہیں کہ جو پارٹی کی سیاسی خامیوں کا مکمل غیر جانبداری سے تجزیہ کر کیاصلاح احوال کا نسخہ تجویز کریں۔ سائفر کو آتش گیر مواد کی طرح استعمال کر کے عمران خان نے جو سیاسی دھماکے کیے ان کے نتیجے میں فائدہ کم اور نقصانات زیادہ ہوئے ہیں۔ فائدہ صرف یہ ہوا کہ بانی چیئرمین نے سوشل میڈیا ئی ڈھنڈورچیوں کے ذریعے خود کو امریکہ مخالف مزا حمتی اور انقلابی قائد بنا کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹ لیں۔ اسی حکمت عملی کا تباہ کن پہلو یہ تھا کہ پی ٹی آئی کی حمایت پر کمر بستہ طبقے میں وہ لوگ صف اول میں دکھائی دیئے جو ریاست مخالف بیانیے پر یقین رکھتے ہیں۔ اشتعال انگیز بیانیئے کی طوفانی لہر میں بہہ کر تحریک انصاف کے کارکن اور قیادت بہت دور نکل گئے۔ انہیں شائد ادراک نہیں ہوا کہ ان کی جد جہد سیاسی مخالفین کی بجائے ریاستی اداروں کی جانب مڑ گئی ۔ ریاستی اداروں کو سیاسی تنازعات میں الجھانا اور ان کے خلاف سوشل میڈیا ڈھنڈور چیوں کو شہ دینا قابل مذمت اقدامات ہیں۔ مظلومیت اور عوامی مینڈیٹ چوری ہو جانے کے بیانیئے کو اپنانے کے بعد پی ٹی آئی مستقبل کے اقدامات پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تحریک انصاف کے حقیقی خیر خواہ وہی ہوں گے جو گرفتاریوں کا واویلا مچانے والوں سے سانحہ نو مئی میں جماعت کے مشکوک کردارپر سوال اٹھائیں گے۔ یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے کہ فوج کے دو بھگوڑے کورٹ مارشل شدہ اہلکار لندن اور کینیڈا میں بیٹھ کر کیوں ریاست کے خلاف پی ٹی آئی کے حامیوں کو متحرک کرتے رہے ہیں؟
بانی چیئرمین کی کابینہ کے دو اہم اراکین لندن اور امریکہ کی پارلیمان کی خاک کیوں چھان رہے ہیں؟ کیا تحریک انصاف امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک کر اقتدار میں واپسی کے راہ ہموا کر رہی ہے۔ برطانوی پارلیمان کے اراکین کا خط ،امریکی کانگرس میں پیش کردہ قرارداد اور ساٹھ کانگریس اراکین کا خط جو کہانی پیش کرتا ہے وہ سائفر کی بنیاد پر گھڑے گئے اشتعال انگیز بیانئے کی نفی کرتا ہے۔ امریکہ سے پاکستان کے دو طرفہ تعلقات کے نشیب و فراز کو جانتے بوجھتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح پر جس طرح پی ٹی آئی نے شادیانے بجائے وہ قابل افسوس ہے ۔24 نومبر کو احتجاج کا اعلان سیاسی پٹا خہ ہی ثابت ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کے پی کارگردگی کے بجائے احتجاجی جلسوں کی بھاگ دوڑ اور اچانک غائب ہو کر دور دراز مقاما ت سے نمودار ہونے کے کر تب دکھا رہے ہیں ۔چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیر ہ علیمہ خان نے احتجاج کی کال اڈیالہ جیل سے عوام تک پہنچائی ہے ۔شنید ہے کہ بڑھکیں مارنے والے قائدین میدان عمل میں نکلنے سے ہچکچا رہے ہیں ۔ایک منچلے نے صوابی جلسے میں امریکی پرچم لہرا کر پی ٹی آئی کے سائفر بیانیئے کا غبارہ پھوڑ ڈالاہے ۔ احتجاج کا معرکہ بپا کرنے سے پہلے پی ٹی آئی اس پہلو پہ غور کرے کہ دو سال کے عرصے میں سائفر لہرانے سے امریکی پرچم لہرانے تک کی نوبت کیوں پیش آئی؟ 24نومبر کو احتجاج کے لیے نکلنے والے مرشد کے متوالے ہوں گے یا عاشقان ٹرمپ؟دیکھتے ہیں اس سوال کا جواب پی ٹی آئی کب دیتی ہے۔