9 نومبر کو صوابی میں پی ٹی آئی جلسے کی ناکامی نے پی ٹی آئی کے سارے دعوئوں کی قلعی کھول دی۔ہر خاص و عام کو معلوم ہو گیا کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں کتنی مقبولیت کی حامل سیاسی جماعت ہے؟علی امین گنڈا پور کا یہ بیان بڑا معنی خیز تھا۔متعدد بار وہ اپنے اس بیانکا اعادہ بھی کرچکے تھے،بار بار دہرا بھی رہے تھے کہ صوابی جلسے میں بانی کی رہائی کے لئے وہ احتجاج کی آخری کال دیں گے۔یہ کال حتمی ہو گی جس کے بعد سب کچھ بدلتا نظر آئے گا مگر ایسا کچھ نہ ہو سکا۔پی ٹی آئی قیادت کے سب ہی قیاس و گمان صوابی جلسے سے جڑے ہوئے تھے۔وہ منتظر تھے کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر سے سینکڑوں قافلے صوابی کی طرف کوچ کریں گے۔تخمینہ لاکھوں کا تھا۔مگر جب چھ بھی بج گئے،لاکھوں افراد جمع نہ ہو سکے تو جلسہ کی انتظامیہ کو جلسہ شروع کرنا پڑا۔علی امین گنڈا پور خود بھی پنڈال میں موجود تھے۔لیکن ان کا منصب بھی لوگوں کو جلسہ گاہ کی طرف مائل نہ کر سکا۔نجی ٹی وی چینلز نے جب صوابی جلسہ اپنے نیوز بلیٹن میں دکھایا تو وہ بڑا یا مثالی نہیں تھا۔یقینا پی ٹی آئی کے بہی خواہوں کو اس کا دکھ ہوا ہو گا۔غم اور صدمے کی جو کیفیات ہو سکتی ہیں انہیں میں اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔صوابی جلسے کی ناکامی نے احتجاج کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔علی امین گنڈا پور کے متعلق پہلے جو گمان تھا اب حقیقت میں بدلتا نظر آرہا ہے کہ وہ صرف بڑکیں مارتے ہیں،عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے۔اکتوبر میں جب گنڈا پور نے ڈی چوک جانے کی بات کی تھی تب صوابی سے ہی ایک بڑے کانوائے کے ساتھ نکلے تھے۔چیف منسٹر کا پورا پروٹوکول ساتھ تھا۔مگر ڈی چوک پہنچنے سے پہلے ہی اپنا کانوائے چھوڑ کر غائب ہو گئے۔پھر پتہ چلا کے پی کے ہائوس چلے گئے ہیں۔اس اطلاع پر رینجرز اور اسلام آباد پولیس نے کے پی کے ہائوس پر چھاپہ مارا تو وزیراعلی گنڈا پور وہاں نہیں ملے۔اگلے روز پشاور پہنچ گئے۔جہاں صوبائی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا،بھرپور خطاب کیا۔ پھر اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئے۔انہیں جلوس چھوڑ کر اچانک کے پی کے ہائوس اسلام آباد جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جلوس کے شرکا کو بھی جلوس سے جانے کی وجہ نہ بتائی جس کے باعث پی ٹی آئی کے ورکرز، ارکان اسمبلی اور غیر جانبدار مبصرین اور نقاد اب یہ کہنے اور رائے قائم کرنے میں حق بجانب ہیں کہ علی امین وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔بانی کی بھی ناراضگی انہیں قبول نہیں۔بانی کی خوشنودی کے لئے اگرچہ انہوں نے سر سے کفن باندھنے کی بھی بات کی ہے۔گھر والوں کو یہ سندیسہ دیا ہے کہ واپس نہ آئے تو ان کی نعش واپس آئے گی۔بانی کے حکم پر احتجاج کی کال دیں گے۔احتجاج سے اس وقت تک واپسی نہیں ہو گی جب تک بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہیں ہو جاتی۔لیکن کیا احتجاج سے ایسا ممکن ہے بانی رہا ہو سکیں گے۔انہیں اگر رہائی ملنی ہے تو اس کا واحد راستہ صرف عدالت ہے۔عدالت کے بغیر بانی کی رہائی ممکن نہیں۔پی ٹی آئی کے رہنما اور سینئر قانون دان علی ظفر اگرچہ یہ موقف رکھتے ہیں کہ بانی کے خلاف قائم تمام مقدمات جعلی اور بوگس ہیں جن میں سے کافی میں انہیں ضمانت مل چکی ہے۔لیکن جو رہ گئے ہیں ان میں بھی عنقریب ضمانت متوقع ہے۔تاہم علی ظفر کا یہ صرف گمان ہے۔یقین انہیں بھی ہے کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ راضی نہیں ہو گی،بانی اڈیالہ کے قید خانے سے باہر نہیں آسکتے۔190ملین پونڈ کا کیس اب اپنے آخری مراحل میں ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے بانی اور اہلیہ بشری بیگم کے خلاف یہ ایسا کیس ہے جو بہت سے دستاویزی شواہد کے ساتھ عدالت کے سامنے موجود ہے۔تمام گواہیاں ہو چکی ہیں۔گواہان پر جرح کے مراحل بھی طے کر لئے گئے ہیں۔بس اب کسی بھی وقت فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔ امید نہیں کہ یہ بانی اور ان کی اہلیہ کے حق میں آئے۔ فیصلہ خلاف آتا ہے جس کی سو فیصد توقع کی جا رہی ہے تو بشری بیگم دوبارہ گرفتار ہو کر اڈیالہ کی مکین بن جائیں گی۔ابھی 9مئی کے مقدمات بھی باقی ہیں۔عین ممکن ہے ان مقدمات کی سماعت فوجی عدالت میں ہو۔پی ٹی آئی کے سینئر وکیل کوشش میں ہیں کہ 9مئی کے مقدمات فوجی عدالت میں نہ چلیں۔سپریم کورٹ اگر طے کر دیتی ہے کہ سویلینز کے مقدمات کی بھی فوجی عدالت میں سماعت ہو سکتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے عمران خان کیا فوجی عدالت سے 9مئی کے مقدمات میں ریلیف حاصل کر سکیں گے۔جبکہ پراسیکیوشن نے انہیں 9مئی کے واقعات کا ماسٹر مائنڈ قرار دے رکھا ہے۔اس حوالے سے استغاثہ کے پاس بہت سے شواہد، ویڈیو اور آڈیو کی صورت میں موجود ہیں۔گرفتار شدگان کئی ملزمان بھی کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے بانی کے کہنے یا اکسانے پر فوجی تنصیبات پر حملے کئے۔فوج کے اپنے رولز اور قوانین ہیں جو بھی اس کی زد میں آتا ہے،معافی نہیں پاتا۔مثال آپ کے سامنے ہے۔فوج میں کلیدی عہدوں پر متمکن رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید بھی مختلف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اپنے ہی سابقہ ادارے کی زیر حراست ہیں۔ جہاں ان کے خلاف فیلڈ کورٹ مارشل کی کارروائی ہو رہی ہے۔9 مئی کے واقعات میں جنرل فیض حمید کا جو رول ہے،تفتیش میں سامنے آچکا ہے۔9مئی پلاننگ کے تحت ہوا جس میں جنرل فیض کے ساتھ بانی پی ٹی آئی بھی ملوث پائے گئے ہیں۔عمران خان،جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے تاکہ اقتدار میں رہیں لیکن جب ناکامی ہوئی تو جی ایچ کیو،کور کمانڈر ہائوس لاہور اور دیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تاکہ ایسے حالات پیدا کر دئیے جائیں کہ ان کے لئے دوبارہ اقتدار کی راہ ہموار ہو جائے۔بانی پی ٹی آئی نے24 نومبر کو احتجاج کی فائنل کال دی ہے۔دیکھتے ہیں اس کال کا کیا بنتا ہے؟