پاکستان ایک پیچیدہ اور متنازعہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں گھرا ہوا ہے۔ جب بھی اپنے وطن کی حالت زار پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ ملک اندرونی طور پر کئی سنگین مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان میں امن اور استحکام کا خواب ابھی تک مکمل طور پر حقیقت میں نہیں بدل سکا اور یہ سب کچھ صرف ایک مسئلے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک متشابہ سلسلے کی کئی کڑیاں ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جس سے ہر پاکستانی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہے وہ ہے دہشت گردی۔ ہم یہاں ہر روز ایک نئی دہشت گردی کی لہر دیکھتے ہیں جس میں ہمارے فوجی جوان اور عام شہری یکساں طور پر نشانہ بن رہے ہیں۔پاکستان ایک ایسی حالت میں ہے کہ جہاں ہماری فوج اپنے بے شمار جوانوں کی قربانیوں کے باوجود دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مسلسل مصروف ہے، اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا یہ جنگی عزم آخرکار ہمیں امن کی منزل تک پہنچا پائے گا؟ اور اگر ایسا ہے تو کب؟ ہمارے سپہ سالار جنرل عاصم منیر، جو پاکستان آرمی کی قیادت سنبھالتے ہی وہ ہر محاذ پر اپنے فوجی جوانوں کے ساتھ فرنٹ لائن پر کھڑے تو نظر آتے ہیں لیکن سوال پھر بھی یہی ہے کہ کب تک ہم اس جنگ کا کامیابی کے ساتھ اختتام دیکھیں گے؟ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ہمارے فوجیوں کی قربانیوں کا سلسلہ ایسا ہے جس کا کوئی اختتام دکھائی نہیں دیتا۔ جنرل عاصم منیر کے کندھوں پر مسلسل اپنے جوانوں کی شہادتوں کے جنازے آ رہے ہیں اور یہ سوال گونجتا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر آخر کب تک اپنے کندھوں پر اپنے جوانوں کی میتیں اٹھائیں گے؟
یہ دردناک لمحے ہیں لیکن ان کا عزم اور حوصلہ اسے شکست دینے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی ایک ایسا سنگین مسئلہ رہا ہے جس نے نہ صرف ہماری داخلی سکیورٹی کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ عالمی سطح پر ہماری ساکھ کو بھی متاثر کیا۔ جب 9/11کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستان نے خود کو اس عالمی جنگ کا حصہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سرحدوں پر دہشت گردوں کے حملے بڑھ گئے اور ہمارے فوجی جوانوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ پاکستان کے حالات دن بدن مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔صرف نومبر 2024ء میں میں ہونے والے کچھ حملے اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں۔ 7نومبر کو جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب بم دھماکہ ہوا جس میں چار فوجی شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔ 10 نومبر کو کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر خود کش دھماکے میں 14 فوجی اہلکاروں سمیت 26افراد جاں بحق ہوئے، اور 16نومبر کو بلوچستان کے ضلع قلات میں عسکریت پسندوں نے ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا جس میں سات فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ حملے اس بات کا غماز ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر ابھی جاری ہے۔اس مشکل اور پیچیدہ صورتحال میں فوجی قیادت میں پاکستان کی فوج نے نہ صرف اپنی دفاعی حکمت عملی کو بہتر بنایا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے موقف کو واضح کیا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے پالیسی ساز ادارے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب کسی عالمی جنگ یا عالمی تنازعے کا حصہ نہیں بنے گا۔ ان کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہا ہے، لیکن وہ عالمی تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع بارڈر مینجمنٹ نظام متعارف کرایا ہے اور افغان عبوری حکومت سے توقع کی ہے کہ وہ افغان سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
پاکستان کے لیے یہ بات اہم ہے کیونکہ افغان سرحد کے قریب واقع علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ جنرل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ پاکستان نے عالمی امن کے قیام کے لیے 235,000 فوجیوں کو اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھیجا ہے، جن میں سے 181 نے عالمی امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے عالمی سطح پر کوئی عالمی جنگ شروع کرنے یا اس کا حصہ بننے کی بجائے امن کی کوششیں کی ہیں۔ یہ پاکستان کی پختہ پالیسی ہے کہ وہ عالمی جنگوں میں ملوث ہونے کی بجائے عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنے کردار کو موثر بنائے گا۔انہوں نے پاکستان کے قدرتی وسائل اور جغرافیائی محل وقوع کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ پاکستان کا زرعی شعبہ، معدنیات کے ذخائر، اور فری لانسنگ کے شعبے میں عالمی تجارت میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے غماز ہیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے عالمی سطح پر اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم کھلاڑی بناتا ہے، اور اس کے قدرتی وسائل عالمی معیشت میں پاکستان کے کردار کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔پاکستان میں صرف دہشت گردی اور فوجی آپریشنز کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ سیاسی سطح پر بے چینی اور عدم استحکام کا اثر ملکی معیشت، سکیورٹی، اور عوامی زندگی پر پڑ رہا ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتیں اکثر اپنی اندرونی طاقت کے لیے لڑ رہی ہوتی ہیں اور اس سیاسی عدم استحکام کا فائدہ دہشت گرد تنظیموں کو پہنچتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی صورتحال اس وقت ایک نازک موڑ پر ہے اور ملک و ملت کو جہاں خارجی دہشت گردی کا سامان ہے وہیں سیاسی دہشت گردی بھی جاری ہے، جہاں چند جماعتیں ملکی استحکام اور فوج کو بدنام کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ خاص طور پر ایک انتشاری سیاسی جماعت ایک منظم انداز میں ملک میں بد امنی پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستانی فوج کے خلاف مسلسل ہرزہ سرائی کر رہی ہے۔ یہ عمل نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ملک کی داخلی یکجہتی کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اس طرزِ عمل کو فوراً روکنا اور اس کی سرکوبی کرنا از حد ضروری ہے، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی، معاشی، اور سکیورٹی منظرنامہ یقینی طور پر ایک چیلنج کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، لیکن اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں اپنی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے داخلی نظام میں استحکام پیدا کرنا ہوگا، دہشت گردی کے خلاف مکمل تعاون کے ساتھ ساتھ اپنے اقتصادی اور سماجی مسائل پر بھی توجہ دینی ہوگی۔ یہ پاکستان کی بقاء اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پائیں اور عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو مستحکم کریں۔