Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹرمپ اور مشرق وسطی: جنگ، امن یا حل؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
حیرت کی بات تویہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ان بیانات کے باوجود متعددمواقع پریہ دعویٰ بھی کیا کہ ملک میں بسنے والے عرب اورمسلم نژادافراکی بڑی تعداد انہیں ووٹ دے گی کیونکہ مسلم برادری یہ بات جانتی ہے کہ کملا ہیرس اوران کی جنگ پسند کابینہ مشرق وسطی پر حملہ کرکے لاکھوں مسلمانوں کوقتل کردے گی اورتیسری عالمی جنگ کاآغازکردے گی ۔ 4نومبرکو یعنی ووٹنگ سے ایک دن پہلے،ٹرمپ نے ٹویٹرپرپیغام لکھا کہ’’ہم امریکی سیاست کی تاریخ کاسب سے بڑااتحادبنا رہے ہیں۔مشی گن کے عرب اورمسلم ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں کیونکہ وہ امن چاہتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے تمام عرب اوردیگرمسلم کیمیونیٹیز سے اپنے آئندہ صدارتی انتخاب میں ووت دینے کی بارباراپیل بھی کی تاکہ وہ صدربن کردنیامیں امن لانے کیلئے جاری جنگوں کوبندکرسکیں۔
یادرہے کہ مشی گن ایک ایسی ریاست ہے جہاں عرب اورمسلم ووٹ فیصلہ کن ثابت ہوتے ہیں۔اگرچہ15الیکٹورل ووٹ رکھنے والی اس بڑی ریاست میں مقابلہ سخت تھالیکن یہاں سے فتح ٹرمپ کی ہوئی جوظاہرکرتی ہے کہ اپنے بیانات اوروعدوں کی مددسے ٹرمپ یہاں کے ووٹرزکو قائل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ صدارتی انتخاب سے قبل ٹرمپ نے ڈیئربورن نامی علاقے میں ایک حلال کیفے کادورہ بھی کیاتھا۔اِس علاقے کوامریکاکا ’’عرب دارالحکومت‘‘بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عرب کمیونٹی کامضبوط گڑھ ہے۔ اسی طرح مشی گن میں منعقدہ ایک ریلی میں مسلم رہنماؤں کے ایک گروپ نے ٹرمپ کی حمایت کااعلان کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھاکہ ٹرمپ کی جیت سے مشرق وسطی میں امن قائم ہوگا۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیاغزہ اورلبنان پر اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں امریکامیں بسنے والی مسلم کمیونٹی ڈیموکریٹک پارٹی سے ناراض تھی جس کافائدہ ٹرمپ نے خوب اٹھایااورآج ایک مرتبہ پھرتاریخی کامیابی کے ساتھ وائٹ ہاس میں اگلے چاربرس امریکاسمیت دنیاکی تقدیرکے فیصلے کرنے جارہے ہیں؟
ہم سب جانتے ہیں کہ اِس وقت مسلم دنیا کی پوری توجہ ’’فلسطین‘‘پرہے اوران کی خواہشات، سیاست،خدشات سب کامحورفی الوقت ’’فلسطین‘‘ ہی ہے۔مسلمانوں اورعربوں نے اچانک سے ہی ٹرمپ کوپسندکرنا شروع نہیں کردیا تاہم ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہیں تھاکیونکہ ایک جانب کملاہیرس تھیں تو دوسری جانب ٹرمپ۔ کملاہیرس کی مخالفت کرنااورٹرمپ کاجیتنا دوالگ چیزیں ہیں۔ اسرائیل غزہ جنگ کے بعدامریکابھر میں جومظاہرے ہوئے،وہ بائیڈن انتظامیہ کی خاموشی اوراس کے اسرائیل کاساتھ اورامداد دینے پرہوئے تاہم اس سب کے باوجود(اس ضمن میں)ٹرمپ سے بھی زیادہ توقعات وابستہ نہیں ہونی چاہئیں۔ماضی میں وہ کھل کراسرائیل کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِصدارت میں امریکی سفارتخانے کویروشلم منتقل کردیاتھاجو کہ اس وقت بین الاقوامی طورپرایک متنازع مگراسرائیل میں مقبول اقدام قراردیا گیا تھا۔ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں ان کے یہودی نژاد داماد جیرالڈکشنزکاایک نئے’’لارنس آف عریبیا‘‘ کا کردار بھی سب کے سامنے آچکاکہ کس طرح وہ سعودی ولی عہدکی دوستی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں اہم تبدیلیاں رونماکروانے میں کامیاب رہاجس کے نتیجے میں کئی عرب ممالک نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کرلئے بلکہ اب تجارتی معاہدوں کی شکل میں مزیدقربتوں میں اضافہ بھی ہوگیاہے۔سعودی عرب نے بھی اسرائیل کواپنی فضائی حدود کو بطور راہداری استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ شنید یہ بھی کہ سعودی عرب بھی باضابطہ طور پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے جارہا تھاجس کے بعدقوی امیدتھی کہ سعودی عرب کے اس عمل کے بعدمزید درجن سے زائد ممالک بھی اسرائیل کوتسلیم کرنے کاعندیہ دے چکے تھے کہ اچانک غزہ کی جنگ نے اس سارے عمل کو مؤخرکردیا۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیاامریکاکے مسلمان اور عرب ووٹرزکے پاس ٹرمپ کی بیان بازی پریقین کے علاوہ کوئی اورآپشن نہیں تھا اس لیے وہ ان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔ ادھر دوسری طرف ٹرمپ کی انتخاب میں جیت کونیتن یاہو نے ’’عظیم ترین کامیابی‘‘قراردیاہے جبکہ اسرائیلی صدر نے ٹرمپ کو’’امن کاچیمپیئن‘‘اوراسرائیلی اپوزیشن لیڈرنے انہیں ’’اسرائیل کاحقیقی دوست‘‘ قراردیا ہے۔انہوں نے اس بات کا امکان ظاہرکیا ہے کہ بطورصدرٹرمپ اسرائیل کی عسکری اور سفارتی امداد جاری رکھیں گے اور شایداس میں اضافہ بھی کردیں لیکن اسرائیل کے حوالے سے ٹرمپ کی متوقع پالیسی پرایک رائے اور بھی ہے۔ٹرمپ نے اپنی فتح کے موقع پر پہلا بیان یہ دیاہے کہ وہ ’’جاری جنگوں کوروکیں گے اورکوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے‘‘۔
اسرائیلی میڈیامیں یہ اطلاعات آئی تھیں کہ ٹرمپ نے نیتن یاہوکوکہاتھاکہ وہ مشرقِ وسطی میں جنگ کاخاتمہ چاہتے ہیں لیکن ہم ٹرمپ کے بارے میں ایک بات جانتے ہیں کہ ان کے کسی بھی فیصلے یاقدم کی پیش گوئی کرناانتہائی مشکل ہے۔یادرہے کہ2020میں امریکاکی ثالثی سے متحدہ عرب امارات اوربحرین نے اسرائیل کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے پردستخط کیے جسے ’’ابراہیم ایگریمنٹ‘‘ کہاجاتاہے اوراس کے تحت ان مسلمان ممالک نے اسرائیل کے وجودکوتسلیم کیا تھااوراسی ضمن میں دیگرمسلمان ممالک سے بات چیت جاری تھی مگراسی دوران ٹرمپ کی صدارت کاخاتمہ ہوگیا۔
سفارتی اورسیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدارمیں شایدنیتن یاہو کو حماس،حزب اللہ اورایران کے خلاف کارروائیاں کرنے میں زیادہ چھوٹ حاصل ہوگی۔ ایسے میں ایرانی جوہری تنصیبات پراسرائیلی حملہ بھی خارج الامکان نہیں قرار دیاجاسکتاتاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بڑی ڈیل کی حمایت کریں جس کاحصہ سعودی عرب اوراسرائیل دونوں ہوں تاہم مشرق وسطیٰ کے معاملے میں ایک بڑا فریق ایران بھی ہے اورٹرمپ کے پہلے دورمیں ایران اورامریکاکے تعلقات مسلسل کشیدہ رہے تھے۔
ٹرمپ کے دورِحکومت میں امریکانے خودکو ایران سے متعلق جوہری معاہدے سے الگ کرلیا تھا۔واضح رہے کہ یہ معاہدہ2015میں یعنی براک اوباما کے دورمیں ہواتھا۔اس معاہدے کے تحت ایران پرسے جوہری پروگرام کوروکنے کے بدلے میں سخت پابندیاں ہٹا دی گئی تھیں تاہم ٹرمپ کے سابقہ دورِحکومت میں یہ معاہدہ ختم کر کے ایران پرایک مرتبہ پھربڑے پیمانے پر پابندیاں عائدکر دی گئی تھیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹرمپ نے اپنے دوراقتدارمیں عرب دنیااور اسرائیل کے درمیان نئے تعلقات قائم کرنے میں بہت مددکی تھی۔اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو ضم کرنے کامنصوبہ ملتوی کر دیا تھا اور تقریباً50 سال بعداسرائیل اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے جواپنے آپ میں ایک بڑی بات تھی۔
ٹرمپ سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ کاروباری شخصیت بھی ہیں جوچیزوں کوبلیک اینڈوائٹ میں دیکھتے ہیں۔ٹرمپ مسلم ممالک کی داخلی سیاست،ثقافت،خودمختاری اور بادشاہت جیسی چیزوں میں مداخلت نہیں کرتے۔دوسری طرف ڈیموکریٹس سعودی عرب پرپابندی لگانے، انسانی حقوق اوراقتدارمیں شراکت کی بات کرتے ہیں،جبکہ ٹرمپ یہ زبان بالکل استعمال نہیں کرتے اور یہی بات خطے کے مسلم لیڈروں کوبھاتی ہے۔ جب ٹرمپ2016میں صدربنے توانہوں نے اپنے پہلے سرکاری غیرملکی دورے کیلئے سعودی عرب کا انتخاب کرکے سب کوحیران کردیا تھا۔ اکثر امریکی صدوراپنے پہلے غیرملکی دورے پر کینیڈا یا میکسیکوجاتے ہیں۔
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ خطے میں اب زیادہ ترمسلم دنیا ’’فلسطین‘‘کاجھنڈااٹھائے تھک چکی ہے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ اس سے(یعنی فقط احتجاج سے)کچھ حاصل ہونے والانہیں کیونکہ اس پورے معاملے کاایک معاشی پہلوبھی ہے کیونکہ یہ پیسہ کمانے کی صدی ہے۔
اسرائیل اورفلسطینیوں کے درمیان امن کی کوششوںکاآغاز1993ء میں اوسلوامن معاہدے سے ہوا تھا۔ لیکن یہ خطہ امن کے حصول میں کامیاب نہ ہوسکا،اکتوبر2023ء کے بعد اسرائیل غزہ جنگ نے مشرق وسطیٰ کو مکمل طورپر تبدیل کر دیا ہے اوراب سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ کیاٹرمپ وہ کام کرپائیں گے جس کی بہت سے لوگ اوران کے ووٹرزان سے توقع لگائے بیٹھے ہیں۔امریکی عرب ووٹرزکامانناہے کہ ٹرمپ کے آنے کے بعدیہ امکانات بڑھ جائیں گے اگرچہ اسرائیل اورحماس کااس جنگ کے خاتمے میں کردارانتہائی اہم ہوگا۔ ٹرمپ پہلے ہی مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجیوں کے انخلااورافغانستان میں جنگ کے خاتمے کاجیسے اعلانات کرکے ثابت کرچکے ہیں کہ وہ ’’جنگ‘‘ کے حق میں نہیں ہیں۔ٹرمپ ثالثی نہیں کریں گے بلکہ حل مسلط کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو اسرائیل سے زیادہ نقصان فلسطینیوں کا ہوگا کیونکہ حل صرف کمزوروں پرمسلط کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں