اقتدار کا جنون اور سازشوں کا کھیل فائنل کال یا فائنل ڈیل ؟پاکستانی سیاست کا المیہ ہے کہ جو بلند دعوے کرتے ہیں وہ اکثر حقیقت کے میدان میں ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ عمران خان جنہیں ان کے حامی ’’کپتان‘‘ اور ’’حقیقی آزادی‘‘کا علمبردار مانتے تھے، آج ایک ایسی صورتحال کا شکار ہیں جس نے ان کے بیانیے اور سیاست کو نہ صرف کمزور کیا بلکہ ان کے حامیوں کے دلوں میں کئی سوالات کوبھی جنم دیا۔ پاکستانی سیاست کا منظرنامہ ہمیشہ تنازعات، افواہوں اور معاہدوں کی بازگشت سے گونجتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کچھ ایسی خبریں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں جو سیاسی ماحول کو مزید گرما رہی ہیں۔ خبریں یہ ہیں کہ خان صاحب نے کسی نہ کسی سطح پر ’’ڈیل‘‘کر لی ہے جس کے تحت وہ ملک چھوڑ کر برطانیہ میں جا بسیں گے۔خبریں گرم ہیں کہ عمران خان نے اپنی رہائی اور ملک سے باہر جانے کے لیے ایک مرتبہ پھر رحم کی اپیل کی ہے اور ہمارے واقفان حال نے اس مرتبہ اس اپیل کی منظوری کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نیازی جلد ہی لندن روانہ ہوں گے، جہاں وہ اپنی سابقہ یہودی بیوی جمائما گولڈ اسمتھ اور تینوں بچوں کے ساتھ رہائش اختیار کریں گے۔ ایک بڑے دوست عرب اسلامی ملک نے بھی خان کے حوالے سے حکومت پاکستان کو سفارش کی ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات کے مطابق یہ سب ’’آخری ڈیل‘‘کا نتیجہ ہے ۔
عمران خان نے ’’نیا پاکستان‘‘کے خواب کو بیچ کر عوام کی حمایت حاصل کی۔ ان کا بیانیہ کرپشن کے خلاف تھا، اور انہوں نے ہمیشہ خود کو ایمانداری کا علمبردار قرار دیا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ان کے دور حکومت میں نہ صرف معاشی بحران بڑھا بلکہ ساڑھے تین سالہ حکومت کے بعد پاکستان مالی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا، ان کی اپنی ذات پر بھی کئی سوال اٹھے، ان کی حکومت، ان کی اور ان کی فیملی کی کرپشن کی وہ کہانیاں سامنے آئیں کہ جنہیں سن کر ایک ذی شعور انسان سن کر بھی شرما جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ عمران خان کی موجودہ صورتحال ان کے سیاسی سفر کا ایک نیا موڑ ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ان کی سیاست کا اختتام ہے یا ان کا ملکی سیاسیت میں کوئی کردار باقی رہے گا۔ واقفان حال کے مطابق اس ڈیل کے تحت عمران خان سال تک پاکستان واپس نہیں آ سکیں گے اور پاکستان کے حوالے سے اپنی زہر اگلتی زبان کو بھی قابو میں رکھیں گے۔عمران خان کے مخالفین ہمیشہ ان پر اقتدار کے حصول کے لیے سازشوں کے کھیل کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ لیکن ان کے حامی انہیں ایک اصولی اور ایماندار سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہیں۔آج جب ان پر ’’ڈیل‘‘ اور ’’رحم کی اپیل‘‘کے الزامات لگ رہے ہیں، ان کے حامیوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ان کے رہنما واقعی اپنے اصولوں پر قائم رہے یا اقتدار کے کھیل میں شکست کے بعد راہ فرار اختیار کر رہے ہیں؟یہ باتیں صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ بعض سیاسی رہنما بھی ان پر تبصرے کر رہے ہیں۔ خود عمران خان نے بھی علی امین گنڈا پور اور گوہر علی خان کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کریں۔ انکے حامی اس بات پر مرے جاتے ہیں کہ خان مر تو سکتا ہے مگر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہیں کر سکتا۔ اگر یہ باتیں درست ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات کس نوعیت کے ہیں؟
کیا یہ ڈیل واقعی حقیقت کا روپ دھار رہی ہے؟عمران خان نے اپنی سیاست کا آغاز ایک مخلص، ایماندار اور ’’نیا پاکستان‘‘بنانے والے رہنما کے طور پر کیا تھا۔ ان کا ’’حقیقی آزادی‘‘کا بیانیہ لوگوں میں ایک ولولہ پیدا کرنے میں کامیاب رہا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت اور طرزِ حکمرانی پر کئی سوالات اٹھائے گئے۔خان صاحب نے ہمیشہ اپنی سیاست کو کرپشن کے خاتمے اور احتساب کے نعرے سے جوڑے رکھا۔ لیکن ان کے دور حکومت میں یہ نعرے کس حد تک عملی شکل اختیار کر سکے ؟ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان پر لگنے والے الزامات، بشمول توشہ خانہ، ایک سو نوے ملین پائونڈ کرپشن کیس اور دیگر مالی بے ضابطگیوں، بزدار اور فرح گوگی کرپشن، پشاور میٹرو کرپشن وغیرہ نے ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا۔خان صاحب کے لندن جانے کی خبریں ایک بار پھر ان کی سیاست کے مقاصد اور ان کے نعروں پر سوالیہ نشان لگا رہی ہیں۔ اگر وہ واقعی ملک چھوڑ کر جاتے ہیں تو یہ ان کے ’’حقیقی آزادی‘‘ اور ’’نیا پاکستان‘‘ کے بیانیے کی شکست تصور کی جائے گی۔ ان کے حامیوں میں مایوسی پیدا ہوگی، جو اب بھی انہیں پاکستان کے سیاسی نظام کی تبدیلی کا واحد ذریعہ سمجھتے ہیں۔پاکستانی سیاست میں ’’ڈیلز‘‘کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ ماضی میں بھی کئی سیاستدانوں نے ملک سے باہر جا کر سیاسی پناہ لی یا معاہدوں کے تحت ملک سے دور رہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاست میں اصول سے زیادہ مفادات کا کھیل چلتا ہے۔
عمران خان کے مخالفین کے لیے یہ صورتحال ایک سیاسی فتح ہوگی، جو ان کے بیانیے کو مزید کمزور کرے گی۔ لیکن ان کے حامیوں کے لیے یہ ایک دھچکا ہوگا، کیونکہ وہ انہیں ایک ناقابلِ شکست رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اگر عمران خان واقعی ملک چھوڑ دیتے ہیں تو پاکستان کی سیاست پر اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ کیا یہ ان کی سیاست کا اختتام ہوگا یا وہ لندن میں رہ کر سیاسی منظرنامے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں گے؟ پاکستانی سیاست کے پیچیدہ حالات میں یہ کہنا مشکل ہے کہ حقیقت کیا ہے اور افسانہ کیا۔ یہ وقت بتائے گا کہ عمران خان کا سیاسی سفر کہاں ختم ہوگا۔