امام ابوبکر احمد بن حسین بن علی بن موسی البیہقی 994ء میں خراسان کے علاقے بیہق میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم ببیہق ہی میں حاصل کی اور پھر اعلی تعلیم کے لئے نیشاپورچلے گئے ،جہاں انہوں نے نیشاپور کے معروف اور جیدعلما سےفقہ،حدیث اور دیگر علوم کی تعلیم حاصل کی۔ان کے اساتذہ میں امام حاکم (صاحب المستدرک )کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت حاصل کی۔امام بیہقی کا شمار امام شافعی کے پیروکاروں میں ہوتا تھا اوروہ فقہ شافعی ہی کے بڑے حامی گردانے جاتے تھے اور فقہ و حدیث میں اعلی خدمات سرانجام دینے کی وجہ سے انتہائی احترام کی نظر سے دیکھے جاتےتھے۔امام بیہقی نے مختلف دینی و فقہی موضوعات پر سو سے زیادہ کتب تحریر فرمائیں۔جن میں السنن الکبری احادیث کی جامع کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔اور تاریخ اسلام میں حدیث کی کتب حدیث میں اعلی ترین درجہ رکھتی ہے ۔یہ کتاب اسلامی فقہ، شریعت اور اصولدین کی تفہیم کے حوالے سے مستند حیث رکھتی ہے۔السنن الکبری میں فقہی شرعیاحکامات اور ان کے دلائل جمع کئے گئے ہیں۔یہ کتاب شافعی فقہ کے اصولوں کو موثر بنانےکے لئے احادیث کو موضوعاتی ترتیب سے مدون کی گئی اوراس میں احادیث کو فقہی ابواب کے تحت مرتب کیا گیا ہے جن میں نماز،روزہ،زکوۃ اور حج کے علاوہ نکاح،طلاق اور حدود کے معاملات کو موضوع بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ فقہ شافعی ماضی میں حجاز ،شام ،خراسان ،خصوصا مصر اورجنوب مشرقی ایشیا میں بہت رائج رہی ہے اور انڈونیشیا، ملائشیا، مشرقی افریقہ،برونائی اور جنوبی ہندوستان میں آج بھی مقبول ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہمعتدل علمی اصولوں پر مبنی ہے۔بہت سے علماء اور مفیان گرامی شافعی اصولوں ہی کو مدنظر رکھتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے فتوے جاری کرتےہیں ۔دارالعلوم دیوبند اور الازہر یونیورسٹی مصر میں بھی فقہشافعی کی تعلیم دی جاتی ہے اور اسی فقہ کے استدلال اور قرآن و سنہ کے دلائل پرمبنیاصولوں کا رواج ہے ۔خلیج کے متعدد علاقوں میں خاص طور عمان اور بحرین میں فقہ شافعی کی زیادہ پیروی کی جاتی ہے۔شعب الایمان امام بیہقی کی ایک اور حدیث کی مشہور کتاب ہے جو ایمان کی بعض شاخوںکے مختلف پہلوؤں پربحث کرتی ہے۔اور ایمان کے مفہوم ،اس کی جزئیات اور اعمال و اخلاق سے متعلق احادیث اور اقوال اس میں جمع کئے گئے ہیں ۔امام بیہقی نے ایمان کوحیات اسلامی کا بنیادی اور مرکزی ستون قرار دیا ہے ۔ کتاب الاسماء والصفات ان کی ایک اور تصنیف ہے جس میں امام نے احادیث کی روشنی میں اللہ تبارک وتعالیکے اسمائے حسنہ کی تفصیل بیان کی ہے ،تاکہ امت کے مسلمانوں کو عقیدے کی شفافیت کا صحیح اندازہ ہو اور اللہ کی صفات کا حقیقی مفہوم سمجھنے میں آسانی ہو۔اس کے علاوہ امام بیہقی رح کی کتب کی لمبی فہرست ہے ان میں ۔السنن الصغری، دلائل نبوت،معرفہ السنن والآثار،کتاب الآداب،فضائل صحابہ رضی، کتاب البعث واالنشور،الاعتقاد والہدایہ الی سبیل الرشاد اورکتاب الزبد الکبیر کے علاوہ کئی کتب شامل ہیں ۔کسے معلوم نہیں کہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا کتابی ورثہ مرورزمانہ کے ساتھ تاریخ کے بے رحم ہاتھوں تباہ وبرباد ہوا، کئی حملہ آوروں نےاس اسلامی خزانے کو اپنی اسلام دشمنی کی بھینٹ چڑھا یا۔بعض کتب کی علمائے امت نےنقل تیار کرلی لیکن بہت ساری بیرونی جنگ جوئوں کی دستبرد کی نذر ہوئیں۔بعض ایسی کتب بھی تھیں جن پر مخصوص حلقوں کا قبضہ ہوگیااور انہوں نے ان سے نہ خود خاطر خواہ استفادہ کیا اور نہہی دوسروں کو استفادے کا موقع دیا ۔تاہم علامہ بیہقی کیجو کتب حالات کے جبر سے بچ گئیں صدیاں بیتنے کے باوجود مسلمانوں کے کام آرہی ہیں۔الحمداللہ ۔اور تاقیامت کلمہ گوان سے استفادہ کرتے رہیں گے۔ان شاءاللہواضح رہے کہ امام شافعی نے مصر اور سعودی عریبیہ میں ایک طویل عرصہ گزارا یہی وجہ ہے کہ ان کے افکار نظریات کا آج بھی مصر میں اور سعودیہ میں گہرا اثر دکھائی دیتا ہے ۔اسی طرح بغداد میں امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد بن حسن الشیبانی سے میل جول رہا ۔ان سب حضرات کا ذکر امام بیہقی کے یہاں تفصیل سے ملتا ہے ۔یہ امام ابوبکر احمد بن حسین بن علی بن موسی ہی تھے جنہوں نے اپنے معاصر علمائے کرام کے نظریات کو بہت دور دور تک پھیلایا اور حوالے سے فقہ شافعی میں اپنی بھی ایک شناخت پیدا کی ۔کیونکہ وہ خود بھی ایک عظیم محدث ہونے کےساتھ فقہ معظم بھی مانے جاتے تھے ۔ان کی علمی حیثیت اور اجتہادی بصیرت کوبھی ایک عالم میں پذیرائی حاصل تھی۔امام بیہقی امام شافعی کے اصولوں کے پابند ہونے کے باوجود بعض مسائل میں امام شافعی سے اختلاف رائے بھی کیا۔