یہودیت( 2488 قبل مسیح)
خدا کا نام: (یہوہ یا ایلوہیم) میں ہوں جو ہوں۔
حکم:خدا کے نام کو بے جا استعمال نہ کرو (تورات)۔
تم بتوں کے آگے نہ جھکنا (خروج 20:5)
ہندومت (1500 قبل مسیح)
خدا کا تصور: برہمن، ایک اعلیٰ، بے شکل اور عالمگیر روح۔
حوالہ:وید: خدا کو کائنات کا سرچشمہ اور سہارا قرار دیتا ہے۔
بت پرستی کی مخالفت (یجروید 40:9)۔
زرتشتیت( 1000 قبل مسیح)
خدا کا نام: اہورا مزدہ، سب کچھ جاننے والا۔
بت پرستی پر نظر:بت پرستی کو گناہ قرار دیا گیا ہے(پاتیت پشمانی منتر)
بدھ مت (405-480 قبل مسیح)
خدا کا تصور:خدا واحد ہے، غیر متغیر اور ابدی۔
بدھا نے خدا کے تصور پر خاموشی اختیار کی تاکہ اس کا نام لے کر لوگ اسے کسی شکل یا رسم و رواج میں نہ باندھ دیں۔
حوالہ: بت پرستی کو انسانیت کی سب سے بڑی مصیبتوں میں سے ایک قرار دیا(دھم پد)
جین مت (599 قبل مسیح)
خدا کا تصور:خدا فلسفیانہ بحث سے ماورا ہے اور اسے دل سے محسوس کیا جاتا ہے۔
مہاویر نے بت پرستی کو روحانی دھوکہ قرار دیا۔
حوالہ: آگم۔
تائو مت (550 قبل مسیح)
خدا کا تصور:تا واحد ہے تمام چیزوں کا سرچشمہ، بے شکل اور ناقابل بیان۔
حوالہ:تاتی چنگ از لا زو۔
سکھ مت (1499 عیسوی)
خدا کا نام:اک اونکار (ایک خدا)، نرنکار (بے شکل خدا)، اکال پرکھ (ہمیشہ رہنے والا خدا)۔
حوالہ:بت پرستی پر تنقید: پتھر خود ڈوبتے ہیں، تمہیں کون سہارا دے گا؟ (گرو گرنتھ صاحب، انگ 556)۔
عیسائیت (100-50 عیسوی)
خدا کا نام: ایلوہیم وہ جو بے مثل اور بے مثال ہے۔
حوالہ:خدا دل میں موجود ہے (بائبل)
بت پرستی عہد کی خلاف ورزی ہے(استثنا 31:16)
اسلام (610 عیسوی)
خدا کا نام: اللہ واحد اور اکیلا۔
حوالہ جات:قرآن:۔
کہو، اللہ ایک ہے؛ اللہ بے نیاز ہے؛ نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا؛ اور اس کا کوئی ہمسر نہیں(سورہ اخلاص)۔
تم بتوں کی عبادت کرتے ہو اور اللہ کے بجائے جھوٹ گھڑتے ہو (سورہ عنکبوت: 17)۔
صوفی تشریح: حقیقت کچھ نہیں، سوائے اللہ کے۔قدیم روحانی روایات( 17ویں صدی)
خدا کا تصور:واکان ٹنکا، عظیم روح، ایک عالمگیر روحانی قوت، یا واحد اعلی وجود۔متحدہ پیغام تمام مذاہب میں خدا کو واحد اور انسانی فہم سے بالاتر قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ عمل میں فرق ہے، ہر مذہب خدا کی حتمی حقیقت پر زور دیتا ہے، اکثر بت پرستی کی نفی کرتا ہے اور اندرونی تعلق کو ترجیح دیتا ہے۔
تاہم امام مہدی ؑکے ظہور کے بعد تمام مسلمان فرقے متحد ہو کر ایک امت بن جائیں گے اور پھر عیسی علیہ السلام کے نزول پر تمام وہ بنی آدم جو خدائے واحد ولا شریک پر ایمان رکھیں گے وہ سب ایک ہوجائیںگے اور ملت مومنین ہوں گے اور منکرین ملت کفر۔ اللہ کو واحد اور لا شریک کے ماننے والے تمام مذاہب ایک ملت توحید میں متحد ہوجائیں گے۔ان الدین عند اللہ الاسلام۔ اور پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی قیادت میں دنیا بھر میں ایک عالمی آخری خلافت الٰہی کے جھنڈے تلے ایک مقرہ وقت تک امن و خوشحال اور محبت و اخوت کیساتھ دنیا کے آخر وقت تک رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دور سعید نصیب فرماے۔