Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

اب کچھ بھی تو ویسا نہیں

موجود حالات دیکھ کر دل بہت کڑھتا ہے ۔ میرا پیارا وطن ایسا تو نہ تھا ۔ مذہبی و سیاسی اختلافات کے باوجود اپنی مٹی پہ سب مر مٹنے کو تیار ہوتے تھے ۔ اپنی فوج سے لازوال محبت کرتے تھے اس کی شجاعت پرفخر کرتے تھے ۔ ملکی نام اورقومی پرچم پر سب نازاں تھے ۔ اس کی شان اور تکریم پہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ صد افسوس ، منفی اور تخریبی سیاست نے سب کچھ بدل دیا ہے ، اب کچھ بھی ویسا نہیں رہا جیسا چند برس قبل تھا ۔ ہم اک عجیب دور میں جی رہے ہیں۔ ہر طرف افراتفری سی ہے۔ ہر کوئی جلدی میں لگتا ہے ۔ بھاگم بھاگ کا منظر ہے۔ ہر کوئی قلت وقت کا رونا رو رہا ہے ۔رفتار تیز مگر حرکت صفر لگتی ہے۔ لیل و نہار کا پہیہ دھڑا دھڑ گھوم رہا ہے ۔ دن مہینوں اور مہینے سالوں میں بدل رہے ہیں۔ نفسا نفسی کا اک عالم ہے۔ خود غرضی کی وبا عام ہے۔ روایتی وضعداری اور مروت ناپید ہے۔ رشتوں ناطوں میں تکلف اور تصنع حاوی ہو گیا ہے ۔نہ وہ معمول میل جول ہے اور نہ اشتیاق ملاقات۔ نہ وہ اب خلوص ہے اور نہ چاہت۔ رسم دنیا ہے ، جس کو نبھانے کی محض خانہ پری کی جاتی ہے۔ خونی اور غیر رسمی رشتوں پر بھی تکلفات کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ محفل اور ملاقات کے آداب ہی بدل گئے ہیں ۔اپنوں کی صحبت بھی پھیکی لگتی ہے ۔وہ پہلے والی مٹھاس اور نہ بے وہ تکلفی ہے ۔پہلے والا ہنسی مذاق اور نہ وہ قہقہوں کی گونج رہی ہے۔ کہاں گئیں سب خوبصورت روایات اور سماجی اقدار ؟ اب کچھ بھی تو ویسا نہیں ۔ کدھر گئیں وہ سب چاہتیں اور رونقیں ۔ کدھر گیا ہمارا روائتی رہن سہن اور خاندانی نظام ۔ اکٹھا بیٹھنے اور کھانا ملکر کھانے کی خوبصورت رسم کیوں ختم ہو گئی ہے ۔ ہم کیوں تنہائی اور علیحدگی پسند ہو گئے ہیں ۔ کیوں دنیا مافیہا سے بے خبر اپنی ذات میں گم رہتے ہیں ۔
میری ناقص رائے میں اس تبدیلی کے پیچھے والدین اور سماج کے بدلتے رویے ہیں ۔ ماں کی گود بطور پہلی درسگاہ بچے کو میسر نہیں رہی ۔ یہ ذمہ داری بھی نرسری سکولز اور چائلڈ کئیر سنٹرز کے حوالے کر دی گئی ہے ۔ ہوم ورک جو خود ماں یا دوسرے گھر والے کرواتے تھے اب یہ کام ٹیوٹرز کروا رہے ہیں ۔ بچپن کے اس معصوم دور ہی سے بچے اور والدین کے بیچ تربیتی معاملات میں دوریاں ہو رہی ہیں جس سے اس کی شخصیت سازی متاثر ہورہی ہے ۔ جس سے آداب محفل اور سماجی رویوں میں مطلوبہ نکھار نہیں آتا ۔ اس پہ مستزاد ، سوشل میڈیا کے استعمال کی لت نے رہی سہی کسر نکال دی ہے ۔ خاندان کے سب افراد ایک جگہ جمع ہیں ، بجائے آپسی بات چیت ، سب موبائل پہ ٹکٹکی باندھے کسی اور عالم میں گم ہیں ۔ کوئی کسی سے نہ مکمل کلام کر رہا ہے نہ پوری توجہ سے جواب دے رہا ہے ۔ روتے بچے کو مائیں موبائل اور ٹیبلٹ جیسے مضر و مہلک ہتھیار پکڑا کر وقتی طور پر چپ کرا لیتی ہیں۔ اس کے دور رس منفی اثرات کو یکسر بھول جاتی ہیں۔ بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی موبائل اور سوشل میڈیا کا عارضہ لاحق ہو چکا۔ جس ایجاد کو مواصلاتی آسانیاں تفریحی اور علم کاذریعہ ہونا تھا وہ تقسیم ، نفرت اور بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے ۔ اس پہ ہونے والی سیاسی اور مذہبی بحثوں نے دوستی اور محبت کے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے ۔ خاندانوں کے بیچ دراڑیں ڈال دی ہیں ۔رشتوں کا حسن اور وضعداری سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گئی ہے ۔ وہ باہمی بھرم اور نہ لحاظ نہیں رہا ۔ نظریاتی اختلاف جرم سا بن گیا ہے ۔ تحمل و برداشت کا کلچر ختم ہو گیا ہے ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرنا اور سب لحاظ توڑ دینا عام ہو گیا ہے ۔ جب گراس روٹ لیول پر خاندانوں میں سیاسی اختلاف کا خنجر شگاف ڈال دے گا تو یہ خود بخود اوپر قومی سطح تک پہنچ جائے گا۔ ایسا ہی ہوا ہے ۔
اب پوری قوم تقسیم ہو کر ریوڑ کا روپ دھارچکی ہے ۔ اس صورتحال کے پیچھے جہاں والدین کی بچوں کی تربیت کی طرف کم توجہی ہے وہاں ریاستی مشینری کا بھی بڑا رول ہے ۔ گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر عوام کی ذہن سازی کی مہم چلائی گئی ہے یہ سب اس کے اثرات اور ثمرات ہیں ۔پندرہ سال پہلے جو بچہ دس سال کا تھا اب وہ پچیس سال کا بالغ نوجوان بن چکا ہے ۔ اس نے جو دیکھا ، جو اس کے ذہن میں ڈالا گیا ، اب وہ اتنا راسخ ہو چکا ہے کہ اس کو بدلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ جن قومی شخصیات اور اداروں کا امیج بطور چور ، ڈاکو اور فراڈ ان کے اذہان میں گڑھ چکا ہے ، وہ گڑھ چکا ہے، دلائل کے بیلچے سے اکھاڑنا بھی ناممکن ہو گیا ہے۔دوسری جانب جن کا امیج بطور پوتر، پاکیزہ مسیحا اور فرشتہ بنا کر میڈیائی ٹیکوں کے ذریعے ان کے زہنوں میں انڈیلا ہے ، وہ اب عقیدہ کی حد تک مصمم و مضبوط ہو چکا ہے ۔اسکو بدلنے کی لاکھ کوشش کریں بھی تو سب عبث ہے ۔ عالم تو یہ ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے بھی وہ شخصیات کوئی گناہ کریں تو ان کو وہ برا نہیں لگتا ، بلکہ اس کے دفاع میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں ۔
سماجی زندگی میں تیزی سے آئی تبدیلیاں،ان تبدیلیوں سےجنم لیتے منفی اثرات سے معاشرے کی بےخبری اور بےحسی کے تابوت میں قوم میں گہری سیاسی تقسیم آخری کیل ثابت ہوئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں