ڈنمارک شمالی یورپ کا ایک قدیم ترین ملک ہے جس کا شمار اسکینڈے نیوین ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت کا حامل ہے اور اس کی اقداروروایات بھی اتنی ہی پرانی ہیں جو ابھی بھی ترقی کا زمانہ ہونے کے باوجود ڈنمارک کے کلچر کا حسین امتزاج ہیں ۔
ڈنمارک کاماضی پتھر کے دور سے جڑا ہوا ہے جب انسانی زندگی کا گزر اوقات مچھلی کے شکار پر ہوتا تھا۔یہاں کانسی کےدور ہی میں تجارت اور زراعت کی ابتدا ہوئی۔بارہ ہزار سال قبل ازتاریخ کے بعد اس کی تاریخ کا وائکنگ دور شروع ہوتا ہے، جس میں بڑے بڑے جنگجو ،جہاز ران اورتاجر پیدا ہوئے ،جنہوں نے یورپ اور روس سے لے کر مشرق وسطی تک اپنی تجارت کا دائرہ وسیع کیا اور یہی دور اس کی فتوحات کا بھی ہے جس میں ڈنمارک کی تہذیب عیسائیت سے ہمکنار ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے ایک نئے سماجی اور سیاسی نظام کا حصہ بنی ۔
دسویں صدی میں ڈنمارک دنیا کے نقشے پرایک مستحکم بادشاہت کےطور پر نمودار ہوا۔ 1387 میں ڈنمارک کے ایک شہر kalmar میں اسکینڈے نیوین ممالک کے درمیان ایک اتحاد قائم ہوا جسے kalmar Union کہتے ہیں۔ 1523 میں سویڈن کے پہلے بادشاہ Gustav Vasa نے اس اتحاد کو توڑدیا۔یہی وہ بادشاہ تھا جس نے نسلی وراثت کی بنیاد رکھی ۔گستاو واسا کو سویڈن کا بابائے قوم کہا جاتا ہےکیونکہ اسی نے سویڈن کو خودمختار اور طاقتور ریاست بنایا۔تاہم 19ویں صدی میں ڈنمارک اپنی زیادہ تر زمین گنوا بیٹھا، یعنی ناروے اور شلیسویگ وغیرہ۔ بیسویں صدی میں ڈنمارک میں جمہوری نظم کا قیام عمل میں آیا جبکہ دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی نے اس پر قبضہ کرلیا اور آج ڈنمارک ایک فلاحی ریاست کے طورپر دنیا کے نقشے پر خوشحال ترین ملک کی حیثیت سے موجود ہے مساوات اور شخصی آزادی اس کا معاشرتی چہرہ ہے ۔
ڈنمارک کی آبادی ساٹھ لاکھ افرادپرمشتمل ہے اورزیادہ تر شہری علاقوں میں آباد ہے۔اس میں شرح نمو بہت کم ہے ۔ایک معیاری نظام تعلیم رائج ہے اور اسکولوں میں انگلش زبان کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ ویسے Danish ڈنمارک کی قومی زبان ہے جو ایک جرمنک زبان ہے جوناروے اور سویڈن کی زبان سے ملتی جلتی ہے۔
یہاں ہم ڈنمارک کی کہانی کو سمیٹتے ہوئے اپنے اصل موضوع کا ذکرکرتے ہیں ۔وہ ذکر ہے مائک وکنگ کا جو ڈنمارک کا ایک مصنف ہے جس کی ایک معروف کتاب کانام ہے”The Little Book of Hygge”مائک وکنگ ڈنمارک کا موٹیویشنل اسپیکر ہے،وہ خوشگوار معیار زندگی اور سماجی تعلقات پر دنیا بھر میں لیکچر دیتا ہے ۔اس کی زندگی کا سب سے بڑا حاصل یہ ہے کہ معاشرے اور افراد کو کس طرح خوش اور خوشحال رکھا جاسکتا ہے۔
مائک وکنگ نے Hygge کے اصولوں کو اپنا اہم مشن بنایاہواہے۔وہ مصنف اور محقق ہونے کیساتھ “Heppiness Research Institute” کا بانی اور CEO ہے جو ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہے۔جہاں وہ Hygge یعنی معمول کی زندگی میں مطالعہ شامل کرنا،اچھی گفتگو کرنا اورقدرت کے حسین مناظر سے حظ اٹھانے کے طریقے سکھاتا ہے۔گویا کہ Hygge کا مطلب ہے بامعنی اورپرسکون زندگی بسر کرنا ۔
مائک وکنگ کی کئی اور کتب بھی ہیں جو طرز زندگی کو بہتراورخوشیوں سے بھرپور بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔جو اقوام اپنی آبادی پر کنٹرول رکھنے پر دھیان دیتی ہیں اورزندگی بسر کرنے کے عمدہ اصول طے کر لیتی ہیں وہی دنیا میں خوش اور خوشحال رہتی ہیں۔