اسلام کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لئے ہر دور میں اسلامی فکر رکھنے والے دانشور بھرپور خدمات انجام دیتے رہے اور ایسا کسی ایک ملک یا خطے میں نہیں بلکہ دنیا کے متعدد ممالک میں ہوتا رہا ۔
1703 ء میں پیدا ہونے والے دینی مفکر حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی نے برصغیر میں اس اہم کام کا بیڑہ اٹھایا اور امت میں فرقہ واریت کو بیخ و بن سے اکھیڑ کر اتحاد و اتفاق کی لڑی میں پرونے کی بھر پور کوشش کی۔انہوں نے اسلامی اقتصادی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی جدو جہد کے ساتھ سماجی عدل کو بھی اپنے مشن کا حصہ بنایا۔ مسلمانوں کی تعلیم وتربیت میں روحانی بالیدگی کے عمل پر بھی توجہ مرکوز کی۔اسی طرح مسلم خطوں اور یورپ تک میں اسلام کی نشاۃثانیہ کا کام سرانجام دیا جاتا رہا ،تاہم افریقہ کے خطہ کے کہنہ تہذیب و ثقافت رکھنے والے ملک مصر کا خطہ ہے جہاں دیگر لوگوں کے علاوہ اس حوالے سے کام کیا وہاں حسن البناف نے بھی اس مقدس کام کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی اور اس کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہ کیا۔
حسن البنا نے مصر میں’’الاخوان المسلمون‘‘ کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد اسلام کی سماجی اور سیاسی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کرنا تھا۔اس سلسلے میں انہوں نے سادہ سی کوشش نہیں کی بلکہ ایک تحریک کی بنیاد رکھی۔جس کے ذریعے پوری دنیا کے مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کی روح کو جگایا۔انہوں نے امت مسلمہ کو مغربی استعمار سے آزادی اور مسلمانوں پرفکری زوال سے بچنے کی راہ ہموار کی۔انہوں نے تحریکی عمل کو تحریری عمل کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھایا اور لوگوں کو فکری اور عملی انقلاب پر آمادہ کیا۔حسن البنا کو زیادہ تر فکر نوجوان مسلمانوں کی تھی جوتہذیب جدید سے متاثر ہوکر اپنے فکری ورثے سے دور ہوتے جارہے تھے ۔جواسلامی نظریات سے اغماض برتنے کی راہ پر گامزن تھے اور دینی تعلیم کی بجائے مغربی تعلیم اور ثقافت کو پسند کرنے لگے تھے۔ اخلاقی اقدارو روایات سے بے بہرہ ہوتے جارہے تھے ۔اس کی بڑی وجہ استعمار کا غلبہ تھا جو مصرکی معاشرتی زندگی پر بہت حد تک اثر انداز ہو رہا تھا اور وہاں کے متوسط طبقے کے نوجوان اس یلغار کا شکار تھے ۔
لہٰذا حسن البنا نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اخلاقی اور فکری تربیت کے مراکز قائم کئے تاکہ مصر کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں کے اندر پھر سے دینی روح پھونک کر انہیں ایک باعمل قیادت کے طور پر تیار کیا جائے۔
حسن البنا مغربی استعمار کے خلاف ایک طاقت سے بھرپور آواز بن کر احیائے اسلام کے لئے سیاسی اور سماجی تبدیلی کے عملی میدان میں فروکش ہوئے اور مصر کی بڑی آبادی ان کے خیالات و افکار سے ہم آہنگی کے طور پر سڑکوں پر نکل آئی ۔
حسن البنا کی تحریک الاخوان المسلمون میں ملک کے انتہائی اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہوگئے ۔جو مقتدر طبقہ کے لئے بہت بڑا چیلنج تھا ۔اس سے اقتدار کے ایوانوں میں تبدیلی کی آندھیاں چل پڑیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سیاسی ماحول میں شدت اورحدت پیداہوگئی۔کیونکہ سید قطب ،عمر التلمسانی ، محمد مہدی عاکف،حسن الہضیمی اور محمد بدیع جیسے رہنما بھی تحریک میں شامل ہوگئے ۔حسن البنا کو 1949ء میں شہید کر دیا گیا مگر ان کی جلائی ہوئی اسلامی نشاۃثانیہ کی شمع کو فروزاں رکھنے میں الاخوان المسلمون نے اپنی پیش قدمی نہیں روکی۔
2011 ء کی عرب بہار کے دوران تنظیم کی تحریکی سرگرمیوں میں اور تیزی آگئی ،جس کے نتیجے میں 2012 ء میں تحریک الاخوان المسلمون کے حمایت یافتہ محمد مرسی برسر اقتدار آگئے۔محمد مرسی جوجون 2012 ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئے اور حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر کے صدر بن گئے۔وہ الاخوان المسلمون کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس کے امیدوار تھے۔ انہوں نے ابتدا ہی میں اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کا عندیہ دے دیا اور سابقہ آمریت کی باقیات ختم کرنے کا اعلان بھی کیا۔یوں انہوں نے فوج کے اختیارات بھی محدود کر دیئے اور ملک میں نیاآئین نافذ کرنے کی کوشش کا آغاز کیا۔مگر چیلنجز اور مسائل ایسے تھے جن سے نبرد آزما ہونا مشکل ہوگیااور ایک ہی سال کے اندر ایک متنازعہ صدارتی حکم جاری کرنے پر عدلیہ نے ان کے اقتدار کو بہت بڑا جھٹکا دیا۔کچھ عوامی مظاہروں کا بھی اس میں عمل دخل تھا اور آخر 3 جولائی 2013 ء میں جنرل عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا۔