جدید ،آزاد خیال اور مہذب تہذیب کے حامیوں نے انسانی زندگی کے تمام تر معاملات کومعیشت کا محتاج و مطیع بنادیا ہے ، وہ اسے آگے یا پیچھے ، اوپر یا نیچے کچھ دیکھنا ہی گوارہ نہیں کرتا۔ ان کی ایک انتہائی محدود سوچ ہے اوروہ پوری دنیا کو اپنی اس سوچ کا گرویدہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔مگر گذشتہ صدی کے ختم ہوتے ہوتے روس کا سیکولر نظریئے کا اپنی ہی مٹی میں مٹی ہوجانا انسانی تہذیب کے معاشی تصور کے پارہ پارہ ہوجانے پر منتج ہوا۔یوں تہذیب وتمدن کا ایک نیا در وا ہوا ،یا تاریخ انسانی کا ایک نیا باب رقم ہوا کہ زندگی کی عمارت کا ڈھانچہ فقط معیشت کی بنیاد پر نہیں کھڑا اور بھی کچھ عوامل ہیں جن میں سر فہرست انسانی نفسیات ہے۔
رابرٹ ایچ شلرکی کتابAnimal Spirit, How Human psychology Drives the Economy ,and Why It Matters for Global Capitalismجسے اردو میں ’’حوصلے جیت جاتے ہیں‘‘ یا ’’انسانی جذبات ‘‘کہا جاسکتا ہے‘کا موضوع معاشی سائنس اورانسانی نفسیات کے باہمی تعلق پر مبنی ہے ۔یہ کتاب رابرٹ ایچ شلر اور جارج ایکرلوف کی مشترکہ کاوش ہے جو 2009 ء میں منظر عام پر آئی۔
واضح رہے کہ رابرٹ ایچ شلر ایک معروف امریکی ماہر معاشیات ہے اور مالیات کے شعبے خاص طور پر اثاثوں کی قیمتوں اور مارکیٹ نفسیات میں غیر معمولی ایکسپرٹ گردانا جاتا ہے ۔ شلر 29 مارچ 1946 ء میں مشی گن امریکہ میں پیدا ہوا اور دنیا کی قدیم ترین Yale University نیو ہیون امریکہ سے تعلیم حاصل کی ۔ Yale سمیت کئی معروف اداروں میں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہا۔تاہم اس کا اہم کام مالیاتی اثاثوں کی قیمتوں اور مارکیٹ کی غیر یقینی کی صورت حال سے متعلق رہا اور مالیاتی مارکیٹ کی نفسیات اسکا اہم موضوع رہا۔
2013 ء میں رابرٹ شلر کو معاشیات کے نوبل پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔شلر کو معیشت میں انسانی نفسیات کے اشتراک مطالعہ کے لحاظ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔رابرٹ ایچ شلر کے ساتھ کام کرنے والا جارج ایکرلوف بھی ایک امریکی ماہر معاشیات ہے جو Behavioral Economics And Asymmetic Informayion( رویہ جاتی معیشت اور عدم توازن کے شعبے کے حوالے سے خاص پہچان رکھتا ہے ،جس میں اقتصادیات میں انسانی رویوں اور غیر یقینی معلومات کے کردار کا خصوصی مطالعہ کیاجاتا ہے۔
جارج 17 جون 1940 ء میں نیو ہیون کنیکٹ امریکہ میں پیدا ہوا اور Yale University ہی سے بیچلر ڈگری حاصل کی۔مشترکہ کاوش کی بنیاد پر لکھی گئی کتاب ’’حوصلے جیت جاتے ہیں‘‘ یا’’انسانی جذبات‘‘ میں دونوں مصنفین نے یہ ثابت کیا ہے کہ ’’معیشت محض عددی ماڈلز اور عقلی فیصلوںپر مبنی نہیں ہوتی بلکہ انسانی نفسیات اور جذبات (جیسے خوف،امید ،اعتماد اور بے یقینی) بھی اس پر گہرا اثر ڈالتے ہیں ‘‘۔
مصنفین اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ ’’عالمی معیشت میں اتار چڑھائو کو سمجھنے اور اس کے مسائل کو حل کرنے کے لئے انسانی رویوں اور نفسیاتی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ان کے نزدیک نفسیاتی عوامل ہی ہیں جو معیشت کی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔انہوں نے مذکورہ کتاب میں تجویز کیا ہے کہ ’’پالیسی سازوں کو صرف تکنیکی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیئے بلکہ انسانی نفسیات اور جذبات کو سمجھ کر پالیسی بنانی چاہیئے‘‘۔
خصوصاً جارج ایکرلوف کی بین الاقوامی سطح پر شناخت ہی یہ ہے کہ وہ معیشت میں انسانی نفسیات اور معلوماتی عدم توازن کو سمجھنے کے لئے ایک اہم شخصیت تصور کئے جاتے ہیں ۔ان کا اصل کام معیشت اورسماجی علوم کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرنا ہے ۔اس لئے اب یہ امر جان لینا چاہیئے کہ موجودہ دور میں فقط معیشت پر سب کچھ موقوف کر لینا کوئی اہمیت نہیں رکھتا ، ہاں البتہ اقتصادیات زندگی کا ایک اہم شعبہ ضرور ہے جسے باقی علوم سے الگ نہیں کیا جاسکتا، اس کی اہمیت ہر اعتبار سے مسلمہ ہے اور مسلمہ رہے گی۔مگر بنی نوع انسان کی پوری زندگی کا انحصار اسی پر ہے کا تصور اب الگ تھلگ رکھ کر اس پر اعتماد و اعتبار نہیں کیا جاسکتا ،اس میں ایک بڑی اور اہم حیثیت مذہب کی ہے جسے زندگی سے نکال دیا جائے تو دنیا کا باقی ماندہ امن بھی تباہ و برباد ہوکر رہ جائے گا۔کسی بھی تہذیب کو کلی انتشار سے بچانے کے لئے مذہب کا ہونا از حد ضروری ہے۔