Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

حجتہ الاسلام امام غزالی ؒ

حجتہ الاسلام ابو حامد محمد بن محمد الغزالیؒ 1058ء میں ایران کے شہر طوس میں پیدا ہوئے۔ان کا شمار اسلامی تاریخ کے عظیم فلاسفہ،فقیہہ اور مفکرین میں ہوتا ہے ۔آپ اپنے وقت کے معروف عالم اور ایک باعمل صوفی تھے ۔جن کی خدمات ناصرف اسلامی فلسفے اور فقہ میں بے مثال تھیں بلکہ روحانیت اور اخلاقیات کے میدان میں بھی عظیم خدمات سر انجام دیں۔حضرت امام غزالیؒ نے اپنے آبائی شہر طوس سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیشاپور کی مشہور درسگاہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں انہیں امام الحرمین ابوالمعانی عبدالملک بن عبداللہ الجوینی کے حضور زانوئے تلمذ طے کرنے کاموقع ملا جو نیشاپور کے معروف معلم مدرس اور فقیہ تھے۔آپ نے فلسفہ، منطق اور علم الکلام کے علاوہ دیگر کئی علوم میں مہارت حاصل کی اور اپنے دور میں صاحب کمال اور ممتازعالم کہلائے۔ اسی لئے آپ کو ’’حجتہ الاسلام ‘‘ کے لقب سے نوازا گیا۔
امام غزالیؒ نے بغدادکے مدرسہ نظامیہ میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا تو وہاں کے علماء اور طلباء میں یکساں مقبولیت حاصل کی۔امام غزالیؒ کی علمی شہرت کا زمانہ وہ تھا جب اسلامی فکر پر یونانی فلسفے کے اثرات زیادہ تھے، ایسے میں امام نے اسلامی علوم اور فلسفے کا تقابلی مطالعہ تو اپنے دور کے متعدد فلاسفہ کی آراء کو اسلامی اصولوں سے متصادم پایا اور پھر انہوں نے اس امر کو دلائل سے ثابت کرنے کے لئے ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ نام کی کتاب لکھی۔ اپنے دور کے فکری بحران کی زد میں آکر اپنے آپ کو شدید روحانی بحران میں گرفتار پایا تو مادی ضروریات تک سے بے زار ٹھہرے اوراپنے دنیاوی عہدوں سے دست بردار ہوکر روحانی سکون کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور اپنے آپ کوصوفیانہ طرز عمل سے جوڑتے ہوئے روحانیت کی جانب موڑلیا۔
امام غزالیؒ نے عمرعزیز کے دس برس مختلف خانقاہوں مساجد اور خلوت میں گزارے اور یہ سارا عرصہ وہ روحانی تجربات سے گزرے، تصوف کے اسرارورموز کے ادراک وعبادات میں مصروف رہے ۔ یہ وہ عرصہ تھا جس نے انہیں زندگی کے ایک اور رخ کی طرف موڑ دیا اور انہوں نے تصوف کی اسلامی حیثیت پر غورو خوض کیا، اس کے شرعی آہنگ کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے قلم اور قرطاس سے رشتہ جوڑ لیا۔ ’’احیا علوم الدین‘‘ جیسی کتاب تصنیف کی جو آج بھی اسلام کی اخلاقی روح ، شریعت و طریقت کے بنیادی اصولوں اور عبادات کرنے کے انداز و مقاصد کو جاننے کے لئے ایک اہم مثالی کتاب تصور کی جاتی ہے۔ان کی تصنیف ’’تہافت الفلاسفہ‘‘ فلسفیوں کے افکار و نظریات، ان کی گمراہیوں اور ان کے عقائدکے امور کو سمجھنے کی طرف مائل کرتی ہے جو اسلام کے اصل عقائد کے خلاف تصور کئے جاتے تھے ۔خصوصاً ابن سینا اور فارابی جیسے مسلم فلاسفہ کے عقائد ۔
واضح رہے کہ یونانی فلاسفہ کے تنقیدی نظریات کی بنیاد تین باتوں پرتھی -1کائنات کا خالق اللہ نہیں بلکہ یہ ہمیشہ سے موجود ہے۔جبکہ اسلامی عقیدے کے مطابق اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے -2 اللہ کو فقط کلیات یعنی عمومی باتوں کا علم ہے۔جزیات یعنی تفصیلی باتوں کا علم نہیں ہے۔ -3روز محشر جسمانی طور پر دوبارہ زندہ ہونے کا تصور باطل ہے۔امام غزالیؒ نے کہا کہ ’’ فلسفہ دینی عقائد کی توضیح کے معاملات میں محدود ہے اور یہ کہ عقل کی انتہا سے آگے بڑھنا مناسب نہیں ۔فلاسفہ کے عقائد میں منطقی استدلال نہیں بلکہ ان کے نظریات میں تضاد ہے ۔ مزید یہ کہ ’’دینی مسائل کو فلسفیانہ مباحث کا موضوع نہیں بنانا چاہیئے۔کیونکہ شریعت ایمان اور وحی پر مبنی ہے ناں کہ فقط انسانی عقل پر۔‘‘

یہ بھی پڑھیں