غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع کشتواڑ میں مودی کی بھارتی حکومت نے کالے قوانین کے تحت کشمیریوں کی سیاسی آواز کو دبانے کیلئے ان کی املاک پر قبضے کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے متعددکشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کر لی ہے ۔
بھارتی پولیس حکام نے ایک کریک ڈائون آپریشن کے دوران کشتواڑ میں 13آزادی پسند کشمیریوںکو گرفتار اور ان کی جائیدادوں کو ضبط کر لیا ہے۔یہ تازہ ترین اقدام اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیریوں کی املاک پر قبضے کی مودی حکومت کی جاری مہم کا حصہ ہے ۔ ناقدین کے مطابق مختلف حیلے بہانوں سے کشمیریوں کی املاک اور جائیدادوں پر قبضے کا مقصد مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرناہے۔ایک منظم طریقے سے کشمیریوں کو ان کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل اورغیر کشمیری ہندوئوں کو مقبوضہ علاقے میں آباد کیاجارہاہے ۔اس سے قبل کشتواڑمیں ہی 36 حریت پسندوں کشمیری نوجوانوں کو بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی ایک عدالت نے مفرور قرار دیا تھا۔ ان میں سے متعدد کی جائیدادیںضبط کر لی گئی ہیں۔بھارتی پولیس نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ضلع ادھم پور کے علاقے پونارا سونی میں کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک کشمیری نوجوان کو گرفتار کر لیاہے۔
دوسری طرف بھارت میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے راجستھان میں عالمی شہرت یافتہ درگاہ اجمیر شریف سے متعلق ہندو انتہاپسندوں کے متنازعہ دعوے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔
اسد الدین اویسی نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں درگاہ اجمیر شریف گزشتہ 800 سال سے موجود ہے۔ اس وقت مغلوں کی حکومت تھی۔ شہنشاہ اکبر نے وہاں بہت سی چیزیں تعمیر کی تھیں ۔ اسکے بعد پھر مرہٹوں کی حکومت آئی،درگاہ اجمیر شریف کو انگریزوں کو 18ہزارروپے میں بیچ دیا گیاتھا۔ جب ملکہ الزبتھ نے 1911ء میں دورہ کیا تو انہوں نے وہاں ایک واٹر ہائوس تعمیر کرایاتھا۔ نہرو کے بعد سے بھارتی وزرائے اعظم درگاہ پر چادر بھیجتے رہے ہیں۔ پی ایم مودی بھی وہاں چادر بھیجتے ہیں۔اسد الدین اویسی نے سوال کیاکہ بی جے پی اورآر ایس ایس ملک میںمساجد اور درگاہوں کے حوالے سے نفرت کیوں پھیلارہی ہے؟انہوں نے بھارت میں عدالتوں کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت ملک میں بھائی چارے کی فضا اور قانون کی حکمرانی کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہندو کہیں گے کہ مسجد یا درگاہ کی جگہ کچھ اور تھا۔تو اگلی بار کوئی مسلمان بھی کہہ سکتا ہے کہ مندر کی جگہ پر پہلے مسجد موجود تھی ۔اسدالدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی اورآر ایس ایس کی ہدایت پرمساجد اور درگاہوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک میں نفرت کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچارہی ہیں ۔ انہوں نے اترپردیش کے ضلع سنبھل میں تشددکے حالیہ واقعہ کا بھی حوالہ دیا جہاں پولیس کے تشدد سے چار لوگوں شہید ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ ہندوتوا تنظیم ہندو سینا نے مقامی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں دعوی کیاگیاہے کہ درگاہ اجمیر شریف ایک مندر پر قائم کی گئی ہے ۔ عدالت نے ہندوتوا تنظیم کی اس درخواست کو سماعت کیلئے منظور کر لیا ہے ۔
ادھر غیر قانونی طورپربھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہاہے کہ تنازعہ کشمیر کوطاقت کے وحشیانہ استعمال کی بجائے صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتا ہے۔
میر واعظ نے سرینگر میںایک بیان میں کہا کہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کے مذاکرات کے ذریعے پر امن حل کیلئے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں کشمیر اسمبلی کے انتخابات کے بعد نئی حکومت قائم ہو چکی ہے، لیکن مودی حکومت نے مقامی انتظامیہ کے اختیارات کو محدودکردیا ہے ۔میر واعظ نے مودی حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنی ہٹ دھرمی پر مبنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لے۔انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ دہائیوں بعد بھی مقبوضہ علاقے میں بے یقینی کی صورتحال اور خونریزی جاری ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام تنازعہ کشمیر کاپر امن حل اور جاری ظلم و تشدد سے نجات چاہتے ہیں ۔میر واعظ عمر فاروق نے بھارت اور پاکستان دونوں پر زور دیا کہ وہ اعتماد سازی اور قیام امن کی غرض سے سازگار ماحول پیدا کرنے کیلئے تجارتی راستوں کو دوبارہ کھولیں اور رابطوں کو بہتر بنائیں ۔انہوں نے کہاکہ اعتماد سازی کے اقدامات سے بہت سے کشمیری خاندانوں کو سہولت فراہم ہوئی تھی اس عمل کو بحال کیاجاناچاہیے ۔ میرواعظ نے واضح کیاکہ کشمیری قیادت بات چیت کیلئے تیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت بھی تنازعہ کشمیر کا مذاکرات کے ذریعے پر امن حل چاہتی ہے ۔سینئر حریت رہنما نے وقف ترامیم بل کی اہمیت کو اجگر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان ترامیم سے وقف املاک کی خود مختاری اور بنیادی مقصد کو نقصان پہنچ سکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ صورتحال کی سنگینی اور مسلم کمیونٹی پر اس کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر ہم فوری طور پرحکومت سے ان خدشات کو دور کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہونے کی وجہ سے کشمیریوں کے خدشات دور کئے جانے چاہئیں۔