Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

پاکستان ،الفا فیملی اور غریب عوام

’’الفافیملی‘‘ سے عام طور پر یہ مراد لی جاتی ہے کہ ایک ایسا خاندان یا طبقہ جو اپنے اثر ورسوخ کے،بل بوتے اوراپنی سماجی قوت کی بنیاد پر اپنےآپ کو قیادت کا مستحق ،گردانتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ اصطلاح عام طورہرمعاشرے کے پیشہ ورانہ طور پر بااختیار لوگ بھی اپنے حق میں استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں ۔ الفافیملی اپنے حلقے یا سماج میں خود کو افضل تصور کرتی ہے اور اپنے سماجی رتبے کےحوالےسےاپنے فیصلے دوسروں پر تھونپنے کا عزم بھی رکھتی ہے ۔واضح رہے کہ یہ اصطلاح بنیادی طور پر حیوانات کے مطالعے سے اخذ کی گئی ہے ،جہاں’’ الفا‘‘جانور اپنے گروہ میں مضبوط ترین ہونے کا زعم رکھتا ہے، ویسے ہی جیسے ایک متول آدمی اپنی کمیونٹی میں خود کو اپنا حکم منوانے کا مجاز سمجھتا ہے۔
آج کی صورتحال میں ہم اس اصطلاح کا جائزہ لینا چاہیں تو انتخابی سیاست میں سبقت حاصل کرنےوالے گروہ کو ’’الفافیملی‘‘ کانام دےسکتے ہیں اوریہ وہ گروہ ہے جو جائز و ناجائز ہتھکنڈوں سےکمائے ہوئے مال و دولت کے ذریعے فقط ریاست پر ہی نہیں بلکہ ریاست کے تمام تر وسائل پر بھی قابض ہونے کی تگ و تاز میں مبتلا رہتاہے حالانکہ انسانی سماج اس طرح کے ماحول میں بہتر طریقے سے پنپ نہیں سکتا کہ یہ قیادت سیادت کا فطری راستہ نہیں ہے۔ہم بہت دور نہیں جاتے وطن عزیز کی سیاسی حرکیات کو سمجھنے کے لئے ضیاء دو، ہی سے اپنے یہاں کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات اور بین الاقوامی امور کے مختلف پہلوئوں پر ہی بات کرتے جنہوں نے ملک کی سیاسی ،معاشی اور معاشرتی صورت حال پر گہرے اثرات،مرتب کئے اور ملک ابتر سے ابتر ہوتا چلا گیا ۔
آمر ضیاء نے پاکستان قومی اتحاد اوربھٹو حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو سبوتاژ کیا اور اچھی بھلی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملکی حالات کودگرگوں کردیا، اپنے گیارہ سالہ دورحکومت میں اس نےکسی لحاظ سےبھی ملک کےمفادات کواہمیت نہ دی افغان امریکہ جنگ میں امریکی توسیع پسندی خواب کےراستےمیں ملک کے ہزاروں نوجوانوں کوجنگ کاایندھن بنادیا۔ لاکھوں افغان باشندوں نےاپنےپورےپورےخاندانوں سمیت پاکستان کواپنی پناہ گاہ بنایااوردیگرمعاملات کےساتھ ساتھ سماجی سطح پرملک کو بہت نقصان پہنچایانوجوانوں ایک ایک بڑی تعدادہیروئین اورکلاشنکوف کلچرکی بھینٹ چڑھ گئی۔
معاشرتی حالات کی اس دورسےبدترین صورتحال کبھی نہیں رہی کہ الفافیملیز کے بھیانک تصورنے ہیروئین سےکمائےہوئے مال وزرسےمختلف طبقات پرنامانوس سیاسی قوتوں نےملک پرتسلط جمالیا۔انہی میں ایک شریف خاندان تھاجس نےلوٹ مارکی ایک عجیب روایت کی بنیادرکھی کہ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرسےگٹھ جوڑکےذریعےپہلےپہل ملک کے سب سے بڑےصوبے اوربعد ازاں وفاق پربھی قبضہ کرلیااورایک ایسےکلچرکی بنیادرکھی جس میں بااختیار افراد تک عام آدمی کااستحصال کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔
ایک اور آمر پرویز مشرف نے 1999ء میں شریف فیملی کےاقتدار کا تختہ الٹ دیا،مگر سازشی ذہن رکھنے والے طبقے نے ایک معاہدے کے ذریعے نواز شریف کو پرویز مشرف سے واگزار کرا لیا۔یوں ایک ’’الفا فیملی‘‘سے نجات دلا کر پرویز مشرف نے پاکستان کو ایک اور الفا فیملی کے پنجہ استبداد میں دے دیا۔ چوہدریوں اور کچھ دوسرے خاندانوں اور افراد نے مل کر داخلی سیاست کو کئی اور مسائل کے گرداب میں پھنسا دیا ۔خارجہ پالیسیز میں امریکی اثر و رسوخ کو اور بڑھا دیا۔ جہاں دہشت گردی کے خلاف محاذ کھول کر حالات کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلا وہیں بھارت کے ساتھ تعلقات میں بھی الجھائو بڑھا دیئے۔تاہم ماہرین معاشیات مشرف دور کی اقتصادی پالیسیوں کو ’’شارٹ ٹرم ہوم‘‘ کا نام دیتے ہیں ،جس میں طویل مدتی بنیادوں پر اصلاحات کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ۔
مشرف دور میں طبقاتی کشمکش میں اضافہ ہوااور عام آدمی کی مشکلات بڑھ گئیں۔سیاسی استحکام ناپید رہا اور عدلیہ کے نظام کو بھی کمزور کرنے کی کوششیں عروج پر رہیں ۔ایک اور ’’الفا فیملی‘‘آصف علی زرداری کی ہے جو یوں تو ایک جمہوری پارٹی کا نیا جنم ہے مگر زرداری رحیم نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اس کے ایک خاص کلچر سے جدا کردیا ۔2008ء میں آصف علی زرداری صدر پاکستان بنے۔ یوسف رضا گیلانی وزیراعظم ۔یہ الفاگروہ 2013ء تک غریب عوام سے لئے مینڈیٹ سے حکمرانی کے مزے اڑاتا رہا اور اس کے بعد پھر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘کے نام پر شریف فیملی نے ووٹر کی عزت و آبرو کو پھر سے پامال کیا ۔2018ء میں پی ٹی آئی الفا فیملی اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھی ۔دو’’الفا فیملیوں‘‘ میں ایسا رن پڑا کہ آخر ایک رات کے اندھیرے میں ایک’’ الفا فیملی‘‘کو تحلیل کر دیا گیا اور دوسری’’الفا فیملی‘‘غربت کے خاتمے کے عزم کے پیش نظر غریبوں کوگاجر مولی کی طرح کاٹنے پر لگی ہے ۔دیکھیں اب کیا ہوتا ہے غریب کا یا غربت کا خاتمہ ؟

یہ بھی پڑھیں