Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

یورپ میں چین کی بڑھتی موجودگی

(گزشتہ سے پیوستہ)
یورپی یونین کے حکام بھی اس بات کومحسوس کررہے ہیں کہ چین اب روس کے ساتھ مل کر یورپ کومتاثرکرنے والے ماحول میں کام کررہا ہے۔ فروری 2018ء میں جرمنی کے دوتھنک ٹینکس نے بھی اپنی رپورٹس میں بتایاکہ چین اب یورپ کے معاملات پرغیر معمولی حد تک اثرانداز ہونے کی بھرپورکوشش کررہا ہے۔ یہ سب کچھ اس قدرواضح ہے کہ یورپی یونین کے پالیسی سازاسے کسی طورنظراندازنہیں کرسکتے۔
جرمن چانسلرنے بلقان کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیاہے۔میونخ سیکورٹی کانفرنس2018ء میں جرمن وزیرخارجہ سگمار گیبریل نے چینی صدرشی جن پنگ کے پیش کردہ بیلٹ اینڈ روڈمنصوبے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین ایک ایسانظام تیارکررہاہے جو ہمارے نظامِ جمہوریت،انسانی حقوق اورآزادی کے اصولوں کی بنیادپراستوارنہیں۔ بہرکیف،چین نے اپنی بھرپورمعاشی قوت کوبروئے کارلاکر یورپ میں اختلاف رائے پیدا کردیاہے۔اب بہت سے معاملات پر تمام یورپی طاقتیں ہم آہنگ ہوکربات نہیں کررہی،مثلاًمارچ 2017ء میں ہنگری نے ایک ایسے مشترکہ خط پردستخط سے انکارکیاجو زیرحراست وکلاپرتشددکے حوالے سے تھا۔ جون 2017ء میں یونان نے اقوام متحدہ میں ایک ایسے بیان کی راہ مسدود کر دی،جس میں چین کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کی مذمت کی گئی تھی۔جولائی 2016ء میں یورپی یونین کے ایک ایسے بیان کو ہنگری، یونان اور کروشیانے ویٹوکیا،جس میں بحیرہ جنوبی چین میں چین کے ملکیتی دعوؤں پرتنقید کی گئی تھی۔ان تمام مثالوں سے یورپی یونین کی پالیسیوں پراثر انداز ہونے سے متعلق چین کی صلاحیت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
کئی شعبے ایسے ہیں جن میں یورپ اب بھی واضح طورپربرتری کاحامل ہے۔نئی ہائی ٹیکنالوجی کے حوالے سے یورپ اپنی برتری برقراررکھنے پرپوری تندہی سے کام کررہاہے اور یورپ سمجھتاہے کہ ایسا کرنا ترقی اور سلامتی کے حوالے سے مستقبل کومحفوظ بنانے کی خاطر لازم ہے۔ٹیکنالوجی کی منتقلی کے حوالے سے یورپ بہت زیادہ محتاط ہے۔ 5۔جی ٹیکنالوجی کے حوالے سے یورپ نے واضح حکمتِ عملی تیارکررکھی تھی اوراس پرمکمل طورپر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے تھے لیکن شنیدہے کہ چین اس کامتبادل تیارکرنے میں نہ صرف کامیاب ہو چکاہے بلکہ اس کی صلاحیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
یورپی یونین پرگہری نگاہ رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ہوسکتاہے کہ یورپی یونین کے حکام کواپنے آپشن بہت زیادہ پرکشش محسوس نہ ہوتے ہوں مگروقت آگیاہے کہ وہ محض تماشائی بنے رہنے کی روش ترک کریں اورمیدانِ عمل میں نکلیں۔ یورپ کواب طے کرناپڑے گاکہ مابعدِ جدیدیت کے دورمیں سلامتی اورترقی دونوں حوالوں سے مل جل کر کام کرنے کا طریقہ درست تھا یایہ طریقہ ترک کرناپڑے گااوریہ بھی دیکھنا پڑے گاکہ یورپی طاقتوں کامل جل کرچلنانئے عالمی نظام کوکسی حدتک بہتربناسکے گایانہیں۔تاہم چین نے یہ طے کررکھا ہے کہ مستقبل میں دنیامیں سپرپاور کہلانے کے لئے جنگ اورجارحیت کی بجائے صلح جوئی سے تجارتی منڈیوں کواپنے حق میں استعمال کرناانتہائی ضروری ہے،اس کے لئے چینی صدر نے 2014ء میں یورپی یونین کے صدردفتر کا دور کرکے چین اور یورپی یونین کے مابین چاراہم شراکت داریاں قائم کرنے کی ٹھوس تجاویز پیش کرتے ہوئے اپنے مستقبل وژن کاتعارف کروایا جس پروہ آج بھی سختی سے قائم ہے۔ گزرتے وقت نے چینی صدرکی پیش کردہ تجاویزکو درست ثابت کردیا اور موجودہ حالات میں اس کی عملی اہمیت اور بھی اہم ہوگئی ہے۔
افغانستان سے انخلا کے فوری بعدچین نے اپنی تجاری دانشمندی سے اس خلاکوبڑی تیزی کے ساتھ پر کیا ہے اوراب اس خطے میں پاکستان،ایران، افغانستان کے ساتھ تمام ملحقہ ریاستوں میں اپنی تجارتی راہداری قائم کرکے ان ملکوں کی منڈیوں میں اپنا مضبوط مقام بنالیاہے جبکہ امریکانے ایک بارپھریوکرین کے ذریعے روس کو نیچا دکھانے کے لئے اپنے کچھ یورپی اتحادیوں کی مددسے ایک نئی جنگ کاآغازکردیاہے لیکن جن مقاصد کے حصول کے لئے امریکاپرامیدتھا،وہ فی الحال خاک میں ملتے دکھائی دے رہے ہیں اورخودبین الاقوامی مالیاتی ادارے روس کی معیشت کوپہلے سے بہتر قرار دیتے ہوئے زمینی حقائق سے متفکرنظرآرہے ہیں جبکہ یوکرین کی جنگ کے آغازمیں سارے یورپ کوروس کی طرف سے گیس کی بندش کی سپلائی کا خدشہ لاحق ہو گیاتھااور یہی وجہ ہے کہ یورپ کھل کر امریکاکاساتھ دینے سے گریزاں نظر آتا ہے۔
ادھردوسری طرف آج دنیامیں غیریقینی اورعدم استحکام بڑھتاجارہاہے جس کی وجہ سے چین اور یورپی یونین کے درمیان قریبی رابطے اوراس کے نتیجے میں باہمی تجارتی فوائداور مستقبل کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے زیادہ توجہ دی جارہی ہے اورچینی صدرکی دس سال قبل دی گئی تجاویز اور چینی وژن نے ثابت کردیاہے کہ باہمی اتفاق اور تعاون اورملکی ترقی کے لئے اپنے ممالک کے عوام کے لئے خوشحالی کے نئے باب کھولے جاسکتے ہیں جس کے لئے غیرضروری خدشات سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب چین یورپی یونین کے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے،اوراس کے برعکس عالمی تجارتی مندی کے منفی اثرات کے باوجودچین اوریورپی یونین کے مابین مجموعی تجارتی حجم 2023ء میں 783 بلین ڈالرتک جاپہنچاہے جس میں دوطرفہ سرمایہ کاری کا اسٹاک 250 بلین ڈالرسے تجاوزکر چکا ہے۔یورپی یونین کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ ہے، چین سے درآمدات برآمدات سے بہت زیادہ ہیں۔ 2023 ء میں، یورپی یونین نے چین سے 515.9 بلین یورو درآمد کیے، جبکہ 223.6 بلین یورو برآمد کیے۔
چین نے ثابت کیاہے کہ وہ کاروباری تعاون، سائنس اورٹیکنالوجی میں تعاون اورسپلائی میں یورپ کاقابل اعتماد،کلیدی،ترجیحی اورصنعتی شراکت دار بننے کے لئے تیارہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں