یووال نوح حریری اکیسویں صدی کا معروف فلسفی ، مصنف اور مورخ ہے ۔جس نے اپنے تجربات کی روشنی میں تاریخ اور فلسفے کو نئی جہتوں سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔اس سلسلے میں اس نے متعدد کتابیں ترتیب دی ہیں جن کو دنیا بھر میں حد سے زیادہ پذیرائی ملی ہے اور اس کی کتب کا دنیا بھر کی کئی زبانوںمیں ترجمہ ہوچکا ہے ۔اس کی ایک کتاب “Homo Deus ABrief History of Tomorrow ” پہلی بار 2015 ء میں شائع ہوئی ،جو اس کی سب سے پہلی کتاب “Sapiens” ہی کا تسلسل ہے ۔یووال کا موضوع ہمیشہ سے انسانی تاریخ و تہذیب، ٹیکنالوجی اور موجودہ انسان کامستقبل رہا ہے۔اس کے تمام تر افکارو نظریات انسان کی تاریخی حیثیت و ارتقاء کے گرد گھومتے ہیں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ ’’مذہب اور فلسفے نے انسانی تہذیب کوکس طرح متشکل کیا‘‘۔
اس کی کتاب Homo Deus اسی فلسفیانہ موضوع کا محور و مرکز ہے کہ مستقبل کا انسان کیسا ہوگا ؟ سائنسی ترقی انسانی امنگوں اور اس کی ترجیحات کو کس سمت لئے جارہی ہے اور مستقبل میں انسان کو کن چیلنجز سے نبردآزما ہونا ہوگا۔اس کا کہنا ہے کہ ’’انسان آنے والے زمانے میں اپنے آج کے تلخ مسائل مثلاً بھوک ، بیماریوں اور جنگوں پر تو قابوپالے گا ،پھر وہ اپنی نئی ترجیحات کے پیچھے دوڑنا شروع کردے گا، وہ کیا ہوں گی؟ اس کے خیال میں وہ Homo Deus یعنی ’’خدائی انسان‘‘بننے کی سعی کریگا،جو کبھی نہ مٹنے والا گویا کہ لافانی ہو ،طاقت کا منبع ہو اور ہمیشہ خوش حال رہنے والا ہو۔مذکورہ کتاب میں بنیادی طور پر تین سوال اٹھائے گئے ہیں۔
1۔انسانیت کی ماضی کی بڑی کامیابیاں کون سی ہیں۔؟2۔انسانیت کو حال میں کن چیلنجز کا سامنا ہے؟ 3۔انسانیت کے مستقبل کے مقاصد اور ترجیحات کیا ہوں گی ؟یووال کہتا ہے کہ 1۔انسان نے ہزاروں برس کے دوران فطرت اور دیگر مخلوقات پر قابو پانے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔زراعت ،سائنس اور صنعتی انقلاب کے ذریعے بھوک ،افلاس،وبائی امراض اور جنگوں جیسے مسائل پر قابو پایا ہے ۔2۔موجودہ دور میں انسانیت کابڑا مقصد خوشحالی کا حصول ،صحت اور طویل عمر پانا ہے ۔مصنوعی ذہانت(Ai) کے ذریعے غیر معمولی کام کرنے پر آمادہ ہے ۔مگر اس ترقی نے متعددخطرات کو بھی جنم دیا ۔مثلاً پرائیویسی کا خاتمہ۔ڈیجیٹل ڈکٹیٹر شپ۔انسان اورAiکے مابین طاقت کا توازن۔ 3۔اگر انسانیت ممکنہ طور پر موت کو شکست دینے،مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسان کو اپ گریڈ کرنے اور نئی مذہبی یا نظریاتی ساخت پیدا کرنے کی کوشش کرے گی ۔لیکن یہ تمام کوششیں نئی اخلاقی اور وجودی مشکلات پیدا،کرسکتی ہیں۔ پھر یہ ہوگا کہ انسانیت کی تعریف بدل جائے گی۔ انسانوں پر مشینوں کا کنٹرول بڑھ جائے گا۔عدم مساوات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ Homo Deus مصنف کی ایک ایسی کتاب ہے جو انسان کو یہ سوچنے پر اکساتی ہے کہ انسانی خواہشات ترقی کے جو راستے بنانے میں اس امکان کے قریب تر پہنچ چکی ہیں وہ خود کو طاقت کا سرچشمہ تصور کرنے پر آمادہ لگنے لگا ہے مگر ایک اورحوالے سے اس پر اپنی شناخت اور وجود سے متعلق کئی سوالات اٹھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور سوچنے سمجھنے والے بہت سے طبقات ان سوالات کو شدت سے حرز جاں بنائے ہوئے ہیں ۔
دنیا کے کئی خطوں میں امن و امان کے حوالے سے جو سوالات پیدا ہو رہے ہیں تاریخی ارتقا ء کے اس فلسفے میں ان کامقام کیا ہے ؟ ان کی نوعیت کیا ہے ؟ ان تنازعات کا حل فقط اورفقط طاقت سے مشروط ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ طاقت کبھی روس اور چین کے پاس ہوتی ہے اور کبھی امریکہ کے پاس جو عرب دنیا سے تمام تر وسائیلی مفادات کے حصول کے باوجود مضبوط و مستحکم اسرائیل ہی کو بنتاہوا دیکھنا چاہتا ہے ،اسی کو عرب علاقوں کی تقدیر کا واحد مالک ٹھہرانے پر تلا ہوا ہے ۔کوئی تاریخ دان ،کوئی فلسفی اور کوئی نظریہ ساز اس ایک سوال کا حل بھی تو نکالے اور اسے ممکن بنائے کہ امن و امان فقط اہل مغرب ہی کا حق نہیں ،فلسطین اور کشمیر کے مظلوموں کا بھی حق ہے ۔جب تک حق حقداروں تک نہیں پہنچ پاتا فلسفیانہ اور نظریاتی سوالات عملی سوالات کے گردگھومتے رہیں گے اور بے معنی ولایعنی رہیں گے۔تب تک ارتقاء کی کہانی ایک تجریدی افسانہ ہی بنی رہے گی جسے یووال نوح حراری پانی سے پانی پر لکھتا رہے گا ۔